94

سیاسی تناؤ اور آئی ایم ایف سے رجوع

وطن عزیز میں گزشتہ دور حکومت سے حزب اقتدار اور اپوزیشن کے درمیان جاری تناؤ نشستیں تبدیل ہونے کے بعد ایک بارپھر شدت اختیار کرتا نظر آرہا ہے‘ مسلم لیگ ن کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں شہبازشریف کی گرفتاری پر ملک گیر احتجاج کی بازگشت سنائی دی گئی ہے‘ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ کنٹینر والوں کو خمیازہ بھگتنا ہوگا اور یہ کہ اب ہم خاموش نہیں رہیں گے‘ ن لیگ کے اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں سے رابطوں کیلئے کمیٹیاں تشکیل دیدی گئی ہیں‘ اجلاس میں میاں شہباز شریف کی گرفتاری کو سیاسی انتقام قرار دیاگیا ہے‘ دوسری جانب ایوان بالا کے اجلاس میں اس معاملے پر ہنگامہ ہوا ہے‘ حزب اختلاف نے کہا ہے کہ اگر شہباز شریف کو رہا نہ کیاگیا تو ایوان کو چلنے نہیں دیاجائیگا‘ وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ اپوزیشن چاہے جتنا روئے‘ احتساب نہیں رُکے گا‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ حکومت کا شہباز شریف کی گرفتاری سے کوئی تعلق نہیں‘ اس سب کیساتھ نیب نے شہباز شریف کے صاحبزادے سلمان شہباز کو بھی آمدن سے زائد اثاثہ کیس میں آج طلب کرلیا ہے‘۔

سیاسی تناؤ‘ اہم انکوائریوں‘ گرفتاریوں اور ہائی پروفائل مقدمات کی سماعت کے سارے منظرنامے میں ملکی معیشت اس مقام پر پہنچ گئی ہے کہ حکومت نے ایک بارپھر آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کا اعلان کردیا ہے‘ میڈیا رپورٹس کے مطابق تین سالہ پروگرام کے تحت 10ارب ڈالر کا قرضہ لیا جائیگا‘ ملک میں سٹاک مارکیٹ مندی کا شکار ہو گئی ہے‘ ڈالر کی قدر ایک بارپھر اوپر جارہی ہے جبکہ گرانی کے ہاتھوں غریب اور متوسط شہریوں کی زندگی اجیرن ہوکر رہ گئی ہے‘ وزیراعظم عمران خان نے سرکاری محکموں کا 10سال کاآڈٹ کرانے کا کہا ہے‘ لوٹی ہوئی دولت واپس لینے کا عزم بھی کیاجارہا ہے‘ کرپشن کے خاتمے کو ترجیح بھی قرار دیاگیا ہے‘ تاہم اس سب کیساتھ عوام کے ریلیف کیلئے اقدامات کا بدستور انتظار ہی کیاجارہا ہے‘ حکومتی اقدامات پر لوگوں کو اعتماد ضرور ہے‘ وہ مجموعی منظرنامے کی بہتری کیلئے نیک خواہشات بھی رکھتے ہیں تاہم اپنی مشکلات کا ازالہ بھی مانگتے ہیں‘ حکومت کیلئے بیک جنبش قلم عوام کو ریلیف دینا ممکن نہیں تاہم اداروں کی کارکردگی بہتر بناتے ہوئے سروسز کی فراہمی اور مارکیٹ کنٹرول کے ذریعے سہولیات دینے پر کوئی بڑا اضافی بجٹ خرچ نہیں ہوتا‘ حکومت کو زیادہ توجہ اسی پر مرکوز کرنی چاہئے‘ اس سب کیلئے سیاسی استحکام بھی ناگزیر ہے۔

علاج کی سہولیات؟

وزیر صحت ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان کا کہنا ہے کہ انکے محکمے نے 100روزہ منصوبہ کیلئے حکمت عملی بنالی ہے‘ اس حکمت عملی کے تحت آئندہ 5سال میں عوام کو صحت سہولیات فراہم کرنے میںآسانی آسکے گی‘ قابل اطمینان ہے کہ وہ نئے منصوبوں کی بجائے جاری پراجیکٹس پرکام کو ترجیح دیتے ہیں‘ وزیر صحت کو محکمے میں نئی اصلاحات کیساتھ زیادہ توجہ پہلے سے اعلان کردہ سہولیات کو عملی شکل دینے پر مرکوز کرنی چاہئے‘ ان کی جماعت پانچ سال پہلے صوبے میں حکومت کرچکی ہے اور ہیلتھ سیکٹر حکومتی ترجیحات میں سرفہرست رہا ہے‘ اس میں بے شک بہت ساری اصلاحات ہوئیں تاہم ان کا عملی نتیجہ دیکھنے کو نہیں ملتا اور لوگ اس طرح سروسز نہ ملنے پرنجی شعبے سے رجوع پر مجبور ہیں‘ سرکاری ہسپتالوں میں وہ غریب مریض جو پرائیویٹ علاج نہیں کراسکتے‘ حکومت کی خصوصی توجہ کے اب بھی سب سے زیادہ مستحق ہیں۔