49

زراعت‘ایک ترجیح؟

باعث اطمینان پیشرفت ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے ’چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے‘ میں شامل شاہراہوں کو ’فارم ٹو مارکیٹ‘ وسیلوں سے منسلک کرنے اور شاہراہوں کی تعمیرکو وسعت دینے سے متعلق حکمت عملی کی منظوری دی ہے‘ جس سے زرعی شعبے کی ترقی‘ روزگار کے مواقع اور غیر ملکی سرمایہ کاری اِس جانب متوجہ ہو گی۔ سچ تو یہ ہے کہ پاکستان زرعی ملک ہے لیکن ماضی میں یہاں کی فیصلہ سازی پر مسلط طبقات نے یہاں غیرزرعی شعبوں کو زیادہ توجہ دی‘ جس کی وجہ سے زراعت منافع بخش تو کیا روزگار کا ذریعہ بھی نہیں رہا۔ چھوٹے کاشتکاروں کو اُن کی خون پسینے کا صلہ نہیں ملتا اور کسی فصل پر ہونے والی لاگت بھی کسانوں اور کاشتکاروں کو نہیں مل رہی!’سی پیک اور زراعت‘ کے درمیان تعلق قائم کرنے اور زرعی خود کفالت کے حصول سے متعلق اہداف کا تعین وزیراعظم کی سربراہی میں ہوئے اجلاس میں کیا گیا‘ جس پر عمل درآمد ہونے کی صورت نہ صرف ایک عرصے سے نظرانداز زرعی شعبے کی بہتری ممکن ہو گی بلکہ زراعت کے لئے استعمال ہونے والی اراضی سے دیگر مقاصد حاصل کرنے والوں کی بھی حوصلہ شکنی ہوگی۔ اس سے قبل ’سی پیک‘ کے تحت صرف شاہراہوں کی تعمیر کا منصوبہ تھا لیکن اب وزیراعظم نے فیصلہ کیا ہے کہ اسے زرعی شعبے کی ترقی‘ روزگار کے مواقعوں اور دیگر ممالک مثلاً سعودی عرب کے لئے سرمایہ کاری کو پرکشش بنانے کے لئے بھی استعمال کیا جائے گا۔ یہ مرحلہ خصوصی توجہ اور غور کا متقاضی ہے کہ جلدبازی اور جذبات کی بجائے پاکستان کے وسیع تر مفاد اور مستقبل کو مدنظر رکھا جائے‘حکومت صرف زراعت میں سرمایہ کاری کے ہدف ہی کو ہی نہ دیکھے بلکہ یہ بھی دیکھے کہ زراعت سے پاکستان کو کس قدر خودکفالت حاصل ہو گی۔ کیا ہمارے کاشتکاروں کو اُن کی محنت کا صلہ ملے گا اور کیا عوام کو سستے داموں زرعی اجناس مل پائیں گی کیونکہ جو ’دال ساگ اور روٹی‘ میسر تھی۔

اُس کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں!متوقع ہے کہ وزیراعظم (آئندہ ماہ) نومبر میں چین کا دورہ کریں گے‘ جس کی تیاریاں تو جاری ہیں لیکن ابھی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں ہوا۔ ’’سماجی اور زرعی شعبوں میں چین کی مہارت کام آسکتی ہے۔‘‘ سچ تو یہ ہے کہ صرف صنعتی و زرعی ہی نہیں بلکہ چین کی ترقی میں پاکستان کے لئے بہت سے راز پوشیدہ ہیں اور اِس پوری بحث کا نچوڑ یہ ہے کہ چین نے جو کچھ ترقی بھی حاصل کی ہے وہ اپنے طرزحکمرانی اور فیصلہ سازی کو بدعنوانی اور بدعنوانوں سے پاک کرنے کا ثمر ہے‘ پاکستان کے طرز حکمرانی میں بھی جب تک بدعنوانی سے نفرت عام نہیں ہوگی‘ اُس وقت تک ’سی پیک‘ تو کیا ’ڈی پیک‘ اور ہر ’پیک‘ خاطرخواہ کارگر ثابت نہیں ہوگا۔ چین اور پاکستان کے معروضی حالات میں بھی فرق ہے۔ ہم سب اتفاق کرتے ہیں کہ ’سی پیک‘ کے تحت ملک کے مختلف حصوں میں خصوصی اقتصادی زون قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مقامی صنعت کو بھی فروغ ملے اور نوجوانوں کو روزگار کے بے پناہ مواقع بھی میسر آئیں۔ یہ بات بھی راز نہیں کہ چین کے صدر زی جن پنگ کے ’’بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو‘‘ کے تحت سی پیک کے دروازے ہر کسی کے لئے کھلے ہیں اور اِس منصوبے میں کوئی بھی ملک سرمایہ کاری کر سکتا ہے لیکن سب کچھ چین کی مرضی اور منظوری سے مشروط ہوگا۔

چین ’سی پیک‘ کے حوالے سے لچکدار مؤقف اور برداشت نہیں رکھتا۔ گزشتہ برس ’نئی گائیڈ لائنز‘ کے تحت چین نے ’سی پیک منصوبوں‘ کی مالی فنڈنگ روک دی تھی‘ جس سے ’نیشنل ہائی وے اتھارٹی‘ کے 10 کھرب روپے مالیت کے زیر غور منصوبے متاثر ہوئے‘ اور اِس خدشے کا اظہار ہونے لگا کہ نہ صرف شاہراہیں بلکہ توانائی کے پیداواری اور دیگر منصوبے بھی التوا کا شکار ہوں گے اور ’سی پیک‘ کی تکمیل میں تاخیر ہوگی‘ ہر ملک کو اپنے مفادات عزیز ہوتے ہیں‘ چینی قیادت کی سوچ اُن کے اپنے ملک کے مفادات اور خطے میں اُس کی بالادستی کے لئے اہم ہو سکتی ہے لیکن اگر پاکستان اِس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے زرعی خودکفالت کی جانب پیشرفت کرتا ہے‘ تو اِس سے زیادہ دانشمندانہ اقدام کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا۔