488

بلدیاتی نظام کو مزید مضبوط اور دیرپا بنایا جارہا ہےٗ ٗ محمود خان

پشاور ۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے ضلع چترال اور بونیر سے مختلف سیاسی جماعتوں سے وابستہ رہنماؤں، بلدیاتی نمائندوں اور کارکنان کی تحریک انصاف میں شمولیت کا خیر مقدم کیا ہے۔ اُنہوں نے چترال اور بونیر کے عوام کی ترقی و خوشحالی کیلئے اقدامات کی یقین دہانی کراتے ہوئے واضح کیا کہ پورے صوبے کی ترقی و خوشحالی انہیں عزیز ہے۔ تمام اضلاع کو پورا حق دیا جائے گا ۔ 

ہمیں اس وقت ہمہ گیر چیلنجز درپیش ہیں تاہم ان سے نمٹنے کیلئے ہمہ گیر حکمت عملی بنائی گئی ہے ہم نے ایک ٹیم کے طور پر کام کرنا ہے اور کمزوریوں کو دور کر کے خوشحال خیبرپختونخوا اور پاکستان کی عمارت کھڑی کرنی ہے بلدیاتی نظام کو مزید موثر ، مضبوط اور دیرپا بنایا جارہا ہے ۔ خیبرپختونخوا اور پنجاب دونوں میں ایک ہی بلدیاتی نظام ہو گا۔ اضلاع میں تمام تر ترقیاتی کام بلدیاتی نظام کے ذریعے ہی ہوں گے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں شمولیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں سابق تحصیل ناظم چترال سرتاج احمد خان کی قیادت میں مختلف سیاسی جماعتوں کے مقامی رہنماؤں ، سابق و موجودہ بلدیاتی نمائندوں اور مختلف طبقات زندگی سے تعلق رکھنے والی درجنوں معروف شخصیات نے اپنے خاندانوں اور ساتھیوں سمیت تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا۔

ضلع بونیر سے ویلج ناظم محمد اقبال خان اور تحصیل کونسلر شیر مالک خان کی قیادت میں مقامی نمائندوں اور سیاسی عمائدین کے ایک کثیر رکنی وفد نے بھی تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا۔ سپیکر صوبائی اسمبلی مشتاق غنی، ممبران صوبائی اسمبلی وزیرزادہ ، سیدفخر جہاں، ریاض خان، ضلعی صدر پی ٹی آئی چترال عبد الطیف، سرتاج احمد خان اور دیگر رہنماؤں نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔ وزیراعلیٰ نے تحریک میں نئے شامل ہونے والوں کو خوش آمدید کہا اور یقین دلایا کہ ان کا فیصلہ درست ثابت ہو گا اور وہ تبدیلی کی نقیب جماعت سے منسلک ہو کر مطمئن اور خوش رہیں گے ۔ 

وزیراعلیٰ نے کہاکہ عوام بلدیاتی انتخابات میں سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں اور ایسے لوگوں کو نمائندگی کا حق دیں جو علاقے کی ترقی اور خوشحالی میں کام کرنے کا جذبہ اور صلاحیت رکھتے ہوں۔ مقامی حکومتوں کے نظام کو پہلے سے بھی مضبوط بنانا وزیراعظم عمران خان کا وژن ہے تاکہ لوگ اپنی ترقی خود پلان کر سکیں۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر چترال اور بونیر کے مسائل حل کرنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کا یقین دلایا اور کہاکہ یہ ان کا حق ہے جو انہیں ضرور ملے گا۔

محمود خان نے مزید کہاکہ سوات کے لوگ جس توجہ کے مستحق ہیں دیگر اضلاع بھی اسی توجہ کا حق رکھتے ہیں۔ وہ پورے صوبے کے وزیراعلیٰ ہیں سب کو ان کا جائز حق دیں گے ۔ اُنہوں نے کہاکہ ان کی حکومت چترال کے قدرتی وسائل اور وہاں سیاحت کی استعداد سے بخوبی آگاہ ہے اور اس کی ترقی کیلئے اقدامات کریں گے ۔ چکدرہ سے چترال تک موٹروے کو سی پیک کے متبادل روٹ کے طور پر تجویز کیا جا چکا ہے ۔

اس موٹروے سے خطے کی تقدیر بدل جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری سابق حکومت نے ضلع اپر چترال بنانے کا جو وعدہ کیا تھا وہ بھی پورا کرینگے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر چہ آج ہمیں ہر سطح پر مختلف نوعیت کے چیلنجز کا سامنا ہے مگر ہم نے مل کر ان چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہے گزشتہ حکمرانوں نے ملک کی بنیادیں کمزور کر دی تھیں ہم نے ان بنیادوں کو دیرپاء بناکر معیشت اور خوشحالی کی مضبوط عمارت کھڑی کرنی ہے وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ صوبے کی ترقی کیلئے پرعزم ہیں ہم اپنے وسائل بھی پیدا کر رہے ہیں اور مرکز سے بھی صوبے کے وسائل لینگے۔ 

وزیراعلیٰ نے اس موقع پر تحریک میں شامل ہونے والوں کو پارٹی کی ٹوپیاں بھی پہنائیں۔ شامل ہونے والے دیگر افراد میں چترال سے پیپلز پارٹی کے رہنما سلطان محمود، معراج خان ، محمد غازی ،سمندر خان، فضل خان، حاجی خان گل، مقصود علی شاہ، رحمن خان کونسلر، حاجی مبین الملک سابق ناظم دروش ، قاضی حسین احمد، محمد یونس، حید رعلی شاہ، سلطان شاہ، مجیب الرحمن، عبد الناصر ، شاہد علی خان ایڈوکیٹ، حاجی ایوب ، رحمت زادہ، صلاح الدین، قیوم، طوطی رحمان، نور حمید، حاجی زرگل و دیگر جبکہ ضلع بونیر سے خالد خان جنرل کونسلز ، سراج خان ڈسٹرکٹ کونسل، صاحب اﷲ، یوسف خان، منشی خان کسان کونسلر، پر دیپ کمار اقلیتی کونسلر ، بخت احمد اور دیگر شامل ہیں۔