179

ایک اورپی پی پی؟

شہباز شریف کو تو گرفتار ہونا ہی تھا‘ بس چار سوالات راہ میں حائل تھے کہ کب‘کس وجہ سے ‘کس بات کو بنیاد بنا کران کو گرفتار کیا جائے اور یہ کہ اس کے بعد پھر کیا ہوگا؟ اسٹیبلشمنٹ نے جو یہ ساری انجینئرنگ کرکے عمران خان کو وزیر اعظم بنایا‘ اور تین صوبوں میں پی ٹی آئی کی ہمدرد حکومتیں قائم کی ہیں تو یہ سب یونہی نہیں تھا۔یہ لوگ بھلا کیوں نون لیگ اور پی پی پی کو اکیلے اکیلے یا پھر مشترکہ طور پر اپنی کٹھ پتلی حکومتوں کے خلاف متحرک ہونے کا موقع دے سکتے تھے؟خاص طور پر اس صورتحال میں کہ جب ابھی ان کے گرینڈپراکسی پلان کو عملی جامہ بھی نہیں پہنایا گیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ان کے اس Puppet Proxy Plan (PPP)کو عملی جامہ پہنانے کا واحد طریقہ یہی تھا کہ اول تو نواز شریف اور مریم نواز کو گرفتار کر لیا جائے تاکہ وہ انتخابات میں حصہ نہ لے سکیں اور ان کے وفادار یکجا نہ ہو پائیں۔دوسرے‘ انتخابات میں بے مثال قسم کی دھاندلی کی جائے اور پی ٹی آئی کو آزاد امیدواروں سے بھر کر حکومتیں بنانے کے قابل بنایا جائے ‘ اور تیسرے یہ کہ کرپشن کیسوں کی تلوار زرداریوں اور شریفوں کے سر پر مستقل لٹکا دی جائے تاکہ وہ پنجاب اور اسلام آباد میں پی ٹی آئی کی کٹھ پتلی حکومتوں کو غیر مستحکم کرنے کی کوئی مشترکہ کوشش نہ کر پائیں‘جب پانامہ گیٹ میں میاں نواز شریف اور مریم نواز کو کسی اور طرح سے ملوث نہ کیا جا سکا تو پھر اقامہ اور کیلبری فونٹ کا سہارا ڈھونڈلیاگیا ‘شہباز شریف کے معاملے میں آشیانہ ہاؤسنگ سکیم ایک مفید بہانہ ثابت ہو سکتا تھا۔اسی لئے تو ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ اورسابق وزیراعظم کے سیکرٹری فواد حسن فواد کو مہینوں پہلے حراست میں لے کرسلطانی گواہوں کی افواہیں پھیلائی گئیں تاکہ شہباز شریف کی گرفتاری کے لئے ماحول بنایا جا ئے۔

ضمنی انتخابات اس گرفتاری کے لئے موزوں ترین وقت اس لئے بھی تھا کہ نون لیگ اور پی پی پی کے درمیان ایک قسم کے اتحاد کی خبریں گردش کر رہی تھیں۔ صوبائی اراکین مقننہ کی بجائے لوکل باڈیز کو زیادہ بااختیار بنانے کے اسٹیبلشمنٹ کے منصوبے کی بدولت پی ٹی آئی کے اپنے ایم پی ایز میں بھی کافی حدتک بے چینی نظر آ رہی تھی، خاص طور پر ان آزاد امیدواروں اور ’انتخاب جیتنے کے قابل‘ اراکین میں جو دوسری پارٹیاں چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شامل ہوئے تھے۔اسی لئے نون لیگ نے رانا مشہود کو اشارہ کیا کہ وہ برسرعام اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطوں کی بات کر دیں تاکہ انتخابی ترازو میں ان کی جماعت کا پلڑہ بھاری ہو جائے اس پر ترجمان صاحب نے بہت ہی غضب ناک ہو کر اپنا ردعمل ظاہر کیا ۔ انہوں نے رانا مشہود کو غیر ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ان کے بیان کو بھی بے بنیاد اور قابل افسوس قرار دیا‘مگر پھر یہی کافی نہیں تھا اورشہباز شریف کو بھی گرفتار کر لیا تاکہ یہ مؤثر طور پر جتا دیا جائے کہ ہمارے ساتھ پنگا لینا مہنگا پڑے گا‘ہم نے اپنی کٹھ پتلیوں کے ذریعے جن منصوبوں پر عمل درآمد کروانا ہے ان کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ ہمیں منظور نہیں۔خارجہ معاملات میں کٹھ پتلیوں کیساتھ ساتھ اب داخلہ معاملات میں بھی کٹھ پتلیوں کا استعمال شدت کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہے۔آشیانہ اقبال ہاؤسنگ کے معاملے کے بارے میں نیب یہ کہتی ہے کہ سابق وزیرا علیٰ پنجاب شہباز شریف نے ایک نا اہل ٹھیکیدار کو اس کا تعمیراتی ٹھیکہ غیر قانونی طور پر دیکر سرکاری خزانے سے چودہ بلین روپے کی کرپشن کی‘ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ کوئی ایسا ٹھیکہ نہیں تھا کہ جس پر تعمیراتی و متعلقہ سازو سازمان کی فراہمی کی لاگت حکومت کو اٹھاناتھی‘ ۔

یہ تو نجی و سرکاری شعبے کا مشترکہ منصوبہ تھا جسکی ممکنہ لاگت کی ادائیگی نجی ڈویلپر کو از خود کرنا تھی‘سو پہلا ٹھیکہ جب منسوخ ہو گیاا ور دوسرا ٹھیکہ دیا ہی نہیں گیا تو مطلب یہ کہ اس منصوبے پر کچھ کام ہوا ہی نہیں سوسرکاری خزانہ تو کسی مرحلے پر استعمال ہی نہیں ہو پایا۔ نیب کا دعویٰ یہ ہے کہ در اصل بہتر نرخ پر ٹھیکے دینے کے ’مواقع گنواکر ‘سرکاری خزانے کو 15 بلین کی مقدار کی ایسی رقم سے محروم کیا گیا ہے جو ممکنہ طور پر خزانے میں آ سکتی تھی۔ کرپشن کی یہ نئی قسم جو نیب نے ایجاد کی ہے یہ تو میاں نواز شریف پر لگائے گئے اقامہ اور کیلبری فونٹ جیسے الزامات سے بھی زیادہ مضحکہ خیز ہے۔ اب سلمان شہباز کو بھی حکم دیا گیا ہے کہ وہ عدالت کے سامنے پیش ہو کر وضاحت دیں کہ ان کا طرز زندگی ان کی آمدن کے معلوم ذرائع سے موافقت کیوں نہیں رکھتا؟خود نیب کی تاریخ میں بھی یہ الزام ایک غیر معمولی نوعیت کا ہی ہے کیونکہ ایک مخیر شخص سے اس کے طرز زندگی کے بارے میں وضاحت طلب کی جا رہی ہے۔ا س لحاظ سے تو کسی کو بھی یہی الزام لگا کر عدالت میں طلب کیا جا سکتا ہے۔اب ان کے بعد اور کسے طلب کیا جائے گا؟ حمزہ شہباز کو؟ کیونکہ وہی تو عدالتی زیادتیوں کے خلاف اپنی جماعت کے محاذ سے لڑ رہے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ نون لیگ کے خاتمے کی کوششیں کر رہی ہے تو ایسے میں ان کوششوں سے نمٹنے کے لئے میاں صاحب ہی اپنی جماعت کے لئے محور کا کام کر رہے ہیں لیکن ان کا بھی مستقل تعاقب کیا جا رہاہے تو فی الوقت ان کا تخیل بھی بنجر معلوم ہو رہاہے۔

ابھی تو کھیل کا آغاز ہے تو اس مرحلے پر گلی کوچوں میں احتجاج کے لئے نکلنا غیر محفوظ ہو گا۔فی الحال انتخابات پر توجہ مرکوز رکھنا مناسب ہو گا اور یہ بات بھی یقینی بنانی ہو گی کہ انتخابات سے قبل‘انتخابات کے دوران اور انتخابات کے بعد کی سرکاری کارستانیوں پر میڈیا کی نظر رہے۔آصف زرداری صاحب کیلئے بھی شاید یہی کہا جا سکتا ہے کیونکہ چوکیداروں ‘ مالیوں ‘ ڈرائیوروں‘کسانوں اور ملازموں کے ناموں سے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کا ملٹی بلین سکینڈل اپنی نوعیت کے لحاظ سے بڑا بھی ہے اور پیچیدہ بھی۔ اگر پیپلز پارٹی نے نون لیگ سے قریب ہونے کی ذرا بھی کوشش کی تو نیب والے زرداری صاحب اور ان کی بہن کو گھیر لیں گے ‘ سوال یہ ہے کہ کیا اسٹیبلشمنٹ سارا جال درست طور پر بُن چکی ہے؟ اس سوال کا جواب بظاہر تو اثبات میں ہی معلوم ہوتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ قانون احتمال اسٹیبلشمنٹ کے حق میں نہیں کیونکہ کٹھ پتلیاں جلد یا بدیر اپنے خالقوں کیخلاف ہوجانے کی عادت رکھتی ہیں بھٹو‘ جونیجو‘ نواز شریف‘ سب کے ساتھ یہی ہوا ہے۔ہم عوام سیاسی پہیّے کے از سر نو دریافت ہونے کے منتظر رہیں گے۔