215

سی آئی اے کے کرتوت

امریکہ کی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے کالے کرتوتوں کی کہانی کوصرف ایک کالم کے محدود حجم میں نہیں لکھا جا سکتا اس کو بیان کرنے کیلئے ہزاروں صفحات درکار ہیں سی آئی اے کے مقابلے میں ماسکو نے بھی کے جی بی کے نام سے ایک خفیہ ایجنسی بنائی ہوئی ہے کسی زمانے میں روس کے موجودہ حکمران پیوٹن اس کے سربراہ بھی رہے ہیں تو ہم نے قصہ چھیڑا ہے سی آئی اے کا آئیے مختصراً اسی کے طریقہ واردات پرچندسطور لکھ دیتے ہیں موقع محل کے لحاظ سے سی آئی اے اپنے مقاصد کے حصول کیلئے مختلف نوعیت کے حربے استعمال کرتی آ رہی ہے اولاً تو یہ کہ جس ملک کی حکومت کا تختہ الٹنا مقصود ہو تو سی آئی اے وہاں کی اپوزیشن پارٹیوں میں پیسے تقسیم کرتی ہے کہ جو سب سے آسان اور محفوظ طریقہ کار ہے۔

کبھی کبھار وہ اس ملک کے جرنیلوں کے ذریعے بھی وہاں فوجی بغاوت کروا دیتی ہے جیسا کہ جنوبی ویت نام میں1983ء کے دوران اس نے کیا یاجس طرح کہ اس نے برازیل اور گویٹے مالا کی منتخب حکومتوں کا دھڑن تختہ کروایا ثانیاً سی آئی اے اس ملک کے حکمران کو قتل کروانے سے بھی دریغ نہیں کرتی کہ جو امریکہ کے اشاروں پر نہ ناچتا ہو جیساکہ 1961ء میں اس نے انگولا کے حکمران پیٹرس لوممبا کو قتل کروایا کہ جو عوام کے ووٹوں سے الیکشن میں بھاری اکثریت لیکر حکمران بنا تھا چونکہ وہ عوام میں از حد مقبول تھا سی آئی اے اس کی جگہ اس قیادت کو برسر اقتدار لانے میں ناکام رہی کہ جسے وہ لانا چاہتی تھی چنانچہ انگولا لوممبا کے قتل کے بعد پورے چار برس تک سیاسی انتشار کا شکار رہا ثالثاً سی آئی اے امریکہ کی نافرمانی کرنے والے کسی بھی ملک کی معیشت کو تباہ کرنے سے بھی گریز نہیں کرتی کسی بھی ملک کی معیشت کو زک پہنچانے کے لئے وہ اس پر معاشی پابندیاں اور تجارتی لین دین میں بائیکاٹ جیسے حربے آزماتی ہے ۔

جنوبی امریکہ کے ملک چلی کی مثال ہمارے سامنے ہے 1970ء کی دہائی میں وہاں سلوڈور اتیلنڈے الیکشن جیت کربرسر اقتدار آیا تھا وہ تیزی کیساتھ چلی کی بھاری صنعتیں قومیا نے کی پالیسی پر گامزن تھا اور اس کی معاشی پالسیاں امریکہ کی آنکھوں میں کھٹکتی تھیں چنانچہ وہاں سی آئی اے نے بے چینی پھیلائی جو انجام کار جنرل پنوشے کے اقتدار میں آنے کے بعد ختم ہوئی سی آئی اے کے حربوں میں ایک حربہ یہ بھی ہے کہ وہ جس ملک میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہے تو وہاں کے میڈیا کو مختلف ہتھکنڈوں سے اپنا ہمنوا بنا لیتی ہے چنانچہ دنیا نے دیکھا کہ بیسویں صدی کے وسط میں یہ حربہ اس نے کیسی کامیابی کیساتھ اٹلی میں آزمایا اور وہاں کمیونسٹوں کے اثر کو زائل کیا‘ رابعاً سی آئی اے کو اس معاملے میں یدطولےٰ حاصل ہے کہ وہ کسی بھی ایسے ملک میں انتشار کی صورت حال کمال چالاکی سے پیدا کر سکتی ہے۔

جس کے حکمرانوں کو گھر بھجوانے کا امریکہ فیصلہ کر لے‘ 1953 کا ایران دیکھ لیجئے گا ڈاکٹرمصدق وہاں کے منتخب وزیراعظم تھے لیکن جب انہوں نے ایران میں برطانوی آئل کمپنیوں کو قومیا یا تو یہ بات برطانیہ اورامریکہ کو سخت ناگوار گزری اور انہوں نے ا س طریقے سے ایران میں انتشار کا ایک طوفوان برپا کیا کہ لوگ سڑکوں پر نکل آئے امریکہ نے عوام کو سڑکوں پرلانے کے لئے پیسوں کی بوریوں کا منہ کھولا بالآخرڈاکٹر مصدق کو گھر بھجوا دیاگیااور شہنشاہ ایران مسند اقتدار پر بٹھا دیئے گئے اور تو اور ذوالفقارعلی بھٹو اور سعودی عرب کے شاہ فیصل کا بھی امریکہ کی نظر میں قصور یہ تھا کہ و ہ اسلامی ملکوں کااتحاد بنانا چاہتے تھے چنانچہ ایک کو اپنے بھتیجے کے ہاتھ سے سی آئی اے نے قتل کروا دیا تو دوسرے کو دار پرلٹکا کر دم لیا۔