215

کیکڑ ااور تصور آرٹ شارٹ

پچھلے چند برسوں سے میں تقریباً گوشہ نشین ہوں‘ سویرے سویرے ماڈل ٹاؤن پارک میں سیر دوستوں سے فضول نوعیت کی گفتگو اور میں آپ کو بتاتا ہوں کہ فضول قسم کی گفتگو اور لطیفوں کا تبادلہ بھی انسان کو نارمل اور صحت مند رکھتا ہے‘ ہمہ وقت سنجیدہ ادبی گفتگو اور فلسفیانہ موشگافیاں خاص طور پر اس عمر میں اگر بندے کو چڑچڑا کرنے کے علاوہ قبض بھی کردیتی ہیں۔ سیر سے واپسی پر سبزیاں‘ ترکاریاں اور دہی خرید کر میں گھر آتا ہوں اور پھر مجال ہے گھر سے باہر قدم بھی رکھوں۔ گوشہ نشین ہوجاتا ہوں اور گوشے میں قفس کے مجھے آرام بہت ہے۔ انگریزی محاورے کے مطابق میں ایک ’’ہزمٹ کریب‘‘ یعنی ’’راہب کیکڑا‘‘ ہوچکا ہوں۔ اپنے گھر کی چٹان کے کونے کھدروں میں پڑا رہتا ہوں۔ لیکن کبھی ماضی کی مشہوریاں اور شہرتیں یاد آتی ہیں کہ کبھی ہم بھی خوبصورت تھے اور دل میں ایک لہر سی اٹھتی ہے۔ اک تازہ ہوا سی چلتی ہے کہ کہاں گئے وہ دن۔ جی چاہتا ہے کہ پھر سے ہم درجنوں کیمروں کا مرکز ہوں۔ سینکڑوں آنکھوں میں بہار تو نہیں خزاں بن کے اتریں کچھ تالیاں بجیں۔ خلق خدا ہم سے جڑ جڑ کر سیلفیاں اتارے اور یاد رہے خلق خدا میں موٹے مرد ہرگز شامل نہیں‘ ہم ہجوم نازنیناں میں گھرے معطر معطر ہورہے ہوں اور ان کی قربت میں سلگ سلگ جاتے ہوں چنانچہ جب پی ٹی سی ایل کے زبیر اکرم نے مجھے فون کیا اور نہایت ڈرتے ڈرتے گزارش کی کہ سر میں جانتا ہوں کہ آپ کہیں نہیں آتے جاتے۔ خاص طور پر شام کے کناروں میں لیکن میرا ایک دوست اور برخوردار عمران علی کاظمی جو کہ ایک مایہ نواز نہیں مایہ ناز بین الاقوامی شہرت یافتہ مصور بھی ہے۔ مجھ سے سفارش چاہتا ہے کہ آپ اس کی تربیت شدہ نوجوان مصوروں کی نمائش کا افتتاح کردیں پیکجز مال کے گراؤنڈ فلور پر واقع ’’مصور آرٹ گیلری‘‘ کے تصویری ہال میں سر میں نے وعدہ کرلیا ہے کہ میں آپ کو منالوں گا۔

سر میرے وعدے کی لاج رکھ لیجئے۔ زبیر نہیں جانتا تھا کہ میں پہلے سے ہی تیار بیٹھا تھا کہ کاش کوئی بلائے اور پرانی مشہوریاں پھر سے میری آس پاس مشک بار ہوں تو میں نے مناسب شگفتہ شگفتہ بہانے تراشے ایسے واجبی سے بہانے کئے اور پھر اس کی کچھ منت سماجت کے بعدمان گیا۔ چنانچہ میں زبیر اکرم کے ہمراہ جب پیکجز مال میں مصور آرٹ گیلری پہنچا تو وہاں اعجاز آرٹ گیلری والا محمد رمضان میرے استقبال کیلئے کھڑا تھا۔ ’’کیا یہ آرٹ گیلری بھی تمہاری ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔ ’’سر آپ کو شاید یاد نہیں جب میں نے دوبئی میں ایک پاکستانی آرٹ گیلری قائم کی تھی تو اس کے نام کیلئے آپ ہی سے تو مشورہ کیا تھا اور آپ نے ہی تو انگریزی میں اس کے ہجے مجھے بتائے تھے‘‘۔ محمد رمضان پاکستان آرٹ کے جہان میں ایک چھوٹا سا معجزہ ہے۔ کسی زمانے میں وہ فردوس مارکیٹ کی ایک کھوکھانی دکان میں تصویریں اپنے ہاتھ سے فریم کیا کرتا تھا اور اس کے ہاتھوں میں ایسا ہنر تھا کہ اس کے بنائے ہوئے فریم میں تصویر زندہ ہوجاتی تھی۔ وہ پہلا شخص ہے جس نے اپنی ہنرمندی اور لیاقت سے پاکستانی مصوروں کی تصویروں کو یوں مارکیٹ کیا کہ وہ خوشحال ہوگئے اور ان کے ساتھ وہ بھی خوشحال ہوگیا۔ کسی نے سعید اختر سے شکایت کی اور سعید بلاشبہ عہد حاضر کا سب سے عظیم مصور ہے کہ سعید صاحب رمضان نے آپ سے آپ کی فلاں تصویر اتنے لاکھ میں خریدی اور اسے دوگنی قیمت میں آگے فروخت کردیا تو سعید اختر نے کہا یہ پہلا شخص ہے جس کی وجہ سے ہماری تصویروں کا مول پڑا۔

اب وہ ہماری تصویریں بے شک دوگنی قیمتوں پر فروخت کرائے اس سے ہمیں کیا فرق پڑتا ہے۔ پہلے تو ہمیں کوئی خریدتا ہی نہیں تھا۔ رمضان کے علاوہ شاید یہ اس کی گیلری کی انچارج تھی جس نے فوری طور پر ایک بہت بڑا اور بھاری سفید پھولوں کا گلدستہ یعنی ’’بوکے‘‘ میری جھولی میں ڈال دیا۔ غرض کہ بڑی رونقیں تھیں۔ سرخ فیتے کو کاٹنے کیلئے مجھے جو سرخ ربن باندھے ہوئے ایک طشتری میں سجی قینچی پیش کی گئی وہ ’’کھنڈی‘‘ تھی۔ میں نے درجن بھر کیمروں کی جانب اپنے پورے نصف درجن باقی ماندہ دانت نکال کر دیکھتے ہوئے جب سرخ ربن کاٹنے کی کوشش کی تو وہ کٹے نہ۔ گیت گانے لگا کہ کاٹے نہ کٹے رہے۔ بالآخر دکھ کا یہ ربن کٹ ہی گیا۔ گیلری میں نمائش شدہ جتنی بھی نوجوان مصوروں کی تصویریں تھیں میں انہیں دیکھتا جاتا تھا اور فخر کرتا جاتا تھا کہ میرے پاکستان میں ایسے ایسے باکمال مصور ہیں جن کی تصویری کام کو دنیا بھر کی آرٹ گیلریز میں آویزاں ہونا چاہئے۔ عمران علی کاظمی‘ حبیب خاتم‘ ماریا یاسین‘ مہوش شوکت‘ محمدحسین‘ قاضی نعیم‘ سدرا عاصم‘ سنبل خرم اور طیبہ رشید۔ یہ سب پاکستان کے نہایت تخلیقی لوگ میرے ساتھ ساتھ چلتے تھے اور اپنی تصویروں میں نقش کیفیتوں کو بیان کرتے تھے۔ میرے سامنے تخلیق کی شراب کے جام لبریز تھے اور میں ان میں سے کسی ایک کا انتخاب نہیں کرسکتا تھا کہ سب کے سب جام خمار آمیز اور پرکشش تھے۔ اس نمائش کے افتتاح کے موقع پر میڈیا کی جانب سے جو درجنوں کیمرے مجھ پر مرکوز تھے میں نے ان سے مخاطب ہوکر یہی کہا کہ بڑا ادب اور بڑی مصوری دکھ اور رنج کی کسک کی کوکھ میں سے جنم لیتی ہے اور ہم لکھنے والے اور یہ نوجوان مصور ’’خوش نصیب‘‘ ہیں کہ پاکستانی معاشرے میں دکھ بہت ہیں۔ رنج زیادہ ہیں۔ ہمارے قلم اور برش خون میں بھیگے رہتے ہیں۔ مثلاً کوئٹہ کا ہزارہ نوجوان مصور حبیب خاتم جس کے سامنے اس کے قبیلے کے سینکڑوں لوگ مارے گئے ۔

میں نے کچھ کالم ان کی حالت زار پر لکھے۔کھرمنگ بلتستان کے ایک مصور نے مجھے بہت متاثر کیا کہ اس کے نقش اور تصویریں سب سے مبرا تھیں۔ عمران کاظمی کے پورٹریٹ اتنی کاملیت رکھتی تھیں جیسے کسی ریمبرانٹ نے ان کو مصور کیا ہو۔ ماریایا سین نے ’’ونی‘‘ کے رواج کو موضوع بنا کرعورت کو ایک ایسی مرغی کی صورت پیش کیا تھا جسے اس کے آگے ذبح کر دیتے ہیں۔ مہوش شوکت کی ہر تصویر میں اس کے اپنے نقش نمایاں ہوتے تھے۔ اس نمائش میں واحد مجسمہ ساز قاضی نعیم تھا جس نے اپنے چوبی مجسموں میں تصوف کے چولہے تراشے تھے۔ سنبل خرم کی سیلف پورٹریٹ بے مثال تھی۔ مجھے اس سے عشق ہوگیا۔ طیبہ رشید ایک حجاب آور مصورہ‘ جس کی تصویر یں حیران کرتی تھی۔ یہ وہ نوجوان مصور ہیں جو ایک نیا پاکستان ہیں۔اس نمائش کے دوران بشیر احمد سے ملاقات ہوگئی جو صرف مجھے ملنے کیلئے چلا آیا تھا‘ استاد بشیر احمد جس نے مینی ایچر پینٹنگ پیش ’’مختصر تصویر کشی‘‘ کی بنیاد رکھی اور آج دنیا بھر میں اس کے شاگرد کیا شازیہ سکندر اور کیا عمران قریشی اتنے نامور ہوچکے ہیں کہ ان کے برش کی ایک سٹروک لاکھوں ڈالر میں فروخت ہوتی ہے۔ کسی بھی ملک کی شناخت نہ کوئی میاں صاحب اور نہ کوئی زرداری یا عمران ہوتے ہیں۔ صرف ادیب اور مصور ہوتے ہیں کہ یہ وہ ہوتے ہیں جو بغیر غرض کے بغیر کسی لالچ کے پاکستان کی عظمت کے چراغ جلاتے جاتے ہیں۔