225

علاج اور موبائل فون

دنیاٹیکنالوجی کے ذریعے آسمان اور خلاؤں کی وسعتوں کو کھنگال رہی ہے اور معاشرے کو ایک دوسرے سے قریب لانے کیلئے نت نئے سماج تخلیق ہو رہے ہیں لیکن افسوس کہ پاکستان میں ٹیکنالوجی کا حسب ضرورت اور محتاط استعمال نہیں ہورہا‘ یوں لگ رہا ہے کہ جیسے بچوں کے ہاتھ کوئی کھلونا لگ گیا ہے‘ جس سے کھیلنے کے سوا انکی سمجھ میں کوئی دوسرا مصرف نہیں آتا‘ یہی وجہ رہی کہ بہ امر مجبوری خیبرپختونخوا حکومت کو سرکاری ہسپتالوں کے عملے پر پابندی عائد کرنا پڑی کہ وہ دوران ڈیوٹی موبائل فون کا استعمال نہیں کر سکتے اس پابندی پر عملدرآمد کیلئے صوبائی محکمہ صحت کی جانب سے سرکاری ہسپتالوں کے منتظمین کو ایک حکمنامہ بھی جاری کیا گیا ہے۔ عمومی شکایت رہی ہے کہ ڈاکٹروں اور طبی عملے کی اکثریت ایک ایسے وقت میں اپنے اپنے موبائل فونز کے استعمال میں مصروف دیکھی جاتی تھی جبکہ ان کے آس پاس مریضوں کا رش ہوتا تھا۔ سوشل میڈیا پر ڈاکٹروں اور طبی عملے کی جاری ہونیوالی تصاویر کے بعد وزارت صحت کے حکام حرکت میں آئے اگرچہ سرکاری ہسپتالوں میں دوران ڈیوٹی عملہ موبائل فون یا دیگر الیکٹرانک آلات استعمال کرنیکی ممانعت ہوگی لیکن جس طرح معاشرے سے موبائل فون کی وباء راتوں رات ختم نہیں ہوگی بالکل اسی طرح سرکاری ہسپتالوں سے بھی یہ بیماری ختم ہونے میں یقیناًکچھ وقت ضرور لگے گا۔

خوش آئندہے کہ فیصلہ سازوں نے کم سے کم موبائل فون کے غیرمحتاط اور غیرضروری استعمال کا نوٹس تو لیا ہے اور بات صرف طبی اور معاون طبی عملے کی حد تک ہی محدود نہیں بلکہ ہر شعبے میں سرکاری و غیرسرکاری ملازمین اپنا قیمتی وقت صارفین سے زیادہ موبائل فون پر خرچ کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ سرکاری دفاتر سے جڑی عوام کی توقعات پوری نہیں ہوتیں‘ بالخصوص جب ہم طب کے شعبے کی بات کرتے ہیں تو صورتحال زیادہ گھمبیر دکھائی دیتی ہے کیونکہ علاج معالجے کی فراہمی ایک ایسے فرض کی ادائیگی ہے‘ جس میں معالجین کی توجہ بھی سہولیات و ادویات کی طرح ضروری ہوتی ہے۔اگر سوال یہ ہے کہ پاکستان میں علاج معالجے کی سہولیات اور ان کا معیار کہاں کھڑا ہے؟ تو اسکے جواب میں ڈبلیو ایچ اوکی ایک رپورٹ کا حوالہ مستند و برمحل رہے گا‘ جس میں کہا گیا کہ پاکستان جنوبی ایشیائی خطے میں صحت کے شعبے میں بہت پیچھے ہے اور اگرچہ اس شعبے میں ہر سال پہلے کے مقابلے بہتری آ رہی ہے لیکن گزشتہ 18برس کے دوران کی گئی اصلاحات کو مزید آگے بڑھانے کی ضرورت ہے عالمی ادارے کسی کی کھل کر مذمت نہیں کرتے وہ نرم الفاظ کے ذریعے اشاروں کنائیوں میں بات کرتے ہیں یعنی اقوام متحدہ کے نگرانوں نے پاکستان میں علاج معالجے اور اس سے متعلق سہولیات کے معیار پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ سال دوہزار میں زچگی کے دوران شرح اموات پاکستان میں 0.29 فیصد تھی جو کم ہوکر 0.16 فیصد رہ گئی ہے تاہم سال 2030ء تک یہ شرح مزید کم ہونے کی توقع ہے‘ امراض قلب‘ کینسر‘ ذیابیطس‘ دائمی سانس کی بیماری سے ہلاکتوں کی شرح 2000 میں 27.8فیصد تھی ۔

جس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور یہ اب بھی 24.7 فیصد پر ہے تاہم اسے سال 2030ء تک 17 فیصد تک لانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ پاکستان نے ترقی کے عالمی اصولوں ملینیم ڈیویلپمنٹ گولز کو پورا کرنے کا عہد کیا لیکن اس سلسلے میں پیشرفت جاری ہی تھی کہ ایم ڈی جیز نامی عالمی حکمت عملی کو پائیدار ترقی کے اہداف ایس ڈی جیز میں تبدیل کر دیا گیا‘ جس سے فیصلہ سازوں کو اپنی خفت چھپانے کا موقع ہاتھ آیا ہے‘ ایس ڈی جی کا ایجنڈا سال 2030ء کیساتھ شامل ہونے کا مقصد ملک میں علاج معالجے کے کم سے کم سترہ شعبوں میں اصلاحات متعارف کرانا ہے‘ جسکے ذریعے عام آدمی کی زندگی میں بہتر لائی جا سکے گی ‘پائیدار ترقی کی عالمی حکمت عملی ایس ڈی جی کا مقصد صحت مند معاشرت کو یقینی اور معیارزندگی بہتر بنانا ہے لیکن یہ اہداف اسوقت تک حاصل نہیں ہونگے جب تک متعلقہ شعبوں کے ماہرین اپنی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے معیار پر توجہ نہیں دیتے۔ترقی یافتہ ممالک میں جہاں ہر کام اصول اور ضوابط کے تحت ہوتا ہے‘ جہاں قوانین اور قواعد کتابی شکل میں شائع کرنے کے لئے مرتب نہیں کئے جاتے اورانکی ہر ایک شق پر اسکی روح کے مطابق بلاامتیاز و جواز عمل درآمد ہوتا ہے‘ وہاں کسی بھی سرکاری یا نجی علاج گاہ میں طبی اور معاون طبی عملہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ وہ دوران ڈیوٹی اپنے موبائل فون کا استعمال کرے گا‘امریکہ میں ڈاکٹروں کو ڈیوٹی کے دوران طلب کرنے کیلئے ہسپتالوں میں سپیکرنصب ہوتے ہیں۔

جن پر ڈاکٹر کا نام لیکر اعلان کیا جاتا ہے کہ وہ جہاں کہیں بھی ہیں‘ کسی خاص دفتر یا مریض سے رابطہ کریں‘ کیا ہمارے ہاں سپیکر کا اسقدر مثبت استعمال ہوتا ہے؟ ڈاکٹروں کو ڈیوٹی کے بعد موبائل فون کی جگہ نومیرک پیجرزکے ذریعے ایمرجنسی سے مطلع کرنے کیلئے صرف نمبر ہی ارسال کیا جا سکتا ہے‘ انٹرنیٹ اور واٹس ایپ یا سکائپ جیسے وسائل کا استعمال کرتے ہوئے مرض کی تشخیص یا مریض کی حالت کے بارے میں ڈاکٹر کو مطلع کرنے کا نظام الگ سے نہایت ہی ترقی یافتہ شکل میں موجود ہے‘ جسکے لئے آئی پیڈ یا اس جیسے آلات کا استعمال کیا جاتا ہے لیکن پاکستان میں موبائل فون رحمت سے زیادہ باعث زحمت ہے اور کیا یہ بات تعجب خیز نہیں کہ معاشرے کے اعلیٰ تعلیم یافتہ پیشے سے تعلق رکھنے والوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ دوران ڈیوٹی موبائل فون کا استعمال آئندہ سے نہیں کر سکتے‘ ’’کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے ۔۔۔ سوال سارے غلط تھے‘ جواب کیا دیتے۔ (منیر نیازی)۔‘‘