252

این آر او: کب کیوں کیسے؟

اکتیس اکتوبرکو قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب کرنے والوں میں شامل قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی تقریر سب سے زیادہ دلچسپ تھی‘ جنہوں نے ایک موقع پر اپنے اور شریف خاندان کے دیگر افراد کیخلاف کسی ممکنہ این آر او کے حوالے سے خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے کسی بھی حل پر لعنت بھیجتے ہیں‘ پاکستان کی سیاست میں ان دنوں این آر او کی گونج ہے‘ جو ایک عرصے سے جاری ہے۔ خود وزیراعظم بھی ایک سے زیادہ مرتبہ قوم کو مطلع کر چکے ہیں کہ ان پر این آر اُو کیلئے دباؤ ہے لیکن آخر یہ این آراو کون چاہتا ہے‘ کس نے این آر او کرنا ہے اور کن فریقین کے درمیان ہونا ہے؟ پاکستان کی اُلجھی سیاست میں جہاں سیدھے سوالات کا جواب نہیں ملتا وہاں اس قدر پیچیدہ موضوع کے بارے میں کس طرح حقائق سامنے آئیں گے! اسلئے جواب ملنا مشکل ہی نہیں ناممکن دکھائی دے رہا ہے۔ وزیراعظم ان دنوں فیصلہ کن موڈ میں ہیں اور اسکی وجہ کچھ عرصہ قبل رانا مشہود کا بہت ہی اہم وقت پر انتہائی غیر اہم بیان ہے لیکن اس پر انتہائی اہم ردعمل سامنے آیا ہے‘پنجاب حکومت کیلئے خطرات کی کمی نہیں اکثریت اقلیت میں کسی بھی وقت بدل سکتی ہے اور تحریک انصاف کے اندر دس سے بارہ ارکان فارورڈ بلاک بنا سکتے ہیں‘ یہ تھی وہ خبر جس نے کپتان کے کان کھڑے کر دیئے اور حکومتی ترجمان کو ایک پریس کانفرنس میں کہنا پڑا کہ جلد ہی چند بڑی گرفتاریاں ہونیوالی ہیں اسی دوران ہونیوالے سینٹ انتخابات میں تحریک انصاف کے بارہ کے قریب ایم پی ایز نے نواز لیگ کے خواجہ حسان کو ووٹ بھی دیدیا۔

پھر چشم فلک نے دیکھا کہ ہمارے دوست کے الہامی بیان کے اگلے ہی دن سابق وزیراعلی اور مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف گرفتار ہو گئے۔ کہانی یہاں سے شروع ہوتی ہے‘بلاشبہ تحریک انصاف حکومت شاید پاکستان کی سیاسی تاریخ کی پہلی حکومت ہے جو بے پناہ مسائل کا شکار ہونے کے باوجود جارحانہ سیاست کر رہی ہے۔ باوجود اس کے کہ پنجاب میں پوری طرح بیوروکریسی کی اتھل پتھل‘ ایک ماہ میں دو انسپکٹر جنرل پولیس کی متنازعہ تبدیلیاں‘ وفاقی کابینہ کے تین اہم وزرا کیخلاف مبینہ انکوائری کی خبریں اور تردید‘ کشکول توڑنے کے دعوؤں کے باوجود امدادی مہم اس حکومت کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں۔ اسکا کریڈٹ پوری طرح سے اس حکومت کو نہیں بلکہ اس اپوزیشن کو جاتا ہے جو خاموش تماشائی بھی ہے اور مصلحتوں کا شکار بھی‘ پنجابی میں کہتے ہیں ’جدھے بوجی وچ دانے‘ اودھے کملے وی سیانے‘ حکومت کے ہاتھ میں کھیلنے کو تمام پتے موجود ہیں۔ کہاں کس کو کسنا ہے اور کہاں کس کو ڈیل یا ڈھیل دینا ہے۔عام انتخابات کے فوری بعد ہونیوالی کل جماعتی کانفرنس کا ایجنڈا دھاندلی کیخلاف گرینڈ اتحاد وجود میں لانا تھا‘ اس سلسلے میں کچھ کمیٹیاں بھی تشکیل پا گئیں‘ دوریاں کم ہونے لگیں مگر نزدیکیاں ابھی ہو نہ پائیں کہ اپوزیشن میں ریشہ دوانیوں نے سر پکڑ لیا‘ نواز شریف اپنی صاحبزادی سمیت جیل میں تھے اور شہباز شریف بغیر چوں چراں اداروں سے مذاکرات کا بھاشن سنا رہے تھے۔

ایسے میں پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کیخلاف منی لانڈرنگ کے مقدمات کھلے اور صدارتی انتخابات سے عین پہلے زرداری کے انتہائی قریبی لوگوں کو اٹھا لیا گیا اور پھر سب نے متحدہ اپوزیشن کا اتحاد پارہ پارہ ہوتے دیکھا‘دن بدل گئے‘ نواز شریف اور انکی صاحبزادی کو جیل سے رہائی ملی اور نوازشریف نے بیگم کلثوم کے چہلم تک چپ رہنے کا عزم کر رکھا ہے جس پر وہ سختی سے عہد کئے ہوئے ہیں‘بیگم کلثوم کی رحلت کا صدمہ اور غم یقیناًبڑا ہے لیکن ایسی گھمبیر خاموشی کی ضرورت نہیں تھی بالخصوص جبکہ سیاسی حالات تیزی سے مخالفانہ ہوں اور پارٹی کے اندر بھی چے میگوئیاں ہو رہی ہیں‘ بالآخر نیب کورٹ کے باہر نواز شریف نے لب کشائی تو کی مگر انکی طویل خاموشی نے کئی سوالات کو جنم بھی دیا‘ ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ‘ سویلین بالادستی کا خواب شاید نواز شریف دہرانا نہیں چاہتے لیکن انکے ووٹرز اور عوام کو یہ نعرے آج بھی سنائی دے رہے ہیں‘ایک بار پھر کل جماعتی کانفرنس کی باتیں ہو رہی ہیں‘ اب کی بار زرداری‘ جن کی جلد گرفتاری کی افواہیں اڑائی جا رہی ہیں‘ خود چل کر مولانا کے دروازے پر گئے ہیں‘ مولانا فضل الرحمن رابطہ کار بننے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم اب نوازشریف کی باری ہے اور زرداری کے نزدیک ابھی حکومت کو وقت ملنا چاہئے۔ نوازشریف کسی جلدی میں نہیں زرداری صاحب سے فاصلے مزید بڑھ گئے ہیں دونوں ضرورت کے وقت ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہو چکے ہیں لہٰذا‘ اب یہ فاصلہ کم از کم مولانا کم نہیں کر سکتے۔ ایسے میں تحریک انصاف کو پوری اجازت اور چھوٹ ملنی چاہئے کہ وہ اِطمینان سے عددی طور پر کمزور حکومت کے باوجود بھی اپنا کام جاری رکھ سکے اور آئینی مدت کی تکمیل تک ایسی کوئی بھی رکاوٹ کھڑی نہ کی جائے جس کو جواز بناتے ہوئے تحریک انصاف کو یہ کہنے کا موقع ملے کہ اسے تبدیلی لانے کا عملاً موقع نہیں مل سکا۔