222

مولانا سمیع الحق کے قتل کی تحقیقات کا آغاز

اسلام آباد۔جمعیت علمائے اسلام(س)کے سربراہ مولانا سمیع الحق کی شہادت کے بعد سے ہی ان کے قتل کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا تاہم اب تحقیقاتی ٹیم نے مولانا سمیع الحق کے موبائل فون کو بھی تحقیقات کا حصہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ مولانا سمیع الحق کے موبائل فون سے ملزمان کا پتہ لگایا جائیگا۔ تفصیلات کے مطابق مولانا سمیع الحق کے قتل کی تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔تحقیقاتی ٹیم نے مولانا سمیع الحق کے موبائل فون کی مدد سے ملزمان کا سراغ لگانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق تحقیقاتی ٹیم نے ملزمان کی گرفتاری کے لئے علاقے کی جیو فینسنگ اور فرانزک ماہرین کی خدمات حاصل کر لی ہیں۔

جیو فینسنگ اورفرانزک سے اصل ملزمان کی گرفتاری کا امکان ہے۔تحقیقاتی ٹیم نے مولانا سمیع الحق کے دو ملازمین کو بھی حراست میں لے رکھا ہے جن سے پوچھ گچھ شروع جاری ہے، حراست میں لئے گئے ملازمین میں مولانا سمیع الحق کا محافظ اور سیکرٹری شامل ہے۔دونوں ملازمین سے مولانا سمیع الحق پر ہونے والے حملے کے حوالے سے تفصیلات لی جائیں گی۔ ذرائع کے مطابق مقدمے کی تفتیش سنگین جرائم کی تحقیقات کر نے والا یونٹ کر رہا ہے۔ یاد رہے کہ مولانا سمیع الحق کے قتل کا مقدمہ ان کے بیٹے حامد الحق کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف تھانہ ایئر پورٹ میں درج کرلیا گیا۔ایف آئی آر کے متن کے مطابق مقدمے کے متن کے مطابق جمعے کی شام 6 بجکر 35 منٹ پر مولانا سمیع الحق کے سیکریٹری احمد شاہ نے اطلاع دی کہ مولانا صاحب اپنے کمرے میں زخمی حالت میں پڑے ہیں۔ان کے گھر سے انہیں سفاری ولا اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔

مقدمہ کے متن میں بتایا گیا کہ حملے میں مولانا سمیع الحق کے پیٹ، دل، ماتھے اور کان پر چھریوں کے 12 وار کئے گئے ۔مقدمہ میں قتل اور اقدام قتل کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ دوسری جانب مولانا سمیع الحق کی شہادت پر ان کے اہل خانہ کو تعزیتی پیغامات موصول ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔مولانا سمیع الحق کی میت راولپنڈی سے آبائی علاقے اکوڑہ خٹک پہنچادی گئی ہے جہاں سہ پہر 3 بجے ان کی نماز جنازہ گورنمنٹ خوشحال خٹک کالج کے کے گراونڈ میں ادا کی جائے گی۔

سربراہ دارالعلوم حقانیہ مولانا سمیع الحق کی نماز جنازہ کے لیے کالج کے گرانڈ کی صفائی کا کام جاری ہے جبکہ اس حوالے سے بم ڈسپوزل اسکواڈ کا عملہ بھی چیکنگ میں مصروف ہے۔ مولانا کی تدفین جامعہ حقانیہ کے احاطے میں ان کے والد مولانا عبد الحق کے پہلو میں کی جائے گی۔ یاد رہے کہ مولانا سمیع الحق کی شہادت پر خیبرپختونخوا حکومت نے آج یوم سوگ کا اعلان کررکھا ہے جس کے تحت تمام سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں ہے۔