203

اک چراغ اور بجھا

مولانا سمیع الحق کی شہادت ایک قومی سانحہ ہونے کیساتھ راولپنڈی کے ماتھے پر ندامت کا ایک اور داغ بھی ہے اس شہر اقتدار میں پہلے بھی تین قومی شخصیات کی میتیں اٹھی ہیں‘ لیاقت علی خان اور بینظیر بھٹو کو سرعام قتل کیاگیا جبکہ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی جس کو عدالتی قتل قرار دیا جاتا ہے‘ مولانا سمیع الحق کی شہادت مظلومانہ اس لئے ہے کہ وہ اپنے گھر میں اکیلے تھے اور طبیعت مضمحل ہونے کے باعث آرام کررہے تھے ‘اکیلا ملازم بھی باہر گیا ہوا تھا تو کسی ظالم کو موقع مل گیا اس نے فائر نہیں کیاکیونکہ مولانا پیرانہ سالی اور کمزوری کے باعث مزاحمت نہیں کرسکتے تھے اگر وہ اکوڑہ خٹک میں ہوتے تو ہزاروں جانثار ان پر قربان ہونے کو تیار رہتے‘ شاید قاتلوں کو راولپنڈی میں ہی یہ موقع مل سکتا تھا‘ مولانا کا اس طرح رخصت ہونا قوم کیلئے بہت بڑا نقصان ہے ان جیسی صلح جو اور مذہبی ہم آہنگی کی علمبردار شخصیت موجودہ دور میں ایک نعمت سے کم نہیں تھی‘ انکی متحرک اور عملی زندگی میں قوم کیلئے فیض ہی فیض تھا‘ہمیشہ اتحاد واتفاق کی دعوت دی‘ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک پاکستان اور افغانستان کیلئے ایک عظیم دینی درسگاہ ہے۔

جہاں اب بھی ہزاروں طلباء زیر تعلیم ہیں‘ مولاناسمیع الحق کا عرب وعجم میں احترام کیا جاتا تھا‘سعودی عرب‘ لیبیا اور عراق کے علاوہ ایران میں بھی ان کی خدمات کا اعتراف کیا جاتا تھا اور متعدد بار ایرانی حکومت کی دعوت پر وہاں کا دورہ بھی کیا‘ مولاناصاحب کا قومی سیاست میں بھی بہت جاندار کردار رہا ہے ‘اپنے عظیم والد مولانا عبدالحق ؒ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے درس وتدریس کیساتھ جمعیت علمائے اسلام کے پلیٹ فارم سے سیاست میں بھی سرگرم رہے قومی تاریخ کے اہم سیاسی اتحادوں میں مولانا سمیع الحق کا کردار بہت نمایاں رہا‘ آئی جے آئی جیسے اتحاد کے سربراہ بھی بنے مگر انہوں نے ایثار کا مظاہرہ کرتے ہوئے میاں نوازشریف کے حق میں دستبرداری کا اعلان کردیا تھا‘ایم ایم اے کے قیام سے قبل ایک وسیع المشرب پاکستان وافغانستان دفاع کونسل قائم کی‘ آپ کی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ اور اس قوم پر احسان ملی یکجہتی کونسل کا قیام ہے ایک ایسے وقت میں جب ملک میں کشت وخون کا میدان گرم تھا مولانا سمیع الحق کی امن کے لئے کوششیں بھلائی نہیں جا سکتیں‘ 2013ء میں جب حکومت نے طالبان سے امن مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا تو مولانا صاحب کو حکومت اور طالبان دونوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم میں شامل کرنے کی خواہش ظاہر کی مگر انہوں نے پاکستان کی مذاکراتی ٹیم کا حصہ بننا پسند کیا وہ اس حوالے سے کافی کام کرچکے تھے مگر کچھ غیر مرئی قوتوں نے ان مذاکرات کو سبوتاژ کردیا ‘اے پی ایس پشاور پر حملہ میں ڈیڑھ سو طلبہ واساتذہ کو شہید کردیا گیاتواس کے بعد مذاکرات ختم کردیئے گئے۔

اس اور اس جیسے دہشت گردی کے واقعات پر مولاناصاحب سخت پریشان اور مضطرب تھے‘ حال ہی میں افغان حکومت نے اعلیٰ سطح پر آپ سے رابطہ کیا اور طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے مدد کی اپیل کی مگر مولانا صاحب نے اس وجہ سے معذرت کرلی کہ وہ بیمار اور ضعیف ہیں ان کو یہ بھی شکوہ تھا کہ طالبان میں اب ایفائے عہد نہیں رہا‘ بہر حال دل کے بائی پاس آپریشن کے بعد اور پیرانہ سالی میں بھی آخر دم تک متحرک رہے ایک دن پہلے ہی پشاور میں ایک پروگرام میں شرکت کی اور راولپنڈی آگئے تھے یہاں وہ کسی مظاہرہ میں شرکت کرنے کے لئے آئے تھے مگر کمزوری کے باعث نہ جاسکے اور جمعہ کے دن مغرب سے پہلے کوئی شقی القلب ان کو تنہائی اور بے بسی میں شہید کرنے پہنچ گیا‘ اللہ تعالیٰ مرحوم کی دینی‘ ملی اور قومی خدمات کو ان کے لئے صدقہ جاریہ بناکر قیامت کے لئے توشہ آخرت بنائے ان جیسی ہستیوں کا وجود کسی قوم کا حسن ہوتا ہے ورنہ تو معاشرہ تاریکی میں ڈوب جاتا ہے۔