224

ناقص اور قلیل غذا

عزت نفس ہر کسی کو پیاری ہوتی ہے‘ جان محمد نے اچھا کیا جو بطور آئی جی پولیس اسلام آباد کام کرنے سے انکار کردیا‘ ہر کوئی سرکاری نوکری دولت کمانے کیلئے نہیں کرتا‘ بیشتر لوگ سرکاری ملازمت عزت کمانے کیلئے کرتے ہیں‘اس قسم کے لوگ اچھے مناصب پر بھی لات مار دیتے ہیں اگر ان کے مناصب کے تقاضوں کا لحاظ نہ کیاجائے‘ حکومت کے کارندوں کو البتہ ہوش کے ناخن لینے چاہئیں کیونکہ اگر دیانتدار‘ محنتی اور قانون کا پاس رکھنے والوں کی حوصلہ شکنی ہوتی رہی کہ جس طرح اعظم سواتی کے کیس میں جان محمد کی ہوئی ہے تو ملک کے انتظامی ڈھانچے میں برین ڈرین پیدا ہوسکتا ہے جس کا سب سے زیادہ نقصان ا گر کسی کا ہوگا تو حکومت وقت کا ہی ہوگا‘یہ تو بھلا ہو میڈیا کی بیدار مغزی اور عدالت عظمٰی کے ججوں کی مستعدی کا کہ وہ معاشرے میں پھیلی ہو ئی سماجی بیماریوں اور ناہمواریوں کا بروقت نوٹس لیکر حتیٰ الوسع ان کو درست کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں‘ ورنہ اونچ نیچ اور معاشی طورپر استحصال زدہ اس معاشرے میں عام آدمی پر آئے دن ہونے والی زیادتیوں کا نوٹس کون لے سکتا ہے؟ اس جملہ معترضہ کے بعد اب ہم آتے ہیں اس اہم مسئلہ کی طرف کہ جس کو آج ہم اپنے کالم کا موضوع بنانا چاہتے ہیں ا ور وہ ہے اقوام متحدہ کی چار مختلف ایجنسیوں کی رپورٹ کہ جن میں ایشیا اور بحر الکاہل کے علاقوں میں واقع ممالک کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر انہوں نے اپنے ہاں سے 2030 تک مختلف اقسام کی ناقص غذا ختم نہ کی تو نہ صرف یہ کہ ان کی معیشتوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا وہاں بسنے والے کروڑوں انسان لقمہ اجل بن جائیں گے۔ یہ حقیقت چشم کشا ہے کہ ایشیا اور بحرالکاہل کے ریجن میں بسنے والے 50 کروڑ لوگ ناقص اور قلیل ترین غذا کھا رہے ہیں۔

دنیا میں بھوک میں اضافہ ہو رہا ہے‘پاکستان میں صرف4 فیصد بچوں کو قلیل ترین قابل قبول غذا دستیاب ہوتی ہے۔ دنیا میں قلیل ترین ناقص غذا کھانے والے بچوں کی آدھی تعداد ایشیا اور بحرالکاہل کے علاقوں میں رہتی ہے‘ اس علاقے میں پانچ برس سے کم عمر کے چار بچوں میں ایک بچہ غیر کامل نمو کا شکار ہے۔ اقوام متحدہ کی مندرجہ بالا رپورٹوں میں ایک دوسری نہایت ہی اہم بات کی طرف بھی اشارہ کیاگیا ہے اور وہ یہ ہے کہ ایشیا اور بحرالکاہل میں کئی جگہ فاضل وزن کے بچے بھی دیکھنے میں آئے ہیں تقریباً15 ملین بچے جن کی عمر پانچ برس سے کم ہے۔ فاضل وزن کے ہیں اور اس کی بڑی وجہ اس خطے میں جنک فوڈ کی فروخت کی فراوانی ہے کہ جس میں نمک اور چینی جیسی غیر ضروری جزئیات بے پناہ ہوتی ہیں‘ غیر کامل نمو یا نشوونما اور فاضل وزن یہ دونوں ایسی مہلک قسم کی ابتدائی بیماریاں ہیں کہ جو بعد میں جاکر انسانی جسم کو وقت سے پہلے تباہ کر دیتی ہیں۔

غیر کامل نمو یا نشوونما کی وجہ تو غربت ہے‘ مفلوک الحال والدین کی جیبوں میں اتنے پیسے نہیں ہوتے کہ وہ اپنے لئے اور اپنے بچوں کیلئے دو وقت کی روٹی پیدا کرسکیں‘ کجا یہ کہ اپنے بچوں کو دودھ مہیا کرسکیں یا فروخت کھلاسکیں‘ غریب والدین کی معاشی حالت تب ٹھیک ہوگی جب ملک میں دولت کی منصفانہ تقسیم ہوگی جب ایسا سماجی معاشرہ پیدا ہوگا کہ جس میں ایک ہی قسم کا کھانا جاگیردار اور اس کا مزارع‘ مل کا مالک اور اس کی مل کا مزدور ایک ہی دستر خوان پر بیٹھ کر کھایا کرے گا‘ سرمایہ دارانہ اور جاگیر دارانہ نظام میں تو ہمیشہ غیر کامل نمو کے بچے ہی پروان چڑھا کریں گے جہاں تک فاضل وزن کے بچوں کا تعلق ہے یہ اس ملک کی فوڈ اتھارٹیوں کی غفلت اور نالائقی کا نتیجہ ہے کہ مارکیٹ میں جنک فوڈ کی بھرمار ہے اس ضمن میں والدین بھی اپنے بچوں کو منع نہیں کررہے کہ وہ اس قسم کی خوراک نہ کھائیں ۔