54

چین سے اچھی خبریں

حسب روایت وزیراعظم عمران خان دوست ملک چین کا کامیاب دورہ مکمل کرکے وطن واپس آگئے ہیں‘ وہ ایسے وقت میں چین روانہ ہوئے تھے جب ملک ایک عدالتی فیصلے کے خلاف احتجاج کی زد میں تھا‘ عام حالات ہوتے تو شاید وہ اپنا غیر ملکی دورہ ملتوی کردیتے مگر چین کا دورہ کئی حوالوں سے اہمیت کا حامل تھا‘ ویسے تو ہمارا ہر نیا وزیراعظم اپنا اقتدار سنبھالنے کے بعد سعودی عرب اور چین کے دورے سب سے پہلے کرتا ہے اور عام طورپر یہ کامیاب ہی ہوتے ہیں‘ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر حکومت چین کیساتھ درجن بھر معاہدے ضرور کرتی ہے‘ البتہ سابقہ مسلم لیگی حکومت کے معاہدوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے کیونکہ سابق وزیراعظم نوازشریف اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف تقریباً ہر دو ماہ بعد چین جاتے تھے اور معاہدے بھی کرتے تھے‘ اب یہ معلوم نہیں کہ ہر یار کون سے نئے معاملات پر معاہدے ہوتے ہیں‘ وزیراعظم عمران خان بھی 15 معاہدے کرآئے ہیں‘ ان میں سب سے خوش کن وعدہ چین کی طرف سے مجموعی طور پر 6ارب ڈالر کی مالی امداد کا ہے‘ جس کی ہمیں اشد ضرورت ہے‘ اس کے علاوہ چین سے تجارت کو ڈالر سے نہیں بلکہ اپنی لوکل کرنسیوں سے کرنے کا معاہدہ بھی اہم ہے‘ اب یہ واضح نہیں کہ یو آن اور روپے میں کیا شرح تبادلہ ہوگی یا کیا طریقہ کار ہوگا مگر یہ بھی ایک اچھی پیش رفت ہے کہ بین الاقوامی تجارت کیلئے ڈالر پر انحصار نہیں کرنا پڑے گا‘ اس کے علاوہ وزیراعظم نے ہر جگہ پر تقریر میں پاکستان کے مسائل کو کرپشن کا نتیجہ قرار دیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ کرپشن کے خاتمے کیلئے چین کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں گے‘ اب پتہ نہیں عمران خان کو چین میں بدعنوانی کے بارے میں کیا بتایا گیا ‘ یہ ضرور ہے کہ سرکاری افسران اور سیاسی و حکومتی عہدیدار رشوت لینے کی جرات نہیں کرتے کیونکہ وہ قوانین سخت ہیں اور علمدرآمد میں کوئی رعایت نہیں‘ چین کی منصوعات اگرچہ سستی ہونے کی بناء پر دنیا بھر میں خوب بکتی ہیں مگر معیار میں بہت خراب ہوتی ہیں۔

بلکہ یہ ناپائیدار ہونے میں چین کا بنا ہونا ایک ضرب المثال ہے اور یہ تجارت سے لیکر حکومتی سطح کے معاہدوں کی تکمیل میں بھی عام ہوتاہے‘ ہمارے سامنے چین سے منگوائے گئے ریل کے انجن اور ڈبے موجود ہیں جو ایک سال میں ہی ناقابل استعمال ہوگئے تھے‘ بہر حال چین میں کوئی شخص اپنے منصب اور عہدے کو استعمال کرکے کسی بدعنوانی یا کرپشن کا سوچ بھی نہیں سکتا‘ اشیائے خوردونوش میں ملاوٹ کو ناقابل معافی جرم سمجھا جاتا ہے اور ملک کو چلانے کیلئے اتنا کافی ہے‘کچھ لوگوں کو اعتراض ہے کہ چین میں وزیراعظم کو سرمایہ کاروں کی کانفرنس میں ملک کا منفی تاثر نہیں دینا چاہئے ‘ بالخصوص کرپشن کے خلاف اتنا کھل کر نہیں بولنا چاہئے تھا‘ یہ اعتراض کرنیوالے اتنے بھولے ہیں کہ ان کو یہ بھی پتہ نہیں کہ پاکستان میں سرمایہ لانے کی سوچنے والے پہلے معلومات لیتے ہیں اور ان کو اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں کرپشن کی شرح کیا ہے‘ وزیراعظم نے ان کو صرف یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ اب پاکستان میں حالات بدل چکے ہیں اور کرپشن کے خلاف سخت اقدامات کے باعث کوئی بھی کرپشن نہیں کرسکے گا تو پاکستان کا کرپشن کے خلاف ہونے کا تاثر مزید مضبوط ہوگا‘ ایک اور اہم بات سی پیک میں کوئی ردوبدل نہ کرنے کا اعلان بھی ہے جو اس تاثر کوختم کرے گا کہ حکومت سی پیک میں تبدیلیاں کررہی ہے‘ ۔

گرچہ سی پیک کے منصوبوں کا اعلان ہونے کیساتھ ہی اعتراضات اور تحفظات بھی سامنے آنے لگے تھے‘ وفاقی حکومت کی طرف سے پردہ پوشی کی کوشش اور وزیراعلیٰ پنجاب کے براہ راست چین کے دورے اور معاہدے دوسرے منصوبوں کیلئے پریشانی کا باعث تھے مگر یہ چینی قیادت کا تدبر تھا کہ دوسرے تین صوبوں کو بھی اعتماد میں لیکر نئے منصوبوں کا بھی اعلان کیا‘ اب ان پر تیزی سے کام شروع ہے اور حکومت کی ردوبدل کی متحمل نہیں ہوسکتی اوراگر چین میں اس بات کا اعلان ہوتا ہے تو یہ حکومت کے مخالفین کی پروپیگنڈہ مہم کے خلاف اچھا توڑ ہوگا‘ بہر حال جس طرح وزیراعظم چین روانہ ہوتے وقت ایک عدالتی فیصلے اور مذہبی جماعت کے احتجاج کو چھوڑ گئے تھے‘ اگرچہ وہ دھرنے بہتر حکمت عملی کیساتھ پرامن ختم کرادیئے گئے ہیں مگر جب واپس آئے ہیں تو اس کے آفٹر شاکس باقی ہیں‘ ان دھرنوں اور مظاہروں کے دوران حکومت ‘ عدلیہ اور آرمی کے خلاف تقریروں اور نجی وسرکاری املاک کو نقصان پہنچانے پر قائم مقدمات پر پیش رفت کا فیصلہ کرنا ہے‘ خیر ہمارے گھر میں تو کوئی نہ کوئی بحران رہتا ہی ہے‘ چین سے ا چھی خبریں آرہی ہیں اور بہتر یہ ہے کہ اس پر کچھ دیر کیلئے ہی سہی‘ خوش ہونا چاہئے۔