39

زاویہ نظر

کسی بھی تصویر کو دیکھنے کے انداز سے دیکھنے والا اس کے متعلق اپنے دیکھنے کے زاویئے سے ہی اس کی تفصیل بیان کرتا ہے‘ جس نے جس سمت سے تصویر پر یا کسی منظر پر نظر ڈالی وہ اس کو اپنے مطابق ہی بیان کر پائے گا بعض اشیاء کو دیکھنے سے پہلے سن کر ہی کوئی بندہ ایک تا اثر اس کے متعلق بنا لیتا ہے اور جب وہ چیز سامنے آتی ہے تو وہ اپنے تصور کو اس چیز پر منطبق کر کے کوئی نتیجہ نکالتا ہے‘ جب آپ پہلے سے ایک نظریہ بنا لیں تو بڑا مشکل ہوتا ہے کہ آپ اس کو اصلی صورت میں دیکھ پائیں‘ جب آپ مان لیتے ہیں کہ فلاں شخص میں فلاں برائی ہے تو جب آپ ا سے ملتے ہیں توآپ لا محالہ اس کو اسی نظر سے دیکھتے ہیں ‘چنانچہ ٓاپ کے سامنے اسکی خوبیاں ہیچ ہو جاتی ہیں ‘ اسلئے کہ آپ نے ازخود ایک تصویر اپنے ذہن میں بنا لی ہے اسلئے وہ تصویر آپ کے اپنے ذہن سے ہٹانے میں دیر لگتی ہے اور آپ کئی ملاقاتوں کے بعد بھی یہی سمجھتے ہیں کہ ا س بندے میں فلاں برائی ضرور ہے۔ چاہے وہ کتنا ہی پاک کیوں نہ ہو‘اسی لئے ضروری ہے کہ آپ کسی ایسے شخص کے متعلق اپنے ذہن میں کوئی بھی خیالی تصویر نہ بنائیں جسکے متعلق آپ اچھی طرح جان نہ جائیں‘مسئلہ یہی ہے کہ ہمیں بہت سے لوگ مجرم لگتے ہیں کہ ہم نے ان کے متعلق ایک بت اپنے ذہن کے صحن میں بنا رکھا ہے‘ہما رے چند اداروں نے مسلم لیگ ن کے قائدین کیلئے ایک بت اپنے ذہن میں بنا رکھا ہے جس کو اپنے ذہن سے محو کرنے میں دشواری پیش آ رہی ہے اسی لئے ان سے مقدمات کا جن کسی بھی پیر کی پھونک سے اتر نہیں رہا۔ کتنے دن ہو گئے ہیں کہ شہباز شریف کو نیب نے اپنا مہمان بنا رکھا ہے‘ اب جو تصویر نیب کے کاغذوں میں انکی بن گئی ہے ۔

وہ کسی بھی طرح مٹ نہیں پا رہی۔ گو اتنے دنوں کی رات دن کی ٹارچر کے باوجود نیب کو پنے مطلب کا شہباز شریف نہیں مل رہا اسلئے وہ کسی صورت میں اس کی گلو خلاصی نہیں کر رہی کہ جب تک شہباز شریف مان نہ لے کہ جو کچھ نیب نے سوچا ہے وہی شہباز شریف ہے۔ یہ تو معلوم ہے کہ اس شخص نے جس طرح پنجاب کو چلایا ہے اسکے متعلق غیر بھی اعتراف کرتے ہیں‘ ایک ڈیلیگیشن سندھ سے پنجاب کے وزٹ پر آیا تھا تو ساری اطراف کا جائزہ لینے کے بعد ان کا تجزیہ یہ تھا کہ ایک شہباز شریف اگر سندھ کو بھی مل جائے تو اس صوبے کی بھی قسمت بدل سکتی ہے۔جس طرح اس شخص نے اپنے دن رات اس صوبے کی خدمت میں صرف کئے ہیں اس کا جواب نہیں مگرچند محکموں نے کسی بھی وجہ سے ایک امیج اس شخص کا ایسا بنا لیا ہے کہ وہ انکوسر تا پاکرپشن میں ملوث لگتا ہے۔ایک سربراہ جب اپنے صوبے میں کسی چیز کو غلط ہوتے دیکھتا ہے تو وہ اس کی درستگی کیلئے اقدام کرتا ہے اسکے یہ اقدام اٹھانے میں کئی ہوں گے جو متاثر ہوئے ہوں گے اور انہوں نے کئی الزامات گھڑے ہوں گے اگر وہ الزامات جھوٹے ہیں تو نیب کس طرح ان کو صحیح ثابت کرے گا‘مگر نیب نے بھی یہ ٹھان لی ہے کہ اس نے شہباز شریف کو غلط ثابت کرنا ہی کرنا ہے۔

ا سلئے وہ دن رات اس شخص کو اذیت میں مبتلا کئے ہوئے ہے‘ اور عدالت بھی نیب کو ریمانڈ دیئے جا رہی ہے‘ اگر کوئی آدمی مجرم ہے تو اس کو مجرم ثابت کرنے کیلئے مہینے درکار نہیں ہوتے خصوصاً وہ لوگ جنہوں نے تھانے کچہری کی ماریں نہ کھائی ہو ں وہ تو دو دن میں ہی سب کچھ اگل سکتا ہے‘لیکن اگر اس نے کوئی جرم کیا ہی نہ ہو پھر یہ بہت مشکل ہوتا ہے کہ اس سے نا کردہ جرم کا اقرار کروالیا جائے‘اب شہبازشریف وغیرہ توایسے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں کہ جسکی انڈسٹریوں میں سینکڑوں لوگ روزی روٹی کمارہے تھے اور کمارہے ہیں اب ان کو ایسے میں دیکھناکہ جیسے بندہ خود ہو تو بات بن نہیں سکتی‘چیف جسٹس صاحب نے بڑے مزیدارریمارکس نوازشریف کے مقدمے میں دیئے کہ اسکی سزا کو تو بحال ہونا ہی ہونا ہے اسلئے کہ لندن کے فلیٹوں کی خریداری کیلئے پیسے ہوا سے تو نہیں آئے تھے۔ ظاہر ہے کہ یہ نواز شریف ہی نے دیئے ہیں‘مگر افسوس کہ جب نواز شریف کیخلاف انکوائری ہوتی ہے تو لوگ ایک چیز کو مس کر دیتے ہیں کہ ایک شخص اس دنیا میں میاں محمد شریف بھی تھااور اسی شخص نے محنت کر کے ایک ایمپائر کھڑی کی تھی ‘ جب آپ میاں محمد شریف مرحوم کو درمیان سے نکال دیں گے تو پھر سارا شریف خاندان آپ کو چور ڈاکو ہی نظر آئے گا۔ عدالتیں اگر انصاف کی بات کرتی ہیں تو ان کو میاں محمدشریف مرحوم کو درمیان سے نکالنا نہیں ہوگا اوریہ بھی کہ میاں صاحب نے اپنی جائیداد اپنے پوتے کے حوالے کی تھی۔