467

سرکاری آفیسرز سے نان کسٹم پیڈ گاڑیاں واپس لینے کا فیصلہ

پشاور۔خیبر پختونخوا کابینہ نے سرکاری محکموں کے مجاز اور غیر مجاز افسروں کے زیر استعمال نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو فوری طور پر واپس لینے کی منظوری دیدی ہے جبکہ چترال کو دو حصوں میں تقسیم کرنے سمیت صوبے میں ایک ارب درخت لگانے اور اسلامی نظریاتی کونسل کی ہدایات کے مطابق گھریلو تشدد کے تدارک کا بل بھی منظور کر لیا ہے ۔

صوبائی کابینہ کا اجلاس جمعرات کے روز وزیراعلیٰ محمود خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں متعدد فیصلے کئے گئے بعدازاں وزیر اطلاعات شوکت علی یوسفزئی نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی کابینہ نے چائلڈ پروٹیکشن بل میں ترمیم کی منظوری دی ہے جس کے تحت چیف پروٹیکشن افسر کے لیے تجربے کی مدت کو 15 سالوں سے کم کرتے ہوئے 10 سال کردیاگیاہے اور اس میں ترجیح خواتین کو دی جائے گی ۔

انہوں نے کہا کہ چونکہ دیگر تین صوبوں میں صوبائی محتسب کی مراعات ہائی کورٹ کے جج کے مساوی ہیں ا س لیے ہم نے بھی صوبائی محتسب وقار ایوب کی مراعات کو ہائی کورٹ کے جج کے برابر کرنے کی منظوری دی ہے جبکہ پہاڑی علاقے جہاں ہم سیاحت کے فروغ کے لیے سڑکیں بنانا چاہتے ہیں وہاں جنگلات آڑے آرہے تھے اس لیے متعلقہ قانون میں ترامیم کے لیے سینئر وزیر عاطف خان کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو ترامیم تجویز کرتے ہوئے کابینہ کو پیش کرے گی اور کابینہ ہی ان کی منظوری دے گی۔

انہوں نے کہا کہ بلین ٹری سونامی منصوبے کی آڈٹ رپورٹ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سامنے پیش کرنے سے قبل منظر عام پر لانا خلاف قانون ہے کیونکہ معاملات کا جائزہ لینے کے بعد ہی اسے حتمی شکل دی جاتی ہے انہوں نے کہا کہ غیر مجاز افراد کے زیر استعمال 99 گاڑیاں ریکور کرلی گئی ہیں جن کی نیلامی کی جائے گی جبکہ یہ بھی واضح رہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے زیر استعمال صرف ایک ہی گاڑی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبہ میں شوگرملوں سمیت دیگر کارخانے لگانے کے لیے این او سی کی شرط ختم کردی گئی ہے تاکہ صوبہ میں سرمایہ کاری آسکے تاہم یہ اقدام صنعتیں لگانے کے لیے ہے نہ کہ صرف مراعات لے کر واپس چلے جانے کے لیے جیسا کہ گزشتہ حکومتوں کے ادوار میں ہوتا رہا۔