479

سو سال پہلے کی بات ہے

یہ سو سال پہلے کی بات ہے مگر اسمیں کچھ سبق ہیں گیارہ نومبر1918کے دن صبح گیارہ بجے چند جرمن فوجی افسر جنگل سے گزر کر ایک ریل روڈ کار میں داخل ہوئے ریل گاڑی کے اس دفتر نما ڈبے کا نمبر 2419D تھا اور اس میں اتحادی افواج کے چند افسراپنے جرمن ہم منصبوں کا انتظار کر رہے تھے اس روز ان سب نے ملکرپہلی جنگ عظیم کے اختتام کے ایک معاہدے پر دستخط کئے اس دن کا پوری دنیا کو انتظار تھا چار سال تک جاری رہنے والی اس جنگ میں کم از کم سولہ ملین لوگ ہلاک ہوے تھے یہ جنگ اگست 1914 میں شروع ہوئی تھی اسکی ظاہری وجہ تو اسی سال جون کے مہینے آسٹریا کے شہزادے Franz Ferdinandاور انکی بیوی کا قتل تھا مگر مؤرخین نے اسکی چار دوسری وجوہات بھی بیان کی ہیں ان وجوہات کو انہوں نے ایک لفظ میں سمو دیا ہے یہ لفظ MAIN ہے اسمیں ایم سے مراد Militarism ہے ‘ اے الائنس یعنی اتحاد کو ظاہر کرتا ہے آئی Imperialism یعنی شہنشاہیت اور نون نیشلزم کی نشاندہی کرتا ہے آج کا دور سو سال پہلے کی دنیا سے اسلئے مماثلت رکھتا ہے کہ آج ہرچھوٹا بڑا ملک زیادہ سے زیادہ اسلحہ جمع کرنے کے جنون میں مبتلا ہے ملٹری ازم کے اس دور میں صدر ٹرمپ نے روس کیساتھ 28 سالہ پرانے نیوکلیئر ہتھیار بنانے پر پابندی کے معاہدے کو ختم کر دیا ہے بھارت ‘ روس اور امریکہ دونوں سے اربوں ڈالر کا اسلحہ خرید رہا ہے چین اور امریکہ کے بحری بیڑے جنوبی چین کے سمندر میں آمنے سامنے کھڑے ہیں جنوبی ایشیا کے ممالک امریکہ اور چین اتحادوں میں تقسیم ہو چکے ہیںآج کے دور میں سو سال پہلے کی دنیا کی طرح پاپولزم کے پردے میں مطلق العنانیت کو فروغ مل رہا ہے اسے ان دنوں امپیرلزم کہا جا تا تھا آج ٹرمپ‘ پیوٹن‘ اردوان‘ مودی اور کئی دوسرے حکمران بادشاہوں کی طرح امور مملکت چلا رہے ہیں جہاں تک قوم پرستی کا تعلق ہے تو آج کی دنیا کا ہر ملک نہ سہی ہر بڑی طاقت مکمل طور پر نیشلزم کی گرفت میں ہے ہر ملک اپنی قومیت‘ مذہب اور تہذیب کے اعلیٰ و ارفع ہونے کے زعم میں مبتلا ہے۔

پہلی جنگ عظیم سے پہلے کی دنیا دو دھڑوں میں منقسم تھی ایکطرف برطانیہ‘ فرانس‘‘ روس‘ اٹلی‘ جاپان اور امریکہ تھے اور دوسری طرف جرمنی ‘ آسٹریا ‘ ہنگری‘ بلغاریہ اور سلطنت عثمانیہ کے ممالک تھے اس جنگ کے آغاز سے پہلے دونوں اطراف سے چند دنوں میں مکمل فتح کے وعدے کئے گئے تھے مگریہ خون ریزی چار برس تک جاری رہنے کے بعد جرمنی کے شکست تسلیم کرنے پر ختم ہوئی تھی جرمن قیادت نے اس جنگ کے اختتام کا اعلان گیارہ نومبر 1918 کو کیا تھا مگر اس جنگ بندی کا با ضابطہ معاہدہ اٹھائیس جون 1919 کو فرانس کے شہر Versailles میں ہوا تھا اس حوالے سے اسے Traties of Versailles کہا جا تا ہے اس جنگ میں جو تین بڑی سلطنتیں اختتام کو پہنچی تھیں ان مین سے ایک سلطنت عثمانیہ تھی دوسری آسٹریا اور ہنگری کی Austro Hungarian Empire تھی اور تیسری جرمنی میں Fredrich Wilhelm کی بادشاہت تھی ان دنوں ایکطرف بادشاہتیں ختم ہو رہی تھیں تو دوسری طرف لوگ جمہوری نظام حکومت سے بھی زیادہ مطمئن نہ تھے یورپی ممالک میں کمیونزم تیزی سے پھیل رہا تھا پہلی جنگ عظیم کے اختتام پر کئی لاکھ لوگ مختلف متعدی بیماریوں کا شکار تھے اور ایک بڑے قحط کے آثار نظر آ رہے تھے۔
اس وقت جرمن قوم کی اکثریت کئی سالوں تک اپنے ناقابل تسخیر ہونے کے قصے سننے کے بعد ایک بڑی شکست کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہ تھی گیارہ نومبر 1918 کے دن ایڈولف ہٹلر زخمی حالت میں Pomerania نامی گاؤں کے ہسپتال میں زیر علاج تھا اسنے جب جنگ بندی اور جرمنی کی شکست کی خبر سنی تو اسکی آ نکھوں سے آنسو بہنا شروع ہوے وہ اتنا رویاکہ اسکی آنکھوں میں اندھیرا چھا گیا اسنے 1925 میں شائع ہونیوالی کتاب Mein Kampf (میری جہدو جہد) میں لکھا ہے کہ گیارہ نومبر 1918 ایک ’’ شیطانی دن‘‘ تھا۔

اس دن جرمن قوم اپنے وقار ‘ شان و شوکت اور عظمت سے محروم ہو گئی تھی ایڈولف ہٹلر نے اسی روز سیاست میں حصہ لینے کا عہد کیا اسکی سیاست الزام تراشی‘ غصے اور نفرت کی سیاست تھی اسنے جرمن قوم پرستی کے رتھ پر سوار ہو کر اقتدار حاصل کیا اس نے یکم ستمبر1939 کو پولینڈ پر حملہ کر کے دوسری جنگ عظیم کا آغاز کیا تھا اسکے ایک سال بعد فرانسیسیوں کو اسی ریل روڈ کار نمبر 2419Dمیں بلا کر ہتھیار پھینکنے کے معاہدے پر دستخط کروائے پھر کہا کہ یہ دن بھی اسکے انتقام کی پیاس بجھانے کیلئے کافی نہ تھا ہٹلر نے دوسری جنگ عظیم میں اپنی خود سری‘ خود پسندی اور بے پناہ خود اعتمادی کی وجہ سے شکست کھائی اسنے آخری دنوں میں اپنے جرنیلوں سے مشاورت بھی چھوڑ دی تھی اسکی زندگی کے آخری دنوں میں اسکی فوج مختلف محاذوں پر بکھری ہوئی تھی وہ تنہا ہو چکا تھا مگر تلخ حقائق کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہ تھا یہ جنگ آٹھ مئی 1945 کوجرمن افواج کے ہتھیار ڈالنے پر ختم ہوئی تھی اس سے پہلے تیس اپریل 1945 کو ہٹلر نے سر میں گولی مار کر خودکشی کر لی تھی اسمیں پچاس ملین لوگ جنگ کے دوران اور تیس ملین بیماریوں اور فاقوں سے ہلاک ہوے تھے ساحر لدھیانوی نے اسی قسم کی ہولناک جنگ کے بارے میں کہا ہے ۔
گزشتہ جنگ میں گھر ہی جلے مگر اس بار
عجب نہیں کہ یہ تنہائیاں بھی جل جائیں
گزشتہ جنگ میں پیکر جلے مگر اس بار
عجب نہیں کہ یہ پر چھائیاں بھی جل جائیں

اب گیارہ نومبر 2018 کے دن درجنوں ممالک کے لیڈر پیرس میں جمع ہوئے تا کہ وہ سو سال پہلے ہونے والے امن معاہدے کی تجدید کر سکیں ان لیڈروں میں سب سے نمایاں ڈونلڈ ٹرمپ تھا جو روس اور ایران کیساتھ امن معاہدے ختم کر چکا ہے اس گروہ میں ولادی میر پیوٹن بھی شامل تھا جو کئی برسوں سے روس کا مرد آہن بنا ہوا ہے اس میں ترکی کا طیب اردوان بھی تھا جو ہزاروں مخالفین کو قید کرنے کے باوجود ایک جمہوری حکومت کاصدر کہلاتا ہے اتوار کے دن پیرس میں جمع ہونیوالے سربراہوں کے اس ہجوم میں دو لیڈر ایسے بھی تھے جو سو سال پہلے ہوے امن معاہدے کو آج بھی یورپ کی بقا کا ضامن سمجھتے ہیں ان میں سے ایک فرانس کے صدر ایمینول میکرون تھے اس تقریب کے میزبان کی حیثیت سے تقریر کرتے ہوے انہوں نے کہا کہ ’’ محب ا لوطنی قوم پرستی کی ضد ہے‘ ہر قوم پرست یہ کہتا ہے کہ اسکا مفاد سب پر مقدم ہے اور اسے کسی دوسرے کی پرواہ نہیں‘‘ یورپ کو سو سال پہلے والے امن معاہدے پر قائم رہنے کی تلقین کرنے والی دوسری لیڈر جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل تھیں جرمنی میں کئی برسوں سے قوم پرستوں کا مقابلہ کرنے کے بعد بلاخر انہوں نے چند روز پہلے اگلے سال سیاست سے ریٹائر ہونے کا اعلان کیا ہے‘انجیلا مرکل کا سیاست سے دستبرداری کا اعلان ظاہر کرتا ہے کہ یورپ ایک مرتبہ پھرنسلی تعصب اور قوم پرستی کے انہی جنات کے قبضے میں ہے جو سو سال پہلے اس پر چھائے ہوئے تھے اس بر اعظم کی نئی قیادت نے اب یہ ثابت کرنا ہے کہ اسنے اپنی خون آلود تاریخ سے کوئی سبق سیکھا ہے یا نہیں برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل نے دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر کہا تھا کہ جو تاریخ سے سبق نہیں سیکھتے وہ اسے دہرانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔