2398

چرس کا استعمال

کینا بس ایک پودا ہے جو دنیا کے بہت سارے ممالک میں ہزارہ ہر سال سے خود رو پودے کی طرح اگتا ہے مثال کے طور پر تائیوان کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ دس ہزار سال پہلے بھی یہ پودا وہاں اگتا تھا۔ پاکستان میں چترال کے علاوہ کئی دوسرے علاقوں میں یہ پودا صدیوں سے اگ رہا ہے۔ چند عشرے پہلے جب سے اس کے قیمتی ہونے کا لوگوں کو پتہ چلا ہے تو اس کی باقاعدہ کاشت بھی شروع ہوگئی ہے۔ پاکستان کے علاقے وادی تیراہ میں یہ کافی مقدار میں کاشت کیا جاتا ہے۔ دولت کمانے کی حرص میں کاشت کرنے والوں نے نہ سوچا کہ سب سے زیادہ اس کا شکار ان کی اپنی قوم اور اولاد ہوگی اور اس طرح اپنے گھر کو اپنی دولت کے چراغ سے آگ لگانے کی حماقت کر بیٹھے۔ میرے پاس اعداد و شمار تو نہیں ہیں لیکن یہ بات یقینی ہے کہ پٹھان اور خاص کر قبائلی پٹھان چرس استعمال کرنے کے لحاظ سے بہت آگے ہیں۔ اسی طرح ٹرانسپورٹ کا زیادہ تر کاروبار بھی پٹھانوں کے ہاتھ میں ہے‘ ڈرائیور سے کنڈیکٹر تک چرس کا استعمال کرتے ہیں اور وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ گاڑی چلاتے وقت ان کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ کسی ٹنل سے گزر رہے ہیں اپنے اردگرد کی چیزیں نظر نہیں آتیں اور وہ صرف ناک کی سیدھ صحیح طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ ہمارے ملک میں ٹریفک ایکسڈنٹ کی بڑی وجوہات میں ایک وجہ ڈرائیوروں کی نظر پر اس کا اثر بھی ہوسکتا ہے۔
اس پودے میں نر اور مادہ دونوں قسمیں پائی جاتی ہیں اور دونوں قسموں یں بڑا فرق ہے۔ اس پودے کے مختلف حصوں میں اس نشہ آور چیز جس کو ڈاکٹر زبان میں بڑا لمبا چوڑا نام دیا گیا ہے کو مختصر THC کہا جاتا ہے اور پاکستان میں اس کو چرس کہتے ہیں جبکہ ہندوستان میں گانجا‘ عرب ملکوں میں حشیش اور افریقہ کے بعض علاقوں میں کیف کے نام سے جانا جاتا ہے۔ مغرب والوں نے اس کے نشے کی محبت میں اس پودے کے کئی نام رکھے ہیں مثال کے طور پر ایک نام میری وانا اس کے علاوہ گراس‘ پاٹ اور خدا جانے کئی اور نام بھی لیتے ہیں۔ چرس مادہ پودے میں بہت زیادہ ہوتی ہے خاص کر اس کے پھولوں والے حصے میں۔ یہ پھولوں کو کرش کرنے یا دبانے سے ایک رطوبت کی شکل میں نکلتی ہے اور پھر کیک کی طرح جم جاتی ہے۔ نر پودے میں برائے نام چرس ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ پتوں میں بھی چرس کی مقدار ہوتی ہے۔ لیکن جہاں پر اس کا استعمال کیا جاتا ہے وہاں اس کو بھنگ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اور یہ پتے مختلف طریقوں سے استعمال کئے جاتے ہیں۔ زیادہ تر اس کو گھوٹ کر دودھ‘ پانی یا شربت میں ملا کر مشروب کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ پنجاب کی خانقاہوں یا مزاروں پر لوگوں کے گروہ کے گروہ بھنگ پیتے ہیں اور باقی دنیا سے کنارہ کشی اختیار کر لیتے ہیں۔ جہاں یہ رہائش اختیار کرتے ہیں اس جگہ کو تکیہ کہا جاتا ہے۔ سرور میں آکر گنگرو بجاتے ہیں‘ ناچتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اپنے پیر کے نام کا ورد بھی کرتے ہیں۔ باقی کسی اور عبادت سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ سماجی تقریبات میں بھی بھنگ استعمال کرتے ہیں مثال کے طور پر شادی کے دوران مذاق کے طور پر ایک دوسرے کو بھنگ کے پکوڑے کھلانا عام دستور ہے۔ اس پودے کا سب سے پرانا استعمال یہ تھا کہ اس کے ریشے کی ڈنڈیاں نہایت مضبوط رسی بنانے کے کام آتی تھیں لیکن بعد میں یہ روحانیات میں استعمال ہونے لگیں۔ مخٌلف مذاہب کے بعض رسموں کی ادائیگی کے وقت ان کو جلایا جاتا یا ان کی دھونی دی جاتی۔
چرس پاکستان میں پہلے پہل صرف صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں لوگ استعمال کرتے تھے اب سارے پاکستان میں استعمال ہونے لگی ہے حتیٰ کہ امارات اور سعودی عرب میں بھی چرس کا ملنا محال نہیں۔ اگر آپ طب کی پرانی کتابیں پڑھیں تو چرس کے درجنوں مفاد بیان کئے گئے ہیں چرس کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ مختلف لوگوں پر مختلف وقتوں میں اور مختلف ماحول میں یہ مختلف اثرات پیدا کرتی ہے اکثر و بیشتر چرسی لوگ مل کر محفل جماتے ہیں اور زیادہ تر اس کے سرور اور س کون کی تاثیر بیان کرتے ہیں۔ لیکن دوسری طرف بعق لوگوں پر اس کا بہت برا اثر بھی ہوتا ہے جس میں سر کا چکرانا‘ سر گنگس ہونا‘ قے اور نڈھالی عام طور پر بیان کئے جاتے ہیں۔ اسی طرح بعض لوگوں کو بھوک زیادہ لگتی ہے اور بعض میں بالکل مر جاتی ہے۔ اکثر و بیشتر چرسی نحیف اور کمزور ہوتا ہے۔ چرس جنسی طاقت پر بھی متضاد اثراد رکھتی ہے۔ چرس کا Reaction بہت برا ہوتا ہے اور استعمال کرنے والے پر شک کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے وہ اپنے ماحول کو بدلا بدلا محسوس کرتا ہے۔ اسی طرح اپنی ذات کے متعلق بھی مشکوک سا رہتا ہے کہ اس میں کوئی تبدیلی آئی ہے کیا میں وہی ہوں جو پہلے تھا۔ اس کو طبی اصطلاح میں Derealization اور Depersonalization کہا جاتا ہے۔ کئی مریض ہمارے پاس اس حالت میں لائے گئے ہیں جن پر یہ کیفیت ایک دو کش لگانے سے پیدا ہوگئی اور وہ مہینوں کبھی کبھی سال سے بھی زیادہ اس کڑھن میں کڑھتے رہے کہ کیا میرا ماحول بدل گیا ہے یا میری ذات؟ سخت بے چینی کا شکار رہتے ہیں۔ چرس بعض لوگوں کے لئے خواب آور ہے اور بہت سے نشئی رات کو سوتے وقت ایک سگریٹ ضرور پیتے ہیں کیونکہ اس کے بغیر ان کو نیند نہیں آتی۔ پڑھے لکھے لگوں میں سب سے بری تاثیر جو میں نے نوٹ کی ہے وہ یہ ہے کہ طالب علم کو نیا سبق یاد کرنا یا ذہن نشین کرنا مشکل ہوجاتا ہے اور اس میں بھی وہی شک کا عنصر موجود ہوتا ہے کہ جو کچھ مجھے یاد ہے وہ صحیح ہے یا غلط۔ اس اذیت میں میں نے بڑے بڑے ذہین بچوں کو خراب ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔ ایک اور بڑا نقصان جو چرس پینے والے کی شخصیت کو پہنچتا ہے کہ اس میں ایسی سستی اور کاہلی پیدا ہوجاتی ہے کہ اس کو کسی کام کا شوق باقی نہیں رہتا۔ اس حالت کو طبی زبان Amotivational Syndrome کہا جاتا ہے۔ بڑے شریف گھرانوں کے بچے اپنے خاندانوں کے لئے باعث شرم اور ندامت بن جاتے ہیں۔ بدقسمتی سے اس تکلیف کا کوئی حتمی اور فوری علاج میسر نہیں ہے۔ چرس اور ذہنی بیماریوں کا باہمی تعلق یہ ہے کہ شائیز و فرینیا کا رجحان رکھنے والے لوگوں میں چرس مخفی مرض کو ظاہر کردیتی ہے۔ اسی طرح بعض لوگوں میں تشویش‘ پریشانی‘ غم اور خفگان پیدا ہوجاتے ہیں۔ ایک برائی یہ ہے کہ سگریٹ نوشی اور چرس نوشی بھی ایک ہی دروازے سے مشابہت رکھتی ہے جو تمباکو نوش یا چرس نوش اس دروازے میں داخل ہوا وہ پھر بد سے بدتر نشے کے تجربے کرنے لگتا ہے۔
پرانی تاریخی کتابوں میں لفظ حشیش نے بڑے افسانوں کو جنم دیا ہے اور اس کا خاص تعلق گیارہویں صدی میں حسن بن صباح کے ساتھ جوڑا گیا۔ اچھی خاصی مستند کتابوں نے یہ لکھا کہ حسن بن صباح اپنے پیروکاروں کو حشیش پر عادی کرکے ان کو جنت کی لالچ دیتا تھا اور ان سے بڑے بڑے جرم کرواتا تھا اور گویا اس نے دہشت گردوں کی ایک فوج تیار کر رکھی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے مقتد‘ عالم اور فاضل لوگوں کو قتل کروایا۔ حشیش پر عادی ہونے والوں کا نام حشیشین رکھا گیا اور انگریزی کا لفظ Assassin کو حشیش کی بگڑی ہوئی شکل قرار دیا گیا۔ تازہ ترین تحقیقات سے لگتا ہے کہ ان ساری باتوں میں افسانہ زیادہ اور حقیقت کم ہے۔ حسن بن صباح کا تعلق مسلمانوں کے اسماعیلی فرقے سے تھا اور فاطمید خاندان کے وراثت کے ایک جھگڑے میں حسن بن الصباح ایک فریق کا زبردست حامی اور مدعی بن گیا۔ اس فرقے کو نذاری فرقہ کہتے تھے۔ ایک طرف حسن بن صباح کو قاتل اور دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے تو دوسری طرف اس کو پاکباز‘ عبادت گزار‘ دولت اور طاقت کے نشے سے بے نیاز کہا جاتا ہے حتیٰ کہ یہاں تک کہا جاتا ہے کہ اس نے اپنے دو بیٹوں کو شراب پینے کے جرم میں سزائے موت دی۔ بہرحال ہم واپس چرس کے موضوع کی طرف آتے ہیں۔
بہت ساری حکومتوں نے خاص کر مغربی حکومتوں نے ہیروئن کی طرح چرس کے استعمال پر بھی پابندی لگانے کی کوششیں کیں مگر کامیابی نہیں ہوئی۔ جب سے اس کی کاشت کا طریقہ معلوم ہوا ہے تو امریکہ کے بہت سارے چرس پینے والوں نے اپنے گھروں کے اندر بلکہ گملوں میں چرس کی کاشت شروع کر رکھی ہے جس سے وہ اتنی مقدار میں پیدا کرلیتے ہیں جو ان کی ذات اور دوستوں کی ضروریات کے لئے پوری ہوتی ہے۔ ہالینڈ کی حکومت چرس پر پابندی کے قانون کے نفاذ میں ناکامی سے اس قدر مایوس ہوئی کہ اس نے کم از کم اپنے دارالحکومت ایمسٹرڈیم (Amsterdam) میں چرس کا استعمال قانونی قرار دے دیا۔ اس کی نقل کرتے ہوئے بعض اور ممالک بھی اس بات پر غور کررہے ہیں کہ کیا چرس پر پابندی قانوناً ممکن ہے یا اس سے پابندی اٹھا لی جائے۔ دلچسپ بلکہ زیادہ افسوسناک نظارہ ہے کہ ہفتہ کے دن یعنی Weekend پر یورپ کے مختلف شہروں نے نوجوانوں کے گروہ کے گروہ گاڑی یا جہاز میں بیٹھ کر ایمسٹرڈیم کا رخ کرتے ہیں کہ وہاں آزادی کی فضاء میں وہ جتنی چاہیں چرس پی سکتے ہیں۔ جن pubs کو چرس رکھنے یا پلانے کا لائسنس ملا ہوتا ہے وہاں جشن کا سماں ہوتا ہے۔
کچھ سالوں سے مغرب کے بعض ملکوں میں بعض ایسے مریض جو کہ مہلک بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں مثال کے طور پر کینسر وغیرہ۔ ان کو چرس سے تھوڑا بہت سکون اور سرور مل جاتا ہے اور ان کی زندگی کے آخری دن بہت حد تک اچھے گزر جاتے ہیں۔ ان کو ہسپتال کے اندر ڈاکٹری نسخے کے تحت ہیروئن کی چرس استعمال کرنے کی اجازت دے دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ بعض بیماریوں میں جن کا ابھی تک کوئی علاج نہیں چرس کو ڈاکٹروں کی نگرانی میں استعمال کرنے پر تحقیق ہورہی ہے۔
خود چرس کے نشے کا کیا علاج ہے مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ دنیا میں ابھی تک ایسی کوئی دوا ایجاد نہیں ہوئی جس کے استعمال کے بعد چرسی کا دل چرس سے متنفر ہوجائے۔ اس کا صرف ایک ہی علاج ہے کہ جتنی جلدی ہوسکے مریض اپنی فیملی اور رشتہ داروں کی امداد سے اس سے پرہیز کرنا اور مکمل پرہیز کرنا شروع کردے۔ کوئی نیم قدم چرسی کو کہیں نہیں لے جائے گا وہ اسی دلدل میں پھنس رہے گا۔ افیون کے مقابلے میں چرس کو چھوڑنا نسبتاً آسان ہے کیونکہ اس کے چھوڑنے کے بعض مریض کو زیادہ تکلیف نہیں سہنی پڑتی۔ زیادہ سے زیادہ اس کو چرس کی بے پناہ خواہش تنگ کرسکتی ہے یا رات کو بے خوابی کا مسئلہ بن سکتا ہے۔ اس کے علاوہ جسم کے دوسرے حصوں میں کوئی خاص تکلیف محسوس نہیں کی جاتی صرف مریض کا پختہ ارادہ اور گھر والوں کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہاں سب سے ضروری علاج کہ چرس چھوڑنے کے بعد یہ کبھی بھی نہ اپنے چرسی دوست کے ساتھ ملے گا نہ اس جگہ یا ماحول میں جائے گا جہاں وہ یہ شغل کیا کرتا تھا ورنہ کامیاب کے امکانات بہت معدوم ہوجاتے ہیں۔