338

تھیریسامے: رہے نہ رہے

آج کل امریکہ‘ پاکستان اور برطانیہ میں سے کس ملک کی سیاست زیادہ دلچسپ ہے کہاں اکھاڑ پچھاڑ زیادہ ہو رہی ہے کہاں سیاستدان ایک دوسرے کے پیچھے ہاتھ دھوکرپڑے ہیں کہاں اخبار نویس تاریخ کے اوراق کھنگال رہے ہیں‘ کہاں خطرے کی گھنٹیاں بج رہی ہیں‘ کہاں ایک خوفناک مستقبل کی پیش گوئیاں کی جا رہی ہیں اور کہاں حکومت چند دنوں کی مہمان نظر آ رہی ہے ان تمام سوالات کا جواب اس کالم کے عنوان میں موجود ہے وزیر اعظم تھیریسا مے کی حکومت چند دنوں کی مہمان تونہیں مگرانکی اپنی جماعت کے گرو گھنٹال ہاتھ دھو کر انکے پیچھے پڑے ہوئے ہیں ان گرو گھنٹالوں کی سیاست اور حکمت کاری کے بارے میں جو کچھ برطانوی اخبارات میں شائع ہو رہا ہے اسے پڑھنے کے بعدانکی ہیئت کذائی بیان کرنے کیلئے گرو گھنٹا ل سے بہتر اسم صفت ڈھونڈنامشکل ہے اس میں تردد مگر یہ ہے کہ یہ تمام حضرات ان حلقوں میں نہایت اچھی شہرت رکھتے ہیں جنھوں نے برطانیہ کو یورپی یونین سے الگ کرنے کیلئے ووٹ دےئے تھے‘ یہ ریفرنڈم 23 جون2016 کو ہواتھا اسکے بعد سے آج تک اس پر بحث و تمحیص ہوتی رہی پھروزیر اعظم نے اپنی کابینہ کے وزراء سے طویل صلاح و مشورے کے بعد ایک دستاویز تیار کی‘ اسکے صفحات کی تعداد 585 بتائی جا رہی ہے‘۔

بدھ چودہ نومبر کو وزیر اعظم نے یورپی یونین سے الگ ہونے کے منصوبے کا اعلان کیا اسکے بعد وہی ہونا تھا جو کئی ماہرین کے مطابق اس قسم کی صورتحال میں ہمیشہ برطانیہ میں ہوتا ہے یعنی All hell broke loose جہنم امڈ پڑا‘یا پھر یہ کہ جہنم کے دروازے کھل گئے‘سب سے پہلے چار وزیروں نے استعفے دےئے پھرچھ نے استعفے دینے کی دھمکیاں دیں اور وزیر اعظم کی اپنی ٹوری جماعت کے گرو گھنٹال خم ٹھونک کر میدان میں اتر آئے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے Times of Londonنے لکھا ہے کہ تھیریسا مے کو اپنی جماعت میں ایک بغاوت کا سامنا ہے اخبار کے مطابق She is facing a firestorm in her own party اب برطانیہ کی سینکڑوں سال پرانی سیاست کے اسرارو رموز کھولے جا رہے ہیں ایک پنڈت نے لکھا ہے کہ Westminster is a place that loves intrigue یعنی کہ ویسٹ منسٹر ایک ایسی جگہ ہے جسے سازش سے عشق ہے یہ لندن میں سرکاری عمارات کے ارد گرد کا وہ علاقہ ہے جو دریائے ٹیمزکے کنارے واقع ہے یہاں بکنگھم پیلس بھی ہے ٹرافلگر سکوائر بھی قریب ہے اور وہ سارے مہنگے ریسٹورنٹ بھی جہاں شام کے وقت سیاستدانوں کے غول جمع ہو کر اپنی سیاسی حکمت کاری کی گرہ کشائی کرتے ہیں ۔

ان میں سے بعض آتش خو اور شعلہ بیاں ہوتے ہیں اور بعض دھیمے لہجے والے عملیت پسند‘ بعض اکملیت پسند(Perfectionist) بعض انتہا پسند(Radical) اور بعض حقیقت پسند یعنیRealist ہوتے ہیں ا یسے ہی کسی مقام کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہاں اعضاء و جوارح بھی کلام کرتے ہیں اور حرکات و سکنات بھی اور یہ بھی کہ یہاں دانش افرنگ گردش لیل و نہار پر نکتہ سنج ہوتی ہے اور تذکرہ خندہ گل پر بھی لب کشائی کی جاتی ہے جہاں تک میرا تعلق ہے تو میں وہاں ہوں بھی اور نہیں بھی‘ہوں اسلئے کہ یہی کوئی چھ سات دنوں سے ڈیلی ٹیلی گراف ‘ دی گارڈین اور اوپر لکھے ہوئے برطانوی اخبار کا انٹرنیٹ پر مطالعہ کر رہا ہوں گھر سے بہت دور کیپ کاڈ میں بیٹے کے گھر میں پڑاؤ ہے سارا دن پوتوں کی انگلیاں تھام کر گھومنا پھرنا اور شام کو وہی گوشے میں قفس کے مجھے آرام بہت ہے والی بات لندن کے اخبارات تھیریسا مے کے دشمنوں کی منصوبہ بندیوں اور انکی حکومت گرانے کی نت نئی حکمت عملیوں کے تذکروں سے بھرے ہوئے ہیں ان حضرات کی قیادت پہلے سابق وزیر خارجہ بورس جانسن کر رہے تھے۔

اب چند روز پہلے استعفیٰ دینے والے وزیر Dominic Raab نے علم بغاوت اٹھایا ہوا ہے ایک صحافی نے لکھا ہے کہ He is a cold eyed man in a hurry اسکا ترجمہ میری دانست میں ایسا طوطا چشم شخص ہے جو نہایت جلدی میں ہو‘انکی مدد کیلئے برطانوی سیاست کے راک سٹار کہلائے جانے والے جہاں دیدہ سیاستدان Jacob Rees Mogg بھی موجود ہیں اخبار لکھتا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو برطانیہ کو ایک چٹان پر سے دھکا دینا چاہتے ہیں شاید ان ہی جیسوں کے بارے میں کہا گیا ہے
شہر اگر طلب کرے تم سے علاج تیرگی
صاحب اختیار ہو آگ لگا دیا کرو

ان دونوں کا کہنا ہے کہ انکی جماعت نے تھیریسا مے کو اسلئے وزیر اعظم بنایا تھا کہ وہ یورپی یونین سے اخراج کا کوئی قابل قبول منصوبہ بنائیں گی لیکن جو حکمت عملی انہوں نے 585صفحات کی دستاویز میں پیش کی ہے‘ وہ نہایت مایوس کن‘شکست خوردہ اور ذلت آمیز ہے انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعظم استعفیٰ دیدیں کیونکہ وہ اپنے مشن میں ناکام ہو چکی ہیں اسکے جواب میں تھیریسا مے نے کہا ہے کہ انہیں ایک ایسے معاہدے کا ڈرافٹ تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے جو برطانوی عوام کے علاوہ یورپی یونین کے مما لک کیلئے بھی قابل قبول ہو سولہ نومبر کو ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کے بیشتر ممالک کی رائے عامہ بریگزٹ کے مسئلے پربھپری ہوئی ہے اور وہاں بھی حکومتوں کو سخت عوامی دباؤ کا سامنا ہے ایسے میں انہوں نے یورپی یونین کے سامنے ایک ایسا معاہدہ پیش کرنا ہے جو انکے لئے بھی قابل قبول ہو ااور بعد ازاں جسکی توثیق برطانوی پارلیمنٹ بھی کر دے انکی تیار کردہ دستاویزنے پارلیمنٹ کے 315ارکان میں سے کتنوں کو متاثر کیا ہے اور سوا دو برس پہلے بریگزٹ کے حق میں اور اسکے خلاف ووٹ دینے والے لوگ اب کیا کہہ رہے ہیں اسکے بارے میں دھڑا دھڑ پولز اور سروے ہو رہے ہیں‘ عوام بحیثیت مجموعی یہ کہتے نظر آرہے ہیں کہ بس بہت ہو چکااب جو کرنا ہے کر لو اور آگے بڑھو ایک خاتون کی یہ بات حقیقت کا اعتراف کرتی نظر آ رہی ہے کہ Oh God let's get it over with برائے خدا اب اسے ختم کرو مگر تھیریسا مے کی مشکلات اپنی جگہ موجود ہیں وہ اگر وزارت عظمیٰ چھوڑتی ہیں تو برطانوی تاریخ کی کم ترین مدت حکمرانی کا الزام انکے حصے میں آتا ہے وہ کچھ اس وجہ سے بھی اپنے عہدے کا دفاع کرنا چاہتی ہیں بہ زبان شاعر انکے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ

مری داستان غم کی کوئی قید و حد نہیں ہے
ترے سنگ آستاں سے ترے سنگ آستاں تک
یہ سنگ آستاں ان گرو گھنٹالوں کا ہے جنہوں نے بریگز ٹ سے پہلے یہ بلند بانگ دعوے کئے تھے کہ انہیں اگر حکومت مل گئی تو وہ یورپی یونین کیساتھ ایسا معاہدہ کریں گے جس میں برطانیہ کی سرحدیں بھی مہاجرین سے محفوظ ہو جائیں گی‘ انکا ملک اپنی مرضی کے محصولات بھی حاصل کر سکے گا‘ یورپی یونین کے ممالک لین دین کے معاملات میں اپنی من مانیاں بھی نہ کر سکیں گے اور بہت جلد ایسے معاہدے پر دستخط بھی ہو جائیں گے مگر اب جو صورتحال سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ ان تمام معاملات میں فیصلہ کن حیثیت برطانیہ کی نہیں بلکہ یورپی یونین کی ہے اس حقیقت کے ظاہر ہونے کے بعد اب گرو گھنٹال یہ کہہ رہے ہیں کہ تھیریسا مے نے لٹیا ڈبو دی ہے اسلئے وزارت عظمیٰ اب کسی ہارڈ لائن Brexiteer کو سونپ دینی چاہئے کچھ آثار دوسرے ریفرنڈم کے بھی نظر آ رہے ہیں بہر حال تھیریسا مے رہے نہ رہے اصل بات یہ ہے کہ جب بھی کسی قوم کے گروگھنٹال بلند بانگ نعروں اور جھوٹے وعدوں سے اسے گمراہ کرکے ایک گہری کھائی تک لے آتے ہیں تو پھر اس صورتحال کے بارے میں یہ کہا جا تا ہے کہ
ٹھہر سکا نہ ہوائے چمن میں خیمہ گل
یہی ہے فصل بہاری یہی ہے باد مراد