333

سیاسی احتساب

نیب کی احتساب عدالت نے میاں نواز شریف کو ایک کیس میں بری کرتے ہوئے دوسرے کیس میں سات سال قید کی سزا سنائی ہے۔ان دونوں مقدمات کے چند پہلو بڑے اہم ہیں۔ دونوں ہی کی بنیاد اس نکتے پر ہے کہ میاں صاحب کی دولت اور اثاثوں کی مقدار ان کے معلوم ذرائع آمدن کے مقابل کئی گنا بڑھ کر ہے۔تاہم ان اثاثہ جات کے بنانے کے حوالے سے کسی قسم کی مالی بد عنوانی میں براہ راست میاں صاحب کا ملوث ہونا استغاثہ ثابت نہیں کر سکا ہے۔ میاں صاحب نے یہ تسلیم کیا کہ انہوں نے سن دو ہزار دس سے لے کر دو ہزار سترہ تک اپنے بیٹے حسین نوازسے دس ملین ڈالر بطور تحفہ وصول کئے ہیں اور یہ رقم انہوں نے اپنے ٹیکس گوشواروں میں ظاہر بھی کی ہے۔ حسین نواز سعودی عرب میں العزیزیہ اور ہل میٹل کے مالک ہیں۔ میاں صاحب نے بتایا کہ اسی کے عشرے میں متحدہ عرب امارات میں ان کے والد کی ملکیتی ایک سٹیل مل فروخت کی گئی تھی جس سے حاصل ہونے والا سرمایہ سعودی عرب میں سٹیل مل لگانے میں استعمال کیا گیا۔میاں صاحب نے یہ بھی بتایا کہ اس دولت میں ان کا کوئی حصہ نہیں تھا لیکن جج صاحبان نے فرض کر لیا کہ ان کا کوئی نہ کوئی حصہ تو بہر حال تھا کیونکہ ان کا بیٹا انہیں مسلسل پیسہ بھیج رہا تھااور اسی بنیاد پر میاں صاحب کو سزا بھی سنا دی گئی۔

فلیگ شپ کیس میں انہیں بری اس لئے کر دیا گیا کیونکہ اس کا تعلق حسن نواز یعنی میاں صاحب کے اس بیٹے سے تھا جو لندن میں مقیم ہیں۔ حسن نواز نے چونکہ میاں صاحب کو پیسے نہیں دئیے اس لئے اس سے یہ اخذ کیا گیا کہ فلیگ شپ کے اثاثوں میں ان کا کوئی حصہ نہیں۔ میاں صاحب کے دونوں بیٹے کہتے ہیں کہ ان کی دولت کا ماخذ امارات کی وہی سٹیل مل ہے جو ان کے دادا کی ملکیت تھی ۔اس معاملے میں وہ قطری شہزادے اور سٹیل مل کی سعودی عرب بر آمد کا بھی حوالہ دیتے ہیں لیکن نیب پراسیکیوٹر قطری شہزادے کی تلویث کی بات یکسر مسترد کر دیتے ہیں حالانکہ قطری شہزادے نے تحقیقات کے لئے پیش ہونے پرہمیشہ رضا مندی ظاہر کی ہے مگر شرط یہ رکھی ہے کہ ا ن سے تحقیقات ان کے وطن آکر کی جائیں۔اس کے علاوہ میاں صاحب کے بیٹے سٹیل مل کی سعودی عرب برآمد کے ثبوت میں درست دستاویزات بھی پیش کرتے ہیں۔ میاں صاحب نے اپنی بے گناہی کے ثبوت میں کوئی دستاویز پیش نہیں کی کیونکہ العزیزیہ اور فلیگ شپ میں حصہ دار ہونے کا جو الزام ان پر لگایا گیا وہ اس سے ہی انکار کرتے ہیں۔ تاہم العزیزیہ کیس میں انہیں سزا اس لئے دی گئی کہ وہ خود کو بے گناہ ثابت نہیں کر پائے جبکہ فلیگ شپ میں انہیں بری اس لئے کیا گیا کہ استغاثہ ان پر کوئی جرم ثابت نہیں کر سکا‘اسی طرح کے تضادات اور بے ضابطگیاں ایون فیلڈ اپارٹمنٹس والے کیس میں بھی ہیں جس میں میاں صاحب کو دس سال کی قید کی سزا سنائی گئی ہے۔احتساب عدالت کے ان تمام فیصلوں پر اعلیٰ عدالتوں میں اپیلیں دائر کی جا رہی ہیں۔ان سب باتوں کی وجہ سے اگر بڑے پیمانے پر یہ عمومی تاثر ابھر رہا ہے کہ میاں صاحب کو سیاسی طور پر ختم کرنے کے لئے قانون کو توڑا اور مروڑا جا رہا ہے اور نیب والے ان سے متکبرانہ اور امتیازی نوعیت کا سلوک کر رہے ہیں۔

تو اس میں قطعی کوئی حیرت کی بات نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ الزام بھی لگایا جا رہا ہے کہ میاں صاحب کو منظر سے ہٹانے کے لئے عدالتوں کو بھی کٹھ پتلی بنا دیا گیا ہے‘میاں صاحب کے خلاف سارے مقدمات جس مشکوک اور قابل اعتراض انداز میں چلائے گئے ہیں ‘ جس طریقے سے جے آئی ٹیز قائم کی گئیں‘جیسے ان کی نگرانی ہوتی رہی اورمخالفانہ فیصلے صادر کرنے میں جس عجلت کامظاہرہ کیاگیا‘ ان سب سے اسی تاثر کو مزید تقویت ملتی ہے۔نیب کے چیئرمین اور پبلک پراسیکیوٹر ریٹائرڈ جج ہیں لیکن نیب کے اہم تحقیقاتی افسران فورسزسے ریٹائرڈ ہیں جن کے بارے میں عین امکان یہی ہے کہ وہ یا توکہیں سے ہدایات لیتے ہیں اور یا پھر ان پردباؤ ہوتا ہے۔اس لحاظ سے دیکھاجائے تو گزشتہ انتخابات میں دھاندلی کی ذمہ دار خلائی مخلوق ہی وہ خفیہ ہاتھ معلوم ہوتی ہے جو میاں صاحب کے سیاسی خاتمے کے لئے کوشاں ہے۔ جب اعداد و شمار کے لحاظ سے بھی یہ ثابت ہوتا ہو کہ نیب والے ہاتھ دھو کر نون لیگ اور پی پی پی کے پیچھے پڑیں ہیں اور تحریک انصاف کے لئے ہمدردانہ رویہ رکھتے ہیں تو اسی قسم کے شکوک و شبہات کو مزید تقویت ملے گی۔

اقامہ جیسی معمولی بات پر میاں صاحب کی تاحیات نا اہلی اور ایون فیلڈ کیس میں ان کے لئے قید کی سزا یہ دونوں باتیں عوام میں میاں صاحب کی مقبولیت کو کم نہیں کر سکی ہیں بلکہ ان باتوں کی وجہ سے تو ان کی سیاسی جانشین مریم نواز عوام کی نظر میں ایک زبردست بہادر اور با ہمت ہیروئن کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ شہباز شریف کے خلاف قائم کئے گئے مقدمات کو بھی غیر منصفانہ سمجھا جا رہا ہے۔ دوسری طرف پی ٹی آئی کی اپنی کارکردگی بھی کچھ ایسی ہے کہ اس کے اپنے کارکن ہی اس سے خوش نہیں۔ پی ٹی آئی کے ترجمانوں کو مسلم لیگ اور پی پی پی کے رہنماؤں کے خلاف قائم مقدمات کے ممکنہ فیصلوں کے بارے میں پیش گوئیاں کرنے کا بھی بڑا شوق ہے اور اس سے ان مقدمات میں انصاف سے کام لئے جانے کے بارے میں نہایت شبہ پیدا ہوتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی عدالتوں کے فیصلے سیاست سے آلودہ ہونے لگتے ہیں تو تھکے ماندے اور غیر معتبر ٹھہرائے گئے سیاستدانوں کو ایک نئی زندگی مل جاتی ہے۔ جب اسٹیبلشمنٹ بھی اپنے سیاسی مقاصد کے تحت سرگرم ہوتی ہے تو تب بھی تقریباً ایسے ہی نتائج سامنے آتے ہیں۔اگلا ہدف اب آصف زرداری ہوں گے۔ان کے خلاف کرپشن کے ثبوت اگرچہ میاں صاحب کے مقابلے میں زیادہ ہیں لیکن پنجاب میں میاں صاحب کی گرفتاری کے خلاف ظاہر ہونے والے ردعمل کے مقابل زرداری صاحب کی گرفتاری پر سندھ میں زیادہ ردعمل ظاہر ہونے کا امکان ہے۔ ہم کرپشن کا دفاع نہیں کر رہے ،ہماری استدعا صرف اتنی ہے کہ سیاسی مسائل کو سیاسی طور پر حل کیا جائے۔تفرقات کے شکار سیاسی منظر نامے پر مزید چرکوں کے متحمل ہم نہیں ہو سکتے ہیں۔