254

ریاست اورقانون کی حکمرانی

جو بات کئی مرتبہ کہہ دی گئی ہے اسے ایک بار پھر کہہ دینے میں کیا حرج ہے‘ جامعات کے جن ممتاز و معتبر اساتذہ کرام کو سر عام ہتھکڑیاں پہنا کر ہم نے اپنی علم دوستی کا ثبوت ساری دنیا کے سامنے پیش کیا انکااصل جرم ایک خاص نظریے سے وابستگی تھا وہ نظریہ جس نے جدید دنیا کو ترقی کی معراج تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا وہ انداز نظر جو حریت فکر سے عبارت ہے جو تحقیق و جستجو کو صداقت کی اساس مانتا ہے ان صاحبان علم کے چشمہ فیض سے بہرہ مند ہونیوالے ہزاروں ارادت مند علم و ادب کی اس بر سر بازار بے توقیری پر برہم ہیں‘ انکا احتجاج خوف کی اس فضا میں سرگوشیوں کی صورت میں جاری ہے زندہ اورباضمیر اقوام ایسی چیرہ دستیوں کو بھلایا نہیں کرتیں‘ وہ طاقت کے بے قابو طاغوت کو کبھی نہ کبھی کٹہرے میں لا کھڑا کرتی ہیں‘ یہ نالہ و فریاد ابھی جاری تھی کہ کیمپ جیل لاہور میں قید سرگودھا یونیورسٹی لاہور کیمپس کے سی ای اومیاں جاوید کی لاش کی تصویر سوشل میڈیا پر نمودار ہوئی اسے ہتھکڑی لگی ہوئی تھی‘ انکی موت جیل کی بیرک میں دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی تھی‘ محکمہ جیل کے فرض شناس سپاہیوں نے مرحوم کی لاش کو اسلئے ہتھکڑی پہنائی تھی کہ قیدی زندہ ہو یا مردہ اسکے ساتھ سلوک قانون کے تقاضوں کے عین مطابق کیا جانا چاہئے‘ آج کل اپنے دیس میں قانون کی حکمرانی کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے اسے دیکھتے ہوئے حیرانی اس بات پر نہیں ہوئی کہ ایک قیدی جو ملزم تھا مجرم نہ تھا کی لاش کو ہتھکڑی کیوں پہنائی گئی بلکہ یہ جان کر تعجب ہوا کہ نیب‘ جیل حکام اور وزیر اعلیٰ پنجاب نے صفائیاں پیش کرنے کی ضرورت کیوں محسوس کی‘ ہمارے ارباب بست و کشاد شاید نہیں جانتے کہ ہم بحیثیت قوم قانون کی حکمرانی کے اس منطقے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں عقل و خرد کی ایک نہیں مانی جاتی جہاں الزام کتنا ہی بھونڈا کیوں نہ ہو ہتھکڑی پہلی لگائی جاتی ہے۔

عدالت میں پیشی بشرط زندگی بعد ازاں ہوتی ہے‘ ظاہر ہے ہر ملک میں چوروں اور ڈاکوؤں کو پولیس ہتھکڑی پہنا کر ہی عدالت میں پیش کرتی ہے اپنے دیس میں اگر ایسا ہوتا ہے تو اعتراض کیوں ؟ اعتراض اسلئے کہ ہماری جامعات سے گرفتار ہونے والے چوری اور ڈاکے کی وارداتوں میں ملوث نہ تھے ان پر اگر حکومتی فنڈز کی خوردبرد کا الزام تھا تو وہ ایک تفتیش طلب معاملہ تھا‘ اسکا فیصلہ صرف مکمل عدالتی کاروائی کے بعد ہی ہو سکتا تھا‘ جدید معاشروں میں پولیس چوبیس گھنٹے کے اندر ملزم کو عدالت میں پیش کرکے جج کو فیصلے کا اختیار دے دیتی ہے ملزم کا وکیل نہ ہو تو عدالت ہی اسے وکیل مہیا کرتی ہے الزام اگر یہ ہو کہ ملزم نے غیر قانونی کیمپس کھولے تھے تو پھر ان گنت سوالات جنم لیتے ہیں ہماری عوام کے ووٹوں سے منتخب کی ہوئی جمہوری حکومت کے فرض شناس ہرکارے ایک معلم کی لاش کو ہتھکڑی پہناسکتے ہیں مگر وہ ان سوالوں کو دفن نہیں کر سکتے کہ یہ کیمپس غیر قانونی کیوں تھے ‘ اگر تھے تو یہ اب تک قانون نافذ کرنیوالے اداروں سے پوشیدہ کیوں رہے‘ کسی کیمپس کے منتظم پر خورد برد کا الزام تو لگایا سکتا ہے مگر کسی ادارے کو کیسے غیر قانونی کہا جا سکتا ہے اسے اگر قانون کے تقاضوں کے مطابق نہیں بنایا اور چلایاگیا تواسکا فیصلہ نیب کریگی یا ملزم کا موقف سننے کے بعد عدالت اسکا فیصلہ کریگی‘ نیب کو اگر یہ اختیار دیدیاگیا ہے کہ وہ جسے چاہے ہتھکڑی لگا دے دو چار سلطانی گواہ پیدا کرے اور عدالت سے اپنی مرضی کا فیصلہ لے لے تو پھر اس خرابے میں کسی کی عزت محفوظ نہیں‘ ہر کسی کو دروازے کی دستک پر کان دھرنے ہونگے ‘یہ قانون کی حکمرانی کا وہ تصور ہے جسکے بارے میں کہا گیا Shoot first and ask questions later یعنی گولی پہلے مارو اور سوال بعد میں پوچھو‘باالفاظ دیگر لاش کو ہتھکڑی پہنا کر ہسپتال لیجاؤ تا کہ ایک دنیا کو پتہ چلے کہ قانون کی حکمرانی کیا ہوتی ہے۔

ریاست اور قانون کا تعلق اتنا نازک اور حساس ہے کہ اسے سمجھنے کیلئے تحقیق و جستجو آج بھی جاری ہے نئی ریسرچ اور جدیدٹیکنالوجی نے ریاست اور فرد کے تعلق کو تبدیل کر دیا ہے اس تبدیلی نے قانون کی حکمرانی کے تصور کو بھی پہلے جیسا نہیں رہنے دیا جو ریاستیں بدلتی دنیا کے تقاضوں پر نگاہ نہیں رکھتیں وہ بہت جلد کسی بحران کی لپیٹ میں آجاتی ہیں ترقی یافتہ ممالک اس مسئلے پر تمام تر توجہ کے باوجود اسکی باریکیوں کی مکمل تفہیم نہیں کر سکے‘ امریکہ میں آج بھی صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم کے منتظمین اور روسی حکومت کے ساز باز کے معاملے پر تفتیش جاری ہے یہ کام ہاؤس اور سینٹ نے دو سال پہلے ایک خصوصی تفتیش کار رابرٹ مولر کے سپرد کیا تھا وہ صدر ٹرمپ کے تین رفقاکار کو عدالت میں پیش کر کے جیل بھجوا چکا ہے دو ممتاز شخصیتوں کے مقدمات زیر سماعت ہیں رابرٹ مولر وہ کام کررہا ہے جو پاکستان میں نیب کر رہا ہے فرق یہ ہے کہ رابرٹ کو ہتھکڑیاں لگانے کا اختیار نہیں دیا گیا یہ اختیار عدالت بھی اسوقت استعمال کرتی ہے جب ملزم نے اپنا موقف انشراح صدر کیساتھ پیش کردیا ہوتا ہے‘یہ اختیار 1972 میں واٹرگیٹ سکینڈل کی تحقیقات کرنیوالے تفتیش کاروں کے پاس بھی نہ تھا اس سکینڈل کے نتیجے میں صدر رچرڈ نکسن نے استعفیٰ دیا تھا اسکے بعد ایک کمیشن قائم ہوا تھا جس نے یہ تحقیق کرنا تھی کہ ایک صدر کو اس حد تک اپنے اختیارات سے تجاوز کرنے کی جرات کیوں ہوئی اس کمیشن نے ریاست اور قانون کے تعلق پر ایک دستاویز مرتب کی اس میں لکھا ہے کہ " Our law is not an instrument of partisan purpose, it can not become anyone's weapon ,it has to remain neutral " یعنی ہمارا قانون کسی سیاسی جماعت کے مقاصد کے حصول کیلئے ایک آلے کے طور پر استعمال نہیں ہو سکتا ‘ یہ کسی کا ہتھیار نہیں بن سکتا ‘ اس نے غیر جانبدار رہنا ہے‘ ۔

یہ تحقیق دو چوٹی کے ماہرین قانون ایڈورڈ لیوی اور گرفن بیل نے کی تھی ان دونوں نے رچرڈ نکسن کے اس جرم کو بھانپ لیا تھا کہ اس نے قانون کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا تھا اس دستاویز میں صدر اور وزارت انصاف کے تعلق کی نوعیت پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے اس میں لکھا ہے کہ کسی بھی سرکاری ملازم کا اپنے اختیارات سے تجاوز کرناIdea of equal justice یعنی مساوی انصاف کے تصور کیلئے ضرر رساں ہے‘ صدر نکسن کے طرز عمل پر تنقید کرتے ہوئے مصنفین نے لکھا ہے کہ اس نے ہمارے نظام انصاف کو سیاسی جماعتوں کے جھگڑے اپنی مرضی کے مطابق نمٹانے کیلئے استعمال کیا ہے‘ انکی رائے میں ریاستی قانون کی اس پامالی کا احساس حکمرانوں کو نہیں ہوتا مگر عوام جلد یا بدیر یہ جان لیتے ہیں کہ قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے افسرHacks یعنی باڑے کے ٹٹو بن چکے ہیں ‘یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان حالات میں میڈیا کو زیادہ فعال اور متحرک ہو کر اپنا کردار ادا کرناچاہئے‘ ایڈورڈ لیوی اور گرفن بیل کو معلوم نہ تھا کہ سات سمندر پار ایک ملک میں چھیالیس برس بعد ایک ایسی جمہوری حکومت بھی آئیگی جو میڈیا کو صرف مثبت خبریں دینے کا حکم دیگی آجکل اسلام آباد کے بیشتر کالم نگار ایک لاش کو ہتھکڑی پہنانے والے کارنامے اور اس جیسی درجنوں دوسری بوالعجبیوں کو غسل صحت دینے میں مصروف ہیں شاعر نے ایسے حالات کے بارے میں کہہ رکھا ہے۔
حکم سلطاں ہے کہ اس محکمہ عدل کے بیچ
دست فریاد کو اونچا نہ کرے فریادی