322

وہ جو بچھڑ گئے

ممتاز صحافی‘ڈرامہ رائٹر اور ادیب یونس قیاسی صاحب طویل علالت کے بعدانتقال کرگئے‘ سیاسی‘ صحافتی اور ادبی حلقوں نے انکی رحلت کو صوبے کیلئے بڑا نقصان قراردیا ہے‘ مرحوم بے پناہ صلاحیتوں کے حامل انسان تھے‘ انہوں نے ایک بھرپور زندگی گزاری‘ چند ہفتے قبل ان سے فون پر بات ہوئی تو کافی رنجیدہ تھے‘ کہہ رہے تھے بیماری کے باعث گھرمیں پڑے رہنے سے بور ہوگئے ہیں اور دوستوں کی کمی محسوس کررہے ہیں‘ ان کو اس بات کا بھی دکھ تھا کہ وہ علالت کے باعث کالم نہیں لکھ پا رہے قیاسی صاحب مسلسل محنت پر یقین رکھنے والے قلم کے ایسے مزدورتھے جنہوں نے بطور لکھاری کئی شعبوں میں نہ صرف یہ کہ طبع آزمائی کی بلکہ خود کو منوایا بھی‘ اور یہی وجہ ہے کہ ان کو لا تعداد ایوارڈز سے نوازا گیا‘وہ بنیادی طور پرصحافی تھے اور مرتے دم تک اسی شعبے سے وابستہ رہے تاہم انہوں نے ڈرامہ کے شعبے میں بھی بہت اچھا کام کیا اور ان چند ایک ڈرامہ نگاروں میں شامل رہے جنہوں نے بیک وقت تین زبانوں یعنی اردو‘ پشتو اور ہندکو میں ڈرامے لکھے اور خوب لکھے‘ ان کا کالم بھی کافی مقبول رہا اور صوبے کے مختلف اخبارات میں چھپتا رہا وہ عوامی مسائل پرکالم لکھا کرتے تھے جو کہ ان کی انفرادیت رہی‘ پشتو کی شہرہ آفاق فلم درہ خیبر سمیت درجنوں فلموں کے سکرپٹ اور گیت لکھے ‘پشتو فلموں پر جب اسی اور نوے کی دہائیوں میں بے مقصدیت اور فحاشی حاوی ہوگئی توبعض دوسرے چند ایک سکرپٹ رائٹرز کی طرح قیاسی صاحب نے بھی اس انڈسٹری سے لا تعلقی اختیار کی اور اس روش کوکھلے عام تنقیدکانشانہ بناتے رہے‘۔

اس عرصے کے دوران انہوں نے ٹی وی ڈرامے پر فوکس کیا اور تینوں زبانوں میں مسلسل لکھتے رہے‘ان کے ڈراموں میں متعدد بڑے فنکار متعارف کروائے گئے جنہوں نے اس شعبے میں بڑا نام کمایاکیونکہ قیاسی صاحب کردار نگاری پر غیرمعمولی توجہ دیا کرتے تھے‘ وہ ایک ایسے دور میں ڈرامہ لکھتے رہے جب پشاور میں سعد اللہ جان برق‘ ڈاکٹر محمد اعظم اعظم ‘ڈنیس آئزک ‘نورالبشر نوید‘ زیتون بانو اور پروفیسر بشارت احمد جیسے بڑے لوگ اس شعبے سے وابستہ تھے‘ ان سب کی موجودگی میں مرحوم نے اپنی الگ پہچان بنائی اور ساتھ ہی صحافت بھی جاری رکھی وہ کافی متحرک شخص تھے اور ان کا حلقہ احباب بھی کافی وسیع تھا‘ تاہم طویل علالت کے باعث وہ گزشتہ ڈیڑھ برس سے صحافتی اور ثقافتی سرگرمیوں سے دوررہے اور گھر تک محدود ہو کر رہ گئے‘ یہ ہمارا بڑا معاشرتی المیہ رہا ہے کہ ہم معاشرے کو بہت کچھ دینے والے ایسے افراد کوتکلیف کے وقت بھلا دیتے ہیں اور وہ تنہائی کے باعث نفسیاتی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں‘ قیاسی صاحب کو بھی آخر میں ایسے ہی روئیے کا سامنا رہا ‘اسکے باوجود وہ دوستوں کو خود فون کرکے ان سے گپ شپ لگایا کرتے تھے اور ان کو گھر آنے کی دعوت بھی دیا کرتے تھے ‘فن و ادب سے انکی وابستگی اور محبت کا یہ عالم رہا کہ انہوں نے انتہائی بیماری کی حالت میں خیبر ٹی وی کو ایک تفصیلی انٹرویو دیا۔

جس میں انہوں نے اپنی بہترین یادیں شیئرکیں اور متعدد دلچسپ کہانیاں بھی سنائیں‘ بعض دوسرے شخصیات کی طرح متعلقہ حکومتی ادارے یونس قیاسی صاحب کی بیماری اور حالات سے بھی لا تعلق رہے جسکا وہ کبھی کبھار شکوے کی شکل میں ذکر بھی کیا کرتے تھے‘ قیاسی صاحب سے قبل پشاور کے دو اور بڑے سپوت خواجہ وسیم صاحب اور سجاد بابر بھی انتقال کر گئے جو کہ ہر علمی اور ادبی سرگرمی میں نظر آیا کرتے تھے‘ سچی بات تو یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ اس نسل سے تیزی کیساتھ محروم ہوتاجارہا ہے جنہوں نے اپنی خدمات کے ذریعے اس خطے اور یہاں کے عوام کو بہت کچھ دے رکھا ہے‘ اسلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ جو چند ایک لوگ رہ گئے ہیں انکی قدر کی جائے اور انکی عزت افزائی کی جائے تاکہ وہ زندگی کے آخری دن آرام اور سکون کیساتھ گزار سکیں ۔