231

یو اے ای کا اعلان اور ہماری معیشت

متحدہ عرب امارات کے ولی عہد اور وزیراعظم شیخ محمد بن زید النہیان نے پاکستان کے لئے 3 ارب ڈالر کے امدادی پیکج کا اعلان کیا ہے‘یو اے ای کی جانب سے پاکستان میں وسیع سرمایہ کاری کا عندیہ بھی دے دیا گیا ہے‘وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان اور یو اے ای میں باہمی اقتصادی تعاون بڑھانے‘ دفاع اور وائٹ کالر کرائم کی روک تھام کے معاہدے سمیت آئل ریفائنریز اور بعض دیگر معاملات پر بھی اتفاق ہوا ہے‘وطن عزیز کی معیشت کو درپیش مشکلات کے تناظر میں حکومت نے اقتدار میں آتے ہی آئی ایم ایف سے قرضہ مانگنے ساتھ دوست ممالک سے رابطے بھی شروع کئے‘ جن کے اچھے نتائج سامنے آرہے ہیں تاہم اس سب کو مسئلے کا حل قرار نہیں دیا جاسکتا‘ملک میں زرمبادلہ کے ذخائر سے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کا حجم دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مجموعی کمی 11 ارب ڈالر کی ہوچکی ہے ہر ماہ دو ارب ڈالر کم ہوتے جارہے ہیں دوسری جانب روپے کی قدر میں مسلسل کمی کیساتھ بجٹ خسارہ بھی مسلسل بڑھتا چلا جارہا ہے جو اسوقت 2.26کھرب بتایا جاتاہے توانائی کا بحران اور گردشی قرضے اس سے الگ ہیں‘صورتحال کا تدارک دوست ممالک کی امداد یا آئی ایم ایف کے قرضے سے مختصر وقت کیلئے تو آسانی لاسکتے ہیں تاہم اب وقت آگیا ہے کہ قرضے پر قرضہ کی روایت ختم کی جائے۔

ایک قرضے کی قسط چکانے کیلئے دوسرا قرضہ لینا مسئلے کو سلجھاتا نہیں بلکہ مزید الجھا دیتا ہے قابل اطمینان ہے کہ یو اے ای اور دوسرے ممالک حکومت کی جانب سے رابطوں اور ملاقاتوں میں سرمایہ کاری کا عندیہ دے رہے ہیں یہ اسی صورت فائدہ مند اور بہتر نتائج کا حامل قرار پاسکتا ہے جب ہم انویسٹمنٹ کیلئے سازگار ماحول دیں اس ماحول کا مطالبہ تو اندرون ملک سرمایہ کار بھی کررہے ہیں مرکز اور صوبے میں برسراقتدار حکومتوں کو اولین توجہ اس بات پر دینا ہوگی کہ صنعتی و کاروباری سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہو‘ اس مقصد کے لئے سرمایہ کاروں کو تمام خدمات کی فراہمی کے لئے ایک ہی چھت تلے سٹیک ہولڈر محکموں کو اکٹھا کرنا ہوگا سکیورٹی کے لئے متعلقہ اداروں کو پابند بنانا ہوگا‘بجلی گیس کی فراہمی کے ساتھ یہ بات بھی یقینی بنانا ہوگی کہ حکومت کی جانب سے ملنے والی تمام سہولیات کا فائدہ ورکرز کے ساتھ ساتھ عام صارفین کو بھی ہو‘ اس سب کے ساتھ یہ بات بھی مدنظر رکھنا ہوگی کہ سرمایہ کاری کے نام پر بینکوں کے قرضے ہڑپ کرنے کی روایت بھی ختم ہو اور اب تک کھائے جانے والے قرضوں کی وصولی بھی یقینی بنائی جائے۔

کار پارکنگ فیس ؟

صوبائی دارالحکومت میں ٹریفک کا مسئلہ سنگین صورتحال اختیار کرتا چلا جارہا ہے مسئلہ ٹریفک کا ہو یا صفائی‘ تجاوزات اور خوبصورتی کا متعلقہ محکمے صرف چندبڑی سڑکوں پر کاروائی کردیتے ہیں جبکہ اندرون شہر سے متعلق اقدامات ہر صورت ناکافی ہی رہتے ہیں‘ ٹریفک کے مسئلے کی سنگینی کے ساتھ صوبائی دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں گاڑیاں پارک کرنے پر فیس وصول کی جاتی ہے اس کی شرح اور یہ کہ فیس وصولی کس ادارے کے لئے کی جاتی ہے شہریوں کو قطعاً معلوم نہیں‘ اس پر جگہ جگہ تکرار جاری رہتی ہے ‘کیا ہی بہتر ہو کہ متعلقہ ادارے واضح کرکے شہریوں کو آگاہ کریں کہ کس مقام پر پارکنگ کی کتنی فیس ہے اور یہ کہ یہ کس محکمے نے عائد کی ہے تاکہ لوگ اپنی ذمہ داری کے ساتھ اس کی ادائیگی بھی کریں۔