267

علاقائی امن کیلئے اہم سال

تجزیہ کار‘ سیاسی قائدین اور سفارتکار سال 2019ء کو افغانستان اور خطے کے بعض دیگر ممالک کے لئے بہت اہم قرار دے رہے ہیں‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس برس افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کا عمل شروع ہوگا۔ ملک میں صدارتی الیکشن کا انعقاد ہوگا اور انتقال اقتدار کے بعض اہم مراحل طے ہوں گے‘امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اعلان کرچکے ہیں کہ 2019ء کے دوران شام اور افغانستان سے فوجیں نکالی جائیں گی اور ان ممالک پر اٹھنے والے اخراجات میں غیر معمولی کمی لائی جائے گی‘ اگرچہ بعض اعلیٰ امریکی عہدیداروں کے علاوہ متعدد اہم ممالک صدر ٹرمپ کے اس اعلان کو اس حوالے سے خطرناک قرار دے رہے ہیں کہ ان کے بقول عجلت میں انخلاء سے دونوں ممالک کے علاوہ بعض پڑوسی ممالک میں بھی سکیورٹی کے مسائل پیدا ہوں گے‘تاہم وائٹ ہاؤس تاحال اپنے موقف پر ڈٹا ہوا ہے اور غالب امکان یہ ہے کہ شام اور افغانستان سے تلخ یادوں اور ناخوشگوار تجربات کے بعد امریکی انخلاء کا عمل شروع ہوگا‘افغان طالبان کیساتھ امریکی حکومت کے مذاکرات کے تین براہ راست سیشن ہوچکے ہیں‘ چوتھے سیشن نے 9 جنوری کو سعودی عرب میں ہوناتھاتاہم اس میں اسوقت ڈیڈلاک کی صورتحال پیدا ہوگئی جب طالبان نے حسب سابق ڈاکٹر اشرف غنی کی حکومت کو مذاکراتی عمل میں شریک ہونے کی شرط کو ماننے سے انکار کردیا جو کہ افغان حکومت کے علاوہ سعودی عرب‘ یو اے ای اور امریکہ کی جانب سے بھی سامنے آئی تھی۔ اب تک جتنے سیشن ہوچکے ہیں ان میں براہ راست افغان حکومت کی نمائندگی نہیں رہی جس پر افغان حکومت نے سخت احتجاج بھی کیا اور موقف اپنایا کہ حکومت کو ایسی کوئی مفاہمت قبول نہیں ہوگی جس میں امریکی آراء اور مشاورت شامل نہ ہو۔

یہی وجہ ہے کہ افغان صدر کے خصوصی نمائندے اور پاکستان میں افغانستان کے سابق سفیر محمد عمر داؤدزئی اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ پاکستان کے چار روزہ دورے پر آئے جہاں انہوں نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور دیگر اعلیٰ حکام کے علاوہ اہم سیاسی قائدین آفتاب خان شیرپاؤ‘ اسفندیار ولی خان‘ سراج الحق‘ مولانا فضل الرحمن اور اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر قبلہ ایاز سمیت متعدد دیگر اہم افراد سے بھی ملاقاتیں کیں‘ان ملاقاتوں کے دوران سیاسی قائدین نے افغان حکومت کے موقف کی تائید کرتے ہوئے مذاکراتی عمل کی کامیابی کیلئے اس کی شرکت اور مرضی کو لازمی قرار دیا جبکہ عمر داؤدزئی کا بھی واضح موقف رہاکہ مفاہمتی عمل کی کامیابی حکومت کی مشاورت اور مرضی سے مشروط ہے۔ دوسری طرف اب کے بار پاکستان کی متعدد قوتوں کا فارمولا یہ رہا کہ ماضی کے تجربات اور انکے نتائج کے تناظر میں نئے منظرنامے میں نہ صرف امن کوششوں کی بھرپور تائید کرتے ہوئے عالمی رابطہ کاری کی حمایت کی جائے بلکہ طالبان سمیت کسی بھی گروپ کو سپورٹ کرنے کی بجائے افغان عوام اور انکے اجتماعی نمائندوں کی آراء‘ خواہشات اور مفادات کو سامنے رکھ کر پالیسی وضع کی جائے‘اس ضمن میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے عمر داؤدزئی کے دورہ پاکستان سے قبل نہ صرف یہ کہ بعض اہم پشتون لیڈروں‘سابق سفارتکاروں اور فوجی افسران کیساتھ ایک تفصیلی مشاورتی ملاقات کا اہتمام کرایا بلکہ کور کمانڈرز کانفرنس کے دوران بھی اس عزم کا کھل کر اظہار کیاکہ پاکستان امن کوششوں کے دوران فعال مثبت کردار ادا کرے گا۔انہوں نے جن اہم پشتون نمائندوں سے ملاقات کی ان میں آفتاب خان شیرپاؤ‘ افراسیاب خٹک‘ محمد صادق‘ بریگیڈیئر محمود شاہ‘ رستم شاہ مہمند‘ رحیم اللہ یوسفزئی اور بعض دیگر شامل تھے۔

اس ملاقات کا مقصد ان اہم افراد سے افغانستان اور خطے کی سکیورٹی صورتحال پر ان کی آراء کو معلوم کرنا تھا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان حالیہ ڈیڈلاک کے باوجود بہت جلد اس بات پر بھی آمادہ ہوجائیں گے کہ مذاکراتی عمل میں افغان حکومت بھی شامل ہو۔ شاید اسی کا نتیجہ ہے کہ زلمے خلیل زاد نے بھی نئی صورتحال میں چین‘ بھارت‘ پاکستان اور افغانستان کا ہنگامی دورہ کیا جسکے دوران مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے امکانات کو یقینی اقدامات میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔