278

امریکہ کے ا تحادی

صدر ٹرمپ نے چودہ دسمبر کو ترکی کے صدر طیب اردوان کے ساتھ ٹیلیفون پرشام کی خانہ جنگی کے بارے میں ایک طویل گفتگو کی اسکے پانچ دن بعد انہوں نے ٹویٹ کیا کہ وہ شام سے دو ہزار امریکی فوجیوں کو تیس دن کے اندر واپس بلا لیں گے امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ اردوان نے صدر امریکہ سے کہا کہ داعش کی شکست کے بعد امریکی فوج کی ضرورت نہیں رہی اسلئے وہ چاہے تو واپس جا سکتی ہے اسکے چلے جانے کے بعد اگر داعش نے کوئی شورش برپا کی تو ترک فوج اسکا مقابلہ کر سکتی ہے صدر ٹرمپ اس گفتگوسے چند روز پہلے کہہ چکے تھے کہ داعش کو شام اور عراق سے نکال دینے کے بعد امریکہ نے اپنا مشن مکمل کر لیا ہے ترکی کی فوج ناٹو اتحاد کی دوسری سب سے بڑی فوج ہے امریکہ کی Incirlik Air Base جو ترکی کے جنوب میں واقع ہے پورے مشرق وسطیٰ میں فضائی حملوں کے لئے استعمال کی جاتی ہے اسکے باوجود امریکہ کے دفاعی ماہرین کی رائے میں ترک فوج داعش کی پیش قدمی نہیں روک سکتی اس کی وجہ کردوں کی تحریک آزادی ہے جو عراق‘ ترکی اور شام میں جاری ہے ان تینوں ممالک میں کرد گوریلا تنظیمیں امریکہ کی مدد سے داعش اور بشارلاسد کے خلاف بر سر پیکار ہیں امریکہ ایک طرف ناٹو میں ترکی کا اتحادی ہے اور دوسری طرف وہ کردوں کو آزاد کردستان بنانے کا لالچ دیکر اپنے مقاصدکے لئے استعمال کر رہا ہے ادھر ترکی بھی امریکہ کا اتحادی ہونے کے باوجود روس اور ایران سے دوستی کی پینگیں بڑھا رہا ہے یہ وہ میدان جنگ ہے جسکا نقشہ Mathew Arnold (1822-1888)نے تقریباً دوسو برس قبل اپنی شاندار نظم Dover Beach میں بیان کیا تھااس نے کہا تھا کہ دنیا ایک تاریک میدان جنگ ہے اور ہم رات کے اندھیرے میں بے خبر دشمنوں کی طرح ایک دوسرے سے بر سر پیکار ہیں

We are here as on a darkling plain
Where ignorant armies clash by night

سات سال سے جاری اس مہیب جنگ میں روس ‘ ایران اور شام کندھے سے کندھا جوڑ کر امریکہ‘ خلیجی ممالک‘ ترکی‘ کرد لبریشن آرمی اور داعش سے نبرد آزما ہیں اب تک اقوام متحدہ کے اعدادو شمار کے مطابق شام کے تقریباّّ چھ لاکھ افراد کے علاوہ چوبیس ہزار کرد بھی اس جنگ میں ہلاک ہو چکے ہیں کردوں نے جدید امریکی اسلحہ اور کئی سو ملین ڈالر لیکر تین ملکوں میں امریکہ کی جنگ لڑی لیکن ا امریکہ نے ان سے کئے ہوے تمام عہدو پیمان توڑ کر شام سے اپنی فوجوں کی واپسی کا اعلان کر دیا ہے اب کردوں کو عراق‘ ترکی اور شام کے غیض و غضب کا سامنا کرنا پڑیگا ان کے علاوہ اسرائیل اور سعودی عرب بھی فریاد کر رہے ہیں کہ انہیں روس ایران اتحاد کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے گزشتہ ہفتے مشرق وسطیٰ میں امریکی انخلاء کے فیصلے کے خلاف اتنا شورو غوغا ہواکہ واشنگٹن سے وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کو فوراً کئی ملکوں کا دورہ کر کے اتحادیوں کو یقین دلانا پڑا کہ امریکہ اتنا جلدی واپس نہیں جا رہا ‘ اسے جاتے جاتے بھی کئی مہینے لگ جائیں گے اور اسکی فضائی فوج اسکے چلے جانے کے بعد بھی اتحادیوں کی مدد کے لئے موجود رہے گی مگر اسرائیل خطے کی واحد ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود مسلسل فریاد کر رہا ہے اسے تسلی دینے کے لئے جان بولٹن نے یروشلم میں ایک دھواں دھار تقریرکی امریکہ کی قومی سلامتی کے مشیر نے کہا کہ انکا ملک داعش کی مکمل شکست تک اورایران کو شام سے رخصت کرنے کے بعد ہی واپسی کا سفر اختیا ر کرے گا۔

اسکے ساتھ ہی جان بولٹن نے ترکی سے مطالبہ کیا کہ وہ کردوں کو تحفظ فراہم کرے اسکے بعد وہ جب انقرہ میں طیب اردوان سے ملاقات کرنے پہنچے تو ترک صدر نے ان سے ملنے سے انکار کر دیا ور کہا کہ جان بولٹن نے جو پیغام اسرائیل میں ہمیں دیا ہے وہ ہمارے لئے ناقابل برداشت ہے ۔صدر اردوان نے دس جنوری کو بیان دیا It is not possible for us to swallow the message Bolton gave from Israelاسکے ساتھ ہی امریکہ ترکی تعلقات ایک مرتبہ پھر بحران کی زدمیں آگئے۔ دس جنوری کو قاہرہ کی امریکی یونیورسٹی میں ایک زور دار تقریر کرتے ہوے سیکرٹری آف سٹیٹ مائیک پومپیو نے کہا کہ امریکہ اپنے اتحادیوں کے تحفظ کے لئے پہلے سے زیادہ سرگر می سے اپنا کردار ادا کریگا انکی شعلہ بیانی کا اصل ہدف ایران تھا پومپیونے کہا کہ ہم آخری ایرانی فوجی کے شام سے نکل جانے کے بعد ہی اس خطے سے رخصت ہوں گے امریکی وزیر خارجہ نے کہا وہ جانتے ہیں کہ When America retreats chaos follows یعنی جب امریکہ پسپائی اختیا کرتا ہے تو نراج اسکی جگہ لے لیتا ہے پومپیو نے کہا ’’ جب ہم اپنے دوستوں کو نظر انداز کرتے ہیں تو انکے غم و غصے میں اضافہ ہو جاتا ہے ‘ جب ہم دشمنوں سے اتحاد کرتے ہیں تو وہ پیشقدمی شروع کر دیتے ہیں‘‘ قاہرہ میں جب ایک صحافی نے انکی توجہ دلائی کہ انکے اور صدر امریکہ کے مؤقف میں تضاد پایا جاتا ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ تضاد میڈیا کا گھڑا ہوا ہے ااور اسکا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

مشرق وسطیٰ کے ممالک ابھی اس تذبذب میں مبتلا تھے کہ صدر امریکہ کی بات مانی جائے یا انکے وزیروں کی کہ گیارہ جنوری کو پینٹاگون نے یہ خبر دی کہ شام سے امریکی اسلحے کی واپسی شروع ہو گئی ہے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک امریکی دانشور نے کہا ہے Bolton and Pompeo have run out of time on this one یعنی بولٹن اور پومپیو کے ہاتھ سے وقت نکل چکا ہے یہ وقت اب نہ جانے کس کے ہاتھ میں ہے نظر یہ آرہا ہے کہ اب روس‘ ایران اور شام کو خطے میں قدم جمانے کا موقع ملے گا مگر مغربی طاقتوں نے بھی اس پرانے ٹھکانے کو آسانی سے نہیں چھوڑنا اس خطے کو پہلے بھی نراج اور انتشار سے ہی قابو میں رکھا گیا تھا اب بھی ایسا ہی ہوگا میتھیو آرنلڈ کے اس تاریک میدان جنگ میں کردوں نے کرائے کے سپاہی بن کر خفت اور پشیمانی کے علاوہ کچھ نہ حاصل کیا ہزاروں جانوں کی قربانی دینے کے بعد بھی انکے ہاتھ کچھ نہ آیا انکی تسلی کے لئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس خرابے سے کچھ دور ایک ایسا ملک بھی ہے جو ساٹھ ہزار لوگوں کی قربانی اور اپنے پلے سے اربوں ڈالر لٹا دینے کے بعدہاتھ مل مل کر امریکہ سے کہہ رہا ہے کہ اب اسے کرائے کی بندوق کی طرح استعمال نہ کیا جا سکے گا کردوں کی تسلی کے لئے تو جان بولٹن نے دو چار میٹھے بول کہہ دئے ہیں مگر دوسرے زخم چاٹنے والے ملک کو امریکہ نے اس قابل نہ جانا الٹا اسکی طرف غرا کر دیکھ رہا ہے اسمرتبہ تو یورپی اور خلیجی ممالک کے علاوہ اسرائیل بھی حیران و پریشان ہے کہ اک ذرا سی دیر میں کیا ہو گیا زمانے کو ان سب اتحادیوں کی تسلی کیلئے مرزا غالب کے یہ مشہور اشعار:
تو دوست کسی کا بھی ستمگر نہ ہوا تھا
اوروں پہ ہے وہ ظلم کہ مجھ پر نہ ہوا تھا
جب تک کہ نہ دیکھا تھا قد یار کا عالم
میں معتقد فتنہٗ محشر نہ ہوا تھا