308

پشاور کا ہر ٹیج ٹریل اور علامہ اقبال کا شعر

کروڑوں روپے کی لاگت سے پشاور شہر میں گھنٹہ گھر سے گورگٹھڑی تک ہرٹیج ٹریل کی تعمیر پشاور شہر کی بگڑی ہوئی صورت کو قدرے خوبصورت بنانے کی اہم کوشش تھی‘ آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی نگرانی میں تعمیر ہونیوالا ٹریل خوبصورت ہے اور رات کو دو رویہ لائٹوں کی وجہ سے اسکی خوبصورتی میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے تو علامہ اقبال کے کونسے شعر کیساتھ ہمارے ہرٹیج ٹریل کا کنکشن ہے؟ شعر ہے
مسجد تو بنادی شب بھر میں ایمان کی حرارت والوں نے
من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا
اقبال نے تو لاہور میں راتوں رات ایک مسجد کی تعمیر کا ذکر کرکے یہ بھی کہہ دیا کہ مسجد تو بن گئی لیکن نمازی کہاں ہیں‘ٹریل تو بن گیا لیکن ٹریل کی خوبصورتی کو برقرار رکھنے والے شہری کہاں ہیں؟ اب بھی وہاں پرانے بازار کلاں والا سماں ہے۔
کوڑے کے ٹین خالی پڑے ہیں اور راستے میں اور بجلی کے کھمبوں کے آس پاس کوڑا کرکٹ بکھرا ہوا ہے‘ میں نے ایک نوجوان کو کینو کھاتے ہوئے چھلکو ں کو بازار میں پھینکتے
دیکھا تو مجھ سے نہ رہا گیا‘میں نے پوچھا کہ تم یہ چھلکے کیوں پھینک رہے ہو‘ نزدیک ایک کوڑے کا ٹین رکھا ہے وہاں کیوں نہیں ڈالتے‘ کہنے لگا سب لوگ یہ کرتے ہیں اس لئے میں بھی کر رہا ہوں۔ میں نے کہا کہ اکثر لوگ تو گنوار ہیں‘ تم تو مجھے تعلیم یافتہ لگتے ہو۔ تم کیوں کرتے ہو‘ اس نے مجھ سے جان چھڑانے کی خاطرکہا، خہ ماما، بیا بہ پوستکے ٹین کے آچوم۔

جب ٹریل بن رہا تھا تو ہمیں یہ بتایاگیا کہ یہ صرف پیدل راستہ ہوگا‘ یہاں گاڑیوں اور رکشوں کا داخلہ بند ہوگا‘ اب صوبائی حکومت نے کہنے کو توکہہ دیا لیکن لوکل حکومت نے لوگوں کو اجازت دے دی کہ وہ تحصیل کے راستے گاڑیاں لاسکتے ہیں۔ اب پیدل ٹریل کے دونوں طرف گاڑیاں پارک ہوتی ہیں اور رکشے پھٹ پھٹ کرتے تیز رفتاری سے آتے جاتے رہتے ہیں یہ اچھا ہے کہ گھنٹہ گھر کے پاس راستے کو بند کر دیاگیا ہے ورنہ ہیرٹیج ٹریل بھی پرانا بازار کلاں بن جاتا۔
پشاور شہر میں ٹریفک کا مسئلہ بہت پرانا ہے جو پراجیکٹ بھی بنتے ہیں ان میں گاڑیوں کی شہر کے اندر آمدورفت کاذکرنہیں ہوتا۔ سڑکیں کشادہ ہوتی ہیں توموٹر بردار لوگوں کیلئے۔ پیدل چلنے والوں کی سہولت‘ آرام اور سیفٹی بھاڑ میں جائے‘ شہر میں اتنی گاڑیاں آجاتی ہیں کہ ہر وقت ٹریفک جام ہوتی رہتی ہے۔
میری تجویز یہ ہے کہ شہر کے چند علاقوں میں گاڑیوں اور رکشاؤں کا داخلہ بند کر دیاجائے‘ ان میں قصہ خوانی سے لیکر چوک یادگار اور چوک یادگار سے کچہری دروازے تک کا راستہ شامل ہونا چاہئے‘چوک یادگار سے گھنٹہ گھر اور پھر تحصیل تک کا علاقہ بھی اس میں شامل ہونا چاہئے اب لوگ بہت واویلا کریں گے لیکن ہمارے شہر کے نمائندوں کوچاہے وہ لوکل گورنمنٹ میں ہوں صوبائی اسمبلی میں یا قومی اسمبلی میں ہوں مل کر یہ فیصلہ کرنا چاہئے۔

یہاں میں لندن کی مثال دیتا ہوں۔ لندن شہر کے اندر موٹر گاڑیوں کی وجہ سے ٹریفک کے پرابلم بہت ہوگئے تھے کوئی دس سال پہلے شہر کی بلدیہ نے شہر کے اندر آنے والی موٹر گاریوں پر ٹیکس لگا دیا۔ ان کا موقف یہ تھا کہ آپ اپنی پرائیویٹ گاڑی ضرور شہر کے اندر لائیں لیکن آپ کو ہر بار شہر کے اندر داخل ہونے کا ٹیکس دینا پڑے گا۔ چند ماہ کے اندر اندر حالات بہتر ہوگئے اور ٹریفک کا نظام ٹھیک ہوگیا‘ پشاور میں بھی ہر گاڑی پر 5 ہزار روپیہ ٹیکس لگا دیں‘ اسکے بہت فائدے ہوں گے۔ ایک تو لوگ پیدل چلنے کے عادی ہوجائیں گے ان کی توندیں سکڑ جائیں گی اور وہ چاک چوبند ہو جائیں گے۔ اس تجویز پر عمل کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ شہر کے باہر پارکنگ کی سہولت مہیا کی جائے۔ لاہور میں یہی کیاگیا ہے شہر کے بعض حصوں میں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کیلئے 7، 8 منزلہ پارکنگ گیراج بنا دئیے گئے ہیں جن کی وجہ سے ٹریفک بہتر ہوگئی ہے۔
ڈاکٹر پال ڈوڈلے وہائٹ(PAUL DUDLEY WHITE)، سن ساٹھ اور ستر کی دہائی میں دنیا کے مانے ہوئے کارڈیالوجسٹ تھے وہ1962ء میں پاکستان کے دورے پر آئے تو انہوں نے خیبرمیڈیکل کالج کا دورہ بھی کیا‘ سٹوڈنٹس اور اساتذہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ایک قصہ بیان کیا کہ امریکن صدر جان کینیڈی نے انہیں وہائٹ ہاؤس بلایا تھا۔ ڈاکٹر پال وہائٹ واشنگٹن ائیر پورٹ سے چھ میل پیدل چل کر وہائٹ ہاؤس پہنچے‘ وہاں صدر کی اہلیہ جیکولین کینیڈی نے ڈاکٹر موصوف سے کہا کہ وہ پیدل کیوں آئے‘ان کو وہائٹ ہاؤس کی گاڑی لے آتی اس پر ڈاکٹر موصوف نے کہا کہ میں نے پیدل چل کر اپنی عمر میں کچھ اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ راستے میں کئی لوگوں نے گاڑیاں روک کر انہیں لفٹ دینے کی آفر کی لیکن انہوں نے معذرت کردی اور اپنا پیدل سفر جاری رکھا۔
ہیرٹیج ٹریل ایک خوبصورت راستہ ہے اس کی خوبصورتی کو برقرار رکھنا ہم سب کا فرض ہے۔ یہ دوسری بات ہے ہم نے ایک خوبصورت ٹریل تو بنا دیا، اب اس کو maintain کرنے کیلئے لوگ کہاں سے لائیں؟