137

سٹیٹ بینک کی رپورٹ

بینک دولت پاکستان نے وطن عزیز کی معیشت سے متعلق اپنی رپورٹ میں اعداد وشمار کیساتھ بعض تلخ حقائق ریکارڈ کا حصہ بنائے ہیں‘ سٹیٹ بینک کا اپنی سہ ماہی رپورٹ میں کہنا ہے کہ خام تیل کی قیمتوں نے مہنگائی میں اضافہ کیا ہے جس سے بیرونی شعبوں میں بہتری زائل ہوئی‘ بینک کا یہ بھی کہنا ہے کہ بارشیں کم ہونے کے باعث زرعی شعبے میں بھی نمو کم رہی جبکہ بڑے پیمانے کی صنعتوں میں 7سال میں پہلی مرتبہ نمو کم دیکھنے میں آئی‘ بینک نے کلیئر کردیا ہے کہ رواں سال ترقی کی شرح ہدف سے 2فیصد کم رہے گی‘ بینک یہ بھی واضح کررہا ہے کہ مجموعی پیداوار کیلئے 6.2فیصد کا ہدف حاصل نہیں ہوسکے گا‘ بعض میڈیا رپورٹس میں بیرونی امداد میں 60فیصد کمی اور زرمبادلہ کے ذخائر گھٹ جانے کاخدشہ ظاہر کیاجارہا ہے‘ اس سب کیساتھ قابل اطمینان ہے کہ ساری صورتحال میں غیر ملکی ادائیگیوں کا توازن برقرار ہے‘ حکومت نے اقتدار میں آتے ہی اقتصادی شعبے کی بحالی کیلئے کوششوں کاآغاز کیا تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ بیرونی قرضوں تلے دبی اکانومی پر مزید بوجھ آگیا ہے‘ حکومت کی کوششیں ثمر آور ثابت ہو رہی ہیں کہ جن میں وہ آئی ایم ایف کو اپنی شرائط میں نرمی لانے کیلئے مجبور کررہی ہے تاکہ عوام پر بوجھ کم سے کم پڑے‘ اس ساری صورتحال میں جبکہ بینک دولت پاکستان خود تسلیم کررہا ہے کہ ڈالر کی قدر کو پر لگنے پر مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے‘ ۔

گرانی کے حوالے سے بیرونی عوامل حقیقت ہیں‘ ڈالر کی قدر ریکارڈ کا حصہ ہے‘ اس سب میں حقیقت یہ بھی ہے کہ صرف چیک اینڈ بیلنس کے موثر نظام سے عوام کو ریلیف مل سکتاہے‘ اگر مارکیٹ میں مصنوعی مہنگائی پر قابو پالیاجائے‘ لوگوں کو ملاوٹ شدہ اشیاء سے نجات دیدی جائے‘ اس مقصد کیلئے مرکز اور صوبے مل کر لائحہ عمل طے کرلیں‘ مارکیٹ میں عوامی ریلیف اتنا سنجیدہ مسئلہ ہے کہ صوبوں میں وزرائے اعلیٰ سیکرٹریٹس میں اس کیلئے مانیٹرنگ رومز کا قیام ناگزیر ہے‘ جہاں روزانہ کی بنیاد پر صورتحال کو مانیٹر کیاجائے اور مارکیٹ کے ذمہ دار محکموں سے پوچھ گچھ کی جائے۔

لورالائی حملہ

لورالائی میں ڈی آئی جی آفس پر گزشتہ روز ہونیوالے خودکش حملے اور فائرنگ میں تادم تحریر شہید ہونیوالوں کی تعداد 9بتائی جارہی ہے‘ بعض زخمیوں کی حالت نازک ہونے پر اس تعداد میں اضافے کا خدشہ بھی ہے‘ حملے کے وقت آفس کے کمپلیکس میں 800امیدوار کلاس فور میں بھرتی کیلئے آئے ہوئے تھے‘ میڈیا رپورٹس کے مطابق فورسز کی بروقت کاروائی نے مزید نقصان سے بچالیا‘ وزیراعظم نے اس حوالے سے سیکورٹی اداروں کی کارکردگی کوسراہا ہے‘ حملے سے متعلق حقائق تو انکوائری رپورٹ آنے پر ہی سامنے آئیں گے‘ سردست ضرورت سیکورٹی انتظامات پر نظرثانی اور انہیں مزید فول پروف بنانے کیلئے اقدامات کی ہے‘ اس کیساتھ ضروری یہ بھی ہے کہ ان انتظامات میں کمیونٹی کو بھی شریک کیاجائے‘ ایک ایسے وقت میں جب امن کے قیام کیلئے کام ہو رہا ہو اور ملکی معیشت کی بہتری کیلئے اقدامات اٹھائے جارہے ہوں‘ امن وامان کے حوالے سے تشویش کا پیدا ہونا پورے منظرنامے کو متاثر کرتاہے‘ اس لئے صورتحال پرکڑی نظر ضروری ے تاکہ امن اور بہتری کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہ آنے پائے۔