277

اہم فیصلے ‘عملدرآمد؟

اسلام آباد اور لنڈی کوتل میں ایک ہی روز ہونیوالے وفاقی اور خیبرپختونخوا کابینہ کے اجلاسوں میں بعض فیصلے قابل اطمینان ضرور ہیں تاہم ان کا عوام کیلئے ریلیف کا ذریعہ بننا عملدرآمد کے موثر انتظام سے جڑا ہوا ہے وفاقی کابینہ نے سبسڈی ختم کرتے ہوئے حج اخراجات میں ڈیڑھ لاکھ روپے کا اضافہ کیا ہے حج اخراجات میں اضافے کا حجم غیر متوقع ہے جس پر سینٹ میں بھی اعتراض ہوا ہے‘ اخراجات میں اتنا بڑا اضافہ اس بات کا متقاضی ہے کہ سہولیات کی فراہمی فول پروف بنائی جائے اس کیساتھ نجی شعبے کو دیئے گئے 40 فیصد کوٹے پر اس سے بھی بھاری اخراجات برداشت کرنیوالے عازمین کو اگر موقع پر سہولیات نہ ملیں تو واپس آکر اپنی شکایات درج کرانے کا کم ازکم ان کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا اسلئے شکایات کی شنوائی آن سپاٹ ہی ہونی چاہئے‘ اس سارے عمل میں وزیراعظم کی یقین دہانی قابل اطمینان ہے جس کیلئے مکینزم ترتیب دینا ہوگا کابینہ نے 43 ایسے ادارے اور کارپوریشنز ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو کام ہی نہیں کررہے‘وطن عزیز میں بیوروکریسی اصلاحات کیساتھ اداروں کے انتظامی معاملات میں پائی جانیوالی خامیوں کو دور کرنا اور دفتری آپریشن کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا بھی ضروری ہے‘ اس سارے عمل میں ہیومن ریسورس مینجمنٹ بھی ناگزیر ہے تاکہ ملازمین کو تحفظ ملے اور انہیں متبادل آسامیوں پر کھپایا جائے خیبرپختونخوا حکومت نے کابینہ کا اجلاس تاریخ میں پہلی مرتبہ لنڈی کوتل میں منعقد کرکے مثبت قدم اٹھایا ہے اس کیساتھ ہی نئے اضلاع سے متعلق اہم فیصلے بھی ہوئے ہیں ۔

اجلاس نے صوبے کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال لیڈی ریڈنگ کیلئے ایک ارب روپے کے سامان کی خریداری کی منظوری بھی دی‘نئے اضلاع کے حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت کے اقدامات قابل اطمینان ضرور ہیں ان کیساتھ یہ حقیقت بھی مدنظر رکھنا ہوگی کہ تمام تر امور یکسو کرنے کیلئے بنیادی ضرورت فنڈز کی ہے وزیراعلیٰ اس ضمن میں نشاندہی بھی کررہے ہیں وفاق اور صوبے کے ذمہ دار محکموں کو اس حوالے سے کاروائی جلد مکمل کرنے کیلئے اقدامات اٹھانا ہوں گے خیبرپختونخوا کو درپیش حالات اور مشکلات اس بات کی بھی متقاضی ہیں کہ صوبے کا پن بجلی منافع اور اس کے بقایا جات فی الفور ادا کئے جائیں تاکہ صوبائی حکومت اپنے اہداف کے بروقت حصول میں کامیاب ہو ‘بصورت دیگر ادھورے ایجنڈے قومی خزانے کے ضیاع اور عوام میں مایوسی کا سبب ہی بنتے ہیں۔

مانیٹری پالیسی

سٹیٹ بینک آف پاکستان کی نئی مانیٹری پالیسی میں شرح سود زیادہ کئے جانے کیساتھ مہنگائی میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جارہاہے‘ ہمارے رپورٹر کی فائل کردہ سٹوری میں صوبائی دارالحکومت میں چینی گھی اور خوردنی تیل کی قیمتوں میں اضافے کی نشاندہی کی گئی ہے‘ پشاور کی عدالت عالیہ نے ادویات کی قیمتوں میں15فیصد اضافے پر عملدرآمد روک دیا ہے‘مانیٹری پالیسی اور حکومت کے اقتصادی شعبے میں بعض اقدامات اپنی جگہ سہی اس وقت ضرورت مارکیٹ کنٹرول کے لئے مستقل بنیادوں پر انتظام کی ہے‘کنٹرول کے اس عمل میں صرف نرخنامے چیک کرنا کافی نہیں‘ ملاوٹ اور اوز ان وپیمائش کا چیک بھی ضروری ہے ملاوٹ تو اس حد تک آگے جاچکی ہے کہ مارکیٹ میں دوائیں بھی جعلی اور دو نمبر کی مل رہی ہیں جس پرسنجیدگی سے ایکشن نہ لیاگیا تو عوامی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔