224

میونسپل اداروں کاقیام اور فعالیت

خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے میں ضم ہونے والے قبائلی اضلاع میں 19 تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشنز قائم کرنے کے لئے کمیٹی تشکیل دیدی ہے‘ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر جاری ہونے والے اعلامیے میں 6سب ڈویژنوں میں میونسپل دفاتر قائم کرنے کاکہا گیا ہے‘ قبائلی اضلاع کے قیام اور وسیع جغرافیے کے حامل ان اضلاع میں تعمیر وترقی کے لئے اقدامات ایک بڑے چیلنج کی حیثیت رکھتے ہیں اس حقیقت سے انحراف ممکن نہیں کہ کسی بھی ڈسٹرکٹ‘ صوبے یا مجموعی طورپر ملک کی تعمیر وترقی کے لئے اقدامات عام شہری کے لئے اس وقت خوشگوار احساس کے حامل ہوتے ہیں جب اسے تبدیلی کاخوشگوار احساس ہو‘ اس تبدیلی کا زیادہ حصہ میونسپل سروسز کا ہی ہے‘ ان خدمات میں جب منتخب قیادت کی مشاورت اور اختیار شامل ہوجائے تو لوگوں کو گلی محلے کی سطح پر سہولیات ملنا شروع ہوجاتی ہیں‘ خیبرپختونخوا کے لئے گزشتہ دور حکومت میں بلدیاتی نظام کا نیا ڈھانچہ دیاگیا جس میں اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کرنے کے لئے متعدد نکات شامل تھے‘ اس میں وقت کیساتھ بعض مشکلات بھی سامنے آتی رہیں جبکہ ٹاؤن انتظامیہ کے لیول پر کارکردگی کا اندازہ گزشتہ روز وزیراعلیٰ کے ایکشن سے ہوتا ہے جس میں بعض ٹاؤنز کو فوری طورپر اصلاح احوال کا کہاگیا ہے‘ صوبائی حکومت کی جانب سے قبائلی اضلاع کے لئے تحصیل ایڈمنسٹریشنز کے قیام کا حکم قابل اطمینان ضرور ہے لیکن اس کا ثمر آور ہونا فعالیت کے ساتھ مشروط ہے‘ قبائلی اضلاع میں میونسپل سروسز کا ویسے بھی فقدان ہے ۔

ان کی فراہمی کے لئے لوکل گورنمنٹ کے سیٹ اپ کو وسائل اور افرادی قوت کی ضرورت بھی ہوگی‘ اس کے ساتھ یہاں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد بھی ضروری ہے تاکہ سہولیات کی فراہمی اور تعمیر وترقی کے عمل میں عام شہریوں کی شرکت یقینی بنائی جائے‘ صوبے میں مجموعی طورپر بھی میونسپل سروسز کی فراہمی کے لئے کڑی نگرانی کی سخت ضرورت ہے‘ صوبے کے کسی بھی حصے میں جب صفائی کی صورتحال میں بہتری آئے‘ لوگوں کو پینے کا صاف پانی باآسانی ملے‘ سٹریٹ لائٹس اور دیگر سہولیات نظر آئیں تو لوگوں کو خود بخود تبدیلی کا خوشگوار احساس ہوگالیکن جب کئی کئی سال ڈمپنگ گراؤنڈز جیسا مسئلہ نہ حل ہوپائے اور پرانے بوسیدہ پانی کے پائپ بیماریاں پھیلاتے رہیں تو لوگوں میں مایوسی ہی پھیلتی ہے۔


گیس کی قیمتیں اور خدمات

وفاقی وزیر پٹرولیم غلام سرور خان نے گیس مہنگی کرنے کو مجبوری قرار دیتے ہوئے یہ بھی واضح کردیا ہے کہ اب مزید کوئی سب سڈی نہیں دی جائے گی‘ ان کا کہنا ہے کہ ملک چلانے کے لئے عوام کو یہ بوجھ برداشت کرنا ہوگا‘ گیس کی قیمتوں میں اضافہ حکومت کی مجبوری سہی‘ لائن لاسز کا بوجھ صارفین پر ڈالنا تو خود محکمانہ بدانتظامی ہے‘ 20ہزار سے زائد کا گیس بل قسطوں میں لینے کو سہولت بھی قرار دیاجائے تو غلط ریڈنگ اور اضافی بلوں کا سلسلہ روکنا تو محکمانہ ذمہ داری ہی ہے کنکشن سے لے کر سروسز کی فراہمی تک کے مراحل کوآسان بنانا بلکہ ممکن بنانا بھی محکمانہ ذمہ داری ہے‘ ایمرجنسی کی صورت میں فوری خدمات بھی متعلقہ دفاتر کا کام ہے‘ حکومت اگر گیس مہنگی بھی کرتی ہے تو صارفین کو سہولیات بھی یقینی بنائے تاکہ بھاری ادائیگی کرنے والوں کو کچھ تو ریلیف ملے۔