269

وزیراعظم ‘ وزیراعلیٰ کانوٹس

وزیراعظم عمران خان نے گھریلو صارفین کیلئے گیس کے بلوں میں اضافے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے انکوائری کا حکم دیدیاہے عین اسی رو ز جب وزیراعظم نے لاہور میں گیس بلوں سے متعلق انکوائری کا حکم دیا وزیراعلیٰ خیبر پختونخوامحمود خان نے صوبے میں گیس اور بجلی کی اووربلنگ سے متعلق بڑھتی ہوئی شکایات پر پیسکو اور سوئی ناردرن کے ذمہ دار حکام کو تنبیہ کی کہ وہ اپناقبلہ درست کر لیں وزیراعلیٰ نے خدمات کے ذمہ دار اداروں میں موجود کالی بھیڑوں کے احتساب کاحکم بھی دیا‘وزیراعظم اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا نوٹس مسائل کے احساس کی عکاسی کرتا ہے وطن عزیز میں توانائی کا بحران ایک حقیقت ہے اس بحران کیساتھ صورتحال کو مزید خراب اور عوام کیلئے پریشان کن بنانے والی بدانتظامی کا نوٹس لیاجانا ضروری ہے ‘اس بدانتظامی میں کنکشن کا مشکل حصول ‘ بغیر ریڈنگ کے بل ‘ بلوں کی اقساط میں لیٹ ادائیگی کے جرمانوں کا شامل ہونا ‘ خرابی کی صورت میں مرمت کیلئے ناکافی انتظامات ‘ متعلقہ دفاتر میں ون ونڈو آپریشن کا فقدان بھی شامل ہے۔

لائن لاسز کو روکنے کیلئے اقدامات کی بجائے اپنا بل جمع کرانے والے صارفین کو صرف اس لئے سزا دینا کہ ان کے علاقے میں دوسرے لوگ بل جمع نہیں کراتے بھی زیادتی کے زمرے میں آتا ہے اس سب کیساتھ انرجی سیکٹرجو کہ کسی بھی ریاست میں معیشت کے حوالے سے انتہائی اہم کردار کا حامل قرار دیا جاتا ہے مالیاتی طور پر بھی ڈسپلن کے فقدان کا شکار ہے اس سیکٹر میں زیادہ قابل تشویش گردشی قرضے ہیں جن میں یومیہ1897 ملین روپے اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے‘ اس شعبے میں مزید مشکلات سے بچانے کیلئے بڑے پیمانے پر اصلاحات کی ضرورت اپنی جگہ ہے ان عوامل کاپتہ لگانا بھی ضروری ہے کہ جو اس کاباعث بنے سستی بجلی کی پیداوار کے لئے اقدامات بھی ضروری ہیں‘ لائن لاسز پر قابو پانے کے لئے کاروائی میں بجلی اور گیس کے متعلقہ دفاتر کیساتھ انتظامیہ کا تعاون بھی ضروری ہے اس سب کیساتھ ان ذمہ دار اداروں کو ذمہ داری کا یہ احساس دلانا بھی ضروری ہے کہ ان کا کام خدمات مہیا کرنا ہے جن کا معیار بہتر بناناضروری ہے اس مقصد کے لئے اہداف کا تعین اور ان کے حصول کے لئے ٹائم فریم بھی ناگزیر ہے جس کے لئے سنجید ہ اقدامات اٹھانا ہوں گے ۔

گردو غبار اور بیماریاں

بس منصوبے سمیت دیگر سرکاری و نجی تعمیراتی کاموں کیساتھ سالانہ بھل صفائی نے صوبائی دارالحکومت میں آلودگی کے مسئلے کی شدت کو مزید بڑھا دیا ہے جن سے طرح طرح کی بیماریاں بھی پھیل رہی ہیں بھل صفائی کے اثرات صرف نہروں کے کناروں تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے شہر میں گرد و غبار کے طوفان کی طرح پھیل جاتے ہیں پشاور میں نہریں سیوریج لائنوں کے طور پر بھی استعمال ہوتی ہیں گھروں سے سیوریج کا پانی نہر میں آ کر گرتا ہے اس کیساتھ صفائی کیلئے بند ہونے والی نہر میں شاپنگ بیگز بھی تشویشناک حد تک ہیں‘ اس صورتحال کا تقاضا ہے کہ تمام ذمہ دار محکموں کے وسائل اور افرادی قوت کویکجا کرکے مربوط حکمت عملی ترتیب دی جائے اس بات کو مدنظر رکھنا بھی ضروری ہے کہ شہری پہلے ہی آلودہ فضاء اور زنگ آلود بوسیدہ پائپ لائنوں سے آنے والے پانی کے باعث مختلف بیماریوں کا شکار چلے آ رہے ہیں۔