214

ہیلتھ کارڈاور عوامی مشکلات

وزیراعظم عمران خان غربت کے خاتمے کیلئے جامع پروگرام لانے کا عندیہ دے رہے ہیں‘ وہ صحت انصاف کارڈ سے 8کروڑ لوگوں کے مستفید ہونے کا بھی کہتے ہیں‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ صحت انصاف کارڈ ہولڈرخاندان 7لاکھ 20ہزار روپے تک خرچ کرسکتاہے‘ دریں اثناء وزیراعظم کھلے دل کیساتھ اس بات کا اعتراف بھی کررہے ہیں کہ روپے کی قدر میں کمی کے باعث عوام مشکلات کا شکار ہیں‘ ان کا کہنا ہے کہ روپیہ گرنے سے مہنگائی بڑھی ہے‘ اسی روز جب وزیراعظم غریب عوام کو درپیش معاشی مشکلات کا ذکر کررہے تھے‘ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 57پیسے کا اضافہ ہوگیا‘ دسمبر میں فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں ہونیوالے اس اضافے سے صارفین پر 4ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑا ہے‘ اسی روز وزارت خزانہ نے پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی میں 14روپے اضافہ کردیا ہے‘ یہ اضافہ ایسے وقت میں کیاگیا ہے جب عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں کے تناظر میں عوام کو 35ارب روپے کا ریلیف دیاجاسکتا تھا‘ خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ اضافہ 185ارب کے ریونیو شارٹ فال کے باعث کیاگیا۔

اس شارٹ فال کا ذمہ دار جو کوئی بھی ہو‘ سزا عام شہری کو ہی ملے گی‘ حکومت کا معیشت کی بحالی کیلئے عزم اور عام آدمی کے ریلیف کی یقین دہانی قابل اطمینان ضرور ہے تاہم اس وقت ضرورت مہیا وسائل کے اندر موجودہ انفراسٹرکچر کیساتھ عوام کو سہولیات فراہم کرنے کی ہے‘ حکومت کی جانب سے ہیلتھ کارڈز کا اجراء انتہائی قابل اطمینان اقدام ضرور ہے‘ اس کیلئے مزیدمستحقین کی نشاندہی ضروری ہے‘ ضروری یہ بھی ہے کہ کارڈ کے حصول میں ناکام شہریوں کو بھی سرکاری طبی اداروں میں خدمات یقینی بنائی جائیں‘ اس بات کو بھی مدنظر رکھاجائے کہ سرکاری ہسپتال اب صرف وہی لوگ جاتے ہیں جن کیلئے نجی شعبے میں علاج کرانا کسی صورت ممکن ہی نہیں ہوتا‘ یہ سب غریب ہوتے ہیں‘ جن کیلئے سروسز کا معیار بہتر بناناضروری ہے‘ ضروری یہ بھی ہے کہ کارڈہولڈرز کیلئے فراہم سہولیات کی کڑی نگرانی کی جائے‘ وزیراعظم خود گرانی میں اضافے کا اعتراف کرتے ہیں‘ اس میں بعض عوامل ایسے ہیں جنہیں حکومتی مجبوری قرار دیاجاسکتا ہے تاہم اس بات سے بھی انکار ممکن نہیں کہ صرف چیک اینڈ بیلنس کیلئے فول پروف نظام وضع کرکے کم ازکم مصنوعی گرانی‘نائزمنافع خوری اور ملاوٹ جیسے دھندے پر قابو پانا ممکن ہے‘ اس مقصد کیلئے سرکاری مشینری کی فعالیت ناگزیر ہے۔

پنشن کیس اور محکمانہ رابطے

محکمہ تعلیم میں ملازمین کی ریٹائرمنٹ سے تین ماہ قبل پنشن پیپرز اور دوسری دستاویز کی تیاری کا حکم قابل اطمینان ہے‘ کاغذات کی تیاری اور فائل کی گردش کیلئے ٹائم فریم بھی دیدیاگیا ہے‘ اس سارے عمل کا ثمر آور ہونا عمل درآمد کے مراحل کی کڑی نگرانی سے مشروط ہے‘ پنشن کیس صرف ایک محکمے تک محدود نہیں‘ اس میں منظوری اکاؤنٹنٹ جنرل کے دفتر سے لی جاتی ہے‘ پنشن ہو یا جی پی فنڈکیس‘ صرف اسی صورت بہتر انداز میں یکسو ہوسکتا ہے جب متعلقہ دفاتر اور اے جی آفس کے درمیان باہمی رابطے کو مضبوط انداز میں یقینی بنایاجائے‘ بصورت دیگر کاغذات جاتے اور اعتراضات کیساتھ واپس آتے ہی رہیں گے اور ملازمین اپنے ہی پیسوں کیلئے دفاتر کے چکر کاٹتے ہی رہیں گے‘ اگر بات صرف محکمہ تعلیم تک رہی تو یہ اقدام ادھورا ہی رہے گا۔