156

سیاسی ماحول‘قائمہ کمیٹیاں

ملک کے سیاسی منظرنامے میں گرما گرمی کا سلسلہ بدستور جاری ہے ایک دوسرے کیخلاف تلخ بیانات اور الزامات لگ رہے ہیں ‘عدالتوں میں ہائی پروفائل کیس بھی توجہ کا مرکز ہیں‘اس سارے ماحول میں 6 ماہ کی تاخیر سے سہی قومی اسمبلی کی 36 قائمہ کمیٹیاں تشکیل دیدی گئی ہیں‘میڈیا رپورٹس کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اراکین کے ناموں کا اعلان حکومت اور اپوزیشن کے اتفاق رائے سے کیا‘کمیٹیوں کیلئے سربراہوں کا انتخاب متعلقہ کمیٹیاں خود کریں گی‘ فہرست کے مطابق سابق صدر مملکت آصف علی زرداری اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کسی قائمہ کمیٹی میں شامل نہیں‘ اس سے پہلے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سربراہی کا معاملہ یکسوکیا جاچکا ہے جو پہلے تناؤ کا ذریعہ رہا‘ کمیٹیوں کی تشکیل پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان رابطہ اور اتفاق قابل اطمینان ہے جمہوری ماحول میں اختلاف رائے معمول کا حصہ ہے اس اختلاف کیساتھ ضرورت بعض معاملات پر اتفاق رائے اور انہیں یکسو کرنے کی اپنی جگہ موجود رہتی ہے اسوقت ملک کو اقتصادی اور دوسرے چیلنجوں کا سامنا ہے پانی قلت سنگین صورتحال اختیار کرتی چلی جارہی ہے۔

عام شہری بنیادی سہولیات کا متقاضی ہے ملک میں گرانی روز بروز بڑھتی جارہی ہے بیرونی قرضوں کا گراف بھی اوپر ہی چلا جارہا ہے توانائی کا بحران نہ صرف مجموعی ملکی معیشت کو متاثر کررہا ہے بلکہ اس سے عام شہری بھی اذیت کا شکار ہے‘ آبی ذخائر سے متعلق بڑے فیصلوں کی ضرورت ہے‘میثاق معیشت کی باتیں ایک عرصے سے سنی جارہی ہیں جس کو عملی صورت دینابھی ناگزیر ہوچکا ہے‘ ملک میں سرکاری دفاتر کی کارکردگی میں بہتری لانے اور انہیں جدید سہولیات سے ہم آہنگ بنانے کیلئے تجاویز کی ضرورت ہے‘ محکموں کی کارکردگی قائمہ کمیٹیوں جیسے پلیٹ فارمز پر زیر بحث آنے سے اصلاح احوال کے راستے کھلتے ہیں‘ کیا ہی بہتر ہو کہ پی اے سی کی سربراہی اور بعدازاں قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل جیسے اہم معاملات سیاسی رابطوں اور اتفاق رائے سے طے پائے اس طرح دیگر اہم ایشوز پر بھی کھلے دل کیساتھ بات چیت ہو‘ یہ بات بھی مدنظر رکھنا ہوگی کہ کسی بھی ملک میں معاشی استحکام کیلئے سیاسی استحکام ناگزیر ہوتا ہے اس استحکام کیلئے سینئر سیاسی قیادت کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ ملک کی تعمیر وترقی کیساتھ عوام کو ریلیف مل سکے جس سے لوگوں کے اعتماد میں اضافہ ہوگا۔

کرک ٹریفک حادثہ

پشاور ڈیرہ اسماعیل خان روٹ پر کرک کے علاقے میں ہونیوالے ٹریفک حادثے میں تادم تحریر جاں بحق ہونیوالوں کی تعداد11بتائی جارہی ہے جبکہ 5مسافر زخمی بھی ہیں‘ٹریفک حادثات کی تشویشناک شرح اور ان میں قیمتی جانوں کا ضیاع روڈ سیفٹی کے حوالے سے اقدامات اور ٹریفک انجینئرنگ کی مہارت کو استعمال میں لانے کا متقاضی ہے صوبائی حکومت کے ترجمان اجمل خان وزیر نے عندیہ دیا ہے کہ گاڑیوں میں استعمال ہونیوالے سی این جی کے غیر معیاری سلنڈر بنانے والوں کیخلاف سخت ایکشن لیا جائیگا وہ ان سلنڈروں کے پھٹنے جیسے واقعات کی روک تھام کیلئے اقدامات کا بھی کہتے ہیں روڈ سیفٹی اور سلنڈروں کے حوالے سے قاعدے قانون پر عملدرآمد یقینی بنانا عملی اقدامات کا متقاضی ہے اس کیلئے قواعد میں ضرورت کے مطابق ترامیم کی ضرورت ہو تو اس کیلئے بھی آگے بڑھاجائے ہر حادثے کے بعد افسوس کے اظہار اور اگلے حادثے کا انتظار کسی صورت درست روش نہیں۔