283

وفاقی کابینہ کا ایجنڈا

وطن عزیز کے عرصہ سے سیاسی گرماگرمی اور تناؤ کے ماحول میں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں دیگر معاملات کیساتھ مہنگائی اور گیس کے اضافی بلوں جیسے اہم مسائل پر بھی بات ہوئی ہے‘ وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف سے چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سربراہی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کیا‘ وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ نیب کے اختیارات کم نہیں کئے جا رہے‘ اس سب کیساتھ وفاقی کابینہ نے اشیائے ضروریہ کے نرخوں کا جائزہ لینے کیلئے وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں خصوصی کمیٹی قائم کی ہے‘اجلاس میں سوئی گیس بلوں کی اووربلنگ کا آڈٹ کرنے کا عندیہ بھی دیاگیا‘ گرانی سے متعلق سرکاری اعداد وشمار میں جتنی بہتری آجائے صارفین کا ریلیف مارکیٹ سے جڑا ہوا ہے‘مارکیٹ اس صورت متوازن رہ سکتی ہے جب چیک اینڈ بیلنس کا فول پروف نظام موجود ہو ‘وفاقی کابینہ ہو یا کوئی بھی صوبائی حکومت‘ کسی کے پاس اس مقصد کیلئے ضرورت کے مطابق سیٹ اپ موجود نہیں‘ذمہ دار دفاتر اپنے مہیا وسائل اور مین پاور کیساتھ وقفے وقفے سے دوچار چھاپے ضرور مارتے ہیں بعد میں ہر جگہ خاموشی چھا جاتی ہے۔

جس سے یہی تاثرملتا ہے کہ سب اچھا ہوگیا ہے‘گرانی کیساتھ ملاوٹ اور غیر معیاری اشیاء کی فروخت بھی قابل تشویش ہے‘ دودھ میں مضر صحت کیمیکلز ‘ناقص گھی اور آلودہ پانی شہریوں کی صحت اور زندگی کیلئے خطرہ ہے جبکہ یہی شہری بیمار ہونے پر عطائیوں کے ہتھے بھی چڑھتا ہے اور مستند ڈاکٹر کی تجویز کردہ دوا بھی اس کو غیر معیاری ملتی ہے‘اس کیلئے روٹی کے ویٹ اور ریٹ کی پڑتال کا نظام بھی سست روی کا شکار رہتا ہے‘ شہری کو بنیادی سہولیات نہ ملنے کا گلہ بھی ہے معاشی مسائل حکومت کیلئے ایک بڑا چیلنج ضرور ہیں ان کے حل کیلئے اقدامات بھی اپنی جگہ قابل اطمینان سہی لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ عام آدمی کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے‘خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ محمود خان نے آئندہ بجٹ کو عوامی توقعات کے مطابق بنانے کیلئے جامع سروے کا عندیہ دیا ہے‘ اگر واقعی میں یہ سروے گراس روٹ لیول پر مشکلات کی نشاندہی کر ڈالے تو اسے دوسرے صوبوں کیلئے رول ماڈل بنایاجائے اور اسکی روشنی میں قومی وصوبائی بجٹ تیار کئے جائیں تو عام آدمی کو ریلیف کا خوشگوار احساس ملے گا اس سب کیساتھ مرکز اور صوبوں کے خدمات کے ذمہ دار اداروں کی کارکردگی پر نظر رکھنا ضروری ہے تاکہ لوگوں کو سروسز مل سکیں جن کیلئے اربوں روپے کے فنڈز ہر سال جاری ہوتے ہیں۔

قبائلی اضلاع کے انتظامی معاملات

گورنر ہاؤس پشاور میں ہونیوالے اہم اجلاس میں قبائلی اضلاع میں پولیس نظام سے متعلق بعض فیصلوں کی منظوری دی گئی‘اس کیساتھ ہی عمر خان آفریدی کی سربراہی میں ایک خصوصی ایڈوائزری بورڈ بھی تشکیل دیدیاگیا‘ بورڈ گڈ گورننس اور قبائلی روایات وثقافت کے تحفظ کا ذمہ دار بھی ہوگا‘گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان قبائلی عوام کی محرومیوں کا ازالہ یقینی بنانے کا کہتے ہیں‘ قبائلی علاقوں کا صوبے میں انضمام اور یہاں تعمیر وترقی کا مقصد انتظامی امور درست کرنے سے ہی ممکن ہے جن کیلئے کوششیں قابل اطمینان ہیں ‘ضرورت اس مقصد کیلئے فنڈز کے اجراء‘ این ایف سی ایوارڈ میں شیئر اور یہاں صنعتی ترقی کیلئے اقدامات کی ہے اس حقیقت کو مدنظر رکھنا ہوگا‘سرکاری محکموں میں رائج فائل سسٹم کسی بھی کیس کو یکسو کرنے میں طویل وقت لیتا ہے اسے سہل بناکر ہی حکومت اپنے اہداف حاصل کر سکتی ہے۔