304

اداروں کا زوال

پاکستان میں سیاست اور انصاف دونوں ہی کچھ ایسے پرپیچ زاوئیے بدل رہے ہیں کہ انکی بدولت ریاست کے اہم اداروں کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے اسکے نتیجے میں عوام میں جو برانگیختگی جنم لے گی وہ ملازمتوں سے محرومی اور افراط زر کیساتھ مل کر انہیں ایک ایسے شدید ردعمل کے اظہار پر مجبور کر دیگی جسکے نتائج کا کسی کو اندازہ تک نہیں۔اس ضمن میں قابل غور نکات ملاحظہ فرمائیے۔ نیب پر الزام ہے کہ اس کا احتسابی عمل یک طرفہ طور پرپی پی پی اور نون لیگ کیخلاف ہی جاری ہے اور یہ الزام درست بھی معلوم ہوتا ہے کیونکہ احتسابی مقدمات کی بڑی تعداد حزب اختلاف ہی کے رہنماؤں کیخلاف ہے۔ نیب کی ’کارکردگی ‘بھی قابل اعتراض ہے‘نوے فیصد سے زائد مقدمات کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انہیں کامیابی سے نمٹا دیا گیا ہے حالانکہ یہ مقدمات اعترافات جرم کی بنیاد پر نمٹائے گئے اور یہ اعترافات دباؤ کے تحت حاصل کئے گئے تھے۔سپریم کورٹ نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ نیب کے قانون میں ایسی ترمیم کی جائے کہ جس سے ملزمان کو قانونی عمل کے ایک حصے کے طور پر یکساں لحاظ سے صفائی کا موقع مل سکے۔ تاہم پی ٹی آئی کی حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی‘اب پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے رکن علیم خان کی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔ ان پر بھی الزام ہے کہ ان کا طرز زندگی انکے اثاثوں اور آمدن کے معلوم ذرائع سے کہیں بڑھ کر ہے‘اس گرفتاری کا وقت بھی بڑا دلچسپ ہے۔علیم خان نے عثمان بزدار کی کارکردگی سے ناخوش اسٹیبلشمنٹ کی آشیر باد کیساتھ پنجاب کی وزارت عالیہ کے حصول کی اپنی خواہش کبھی راز نہیں رکھی‘اس گرفتاری کی بدولت ایک بہت بڑے سازشی نظرئیے کے چرچے ہو رہے ہیں اور وہ یہ کہ نیب والے در اصل ایک ہی تیر سے متعدد شکار کرنا چاہ رہے ہیں۔

سب سے پہلے تو پی ٹی آئی کے اس قدر اہم بندے پر ہاتھ ڈال کر انہیں یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ یہ عمران خان کے طرفدار نہیں۔دوسرے ‘ چار سال قبل LNGکی خرید کے بارے میں قائم کئے گئے مقدمے میں شاہد خاقان عباسی کی متوقع گرفتاری سے پہلے علیم خان کی گرفتاری سے ان کا مقصد ایک توازن قائم کرنا تھا‘پارلیمانی سٹیٹس کو میں کسی تبدیلی کی صورت میں عباسی صاحب اسٹیبلشمنٹ کے پسندیدہ شخص کی حیثیت پانے کے لئے ایک مضبوط امیدوار ہوں گے۔ تیسری بات یہ ہے کہ علیم خان کو صرف اسلئے گرفتار کیا گیا ہے کہ پھر بالآخر انہیں کلین چٹ دیکر وزارت عالیہ کیلئے موزوں ٹھہرا دیا جائیگا۔سازشی نظرئیے پرمبنی یہ سوچ در اصل چند حقائق پر مبنی ہے‘سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے ایک دن اچانک اصغر خان کیس کو دوبارہ اٹھایا جس سے امید یہ بندھ گئی تھی کہ اب جنرل اسد درانی اورجنرل اسلم بیگ کیخلاف کچھ کاروائی ہوسکے گی‘یہ دونوں صاحبان نوے کے انتخابات کے دوران دھاندلی میں ملوث ہونے کا اعتراف کر چکے ہیں۔تاہم ‘ جو ہوا وہ توقعات کے بالکل برعکس تھا۔ جب ایف آئی اے کی جانب سے یہ جواب دیا گیا کہ دیگر اہلکاروں کے بیانات سے ان دونوں کے اعترافات کی تصدیق نہیں ہوتی تو جسٹس صاحب نے کمال مہربانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس مقدمے کی فائل بند کر دی۔اسی طرح علیمہ خان کی دولت کے ذرائع کے بارے میں لیا گیا از خود نوٹس بھی ابتدائی طور پر بہت جرات مندانہ دکھائی دیا لیکن اثاثوں کی غلط نشاندہی پر جرمانہ عائد کر کے منی ٹریل کی تلاش فی الفور ترک کر دی گئی تھی۔

اسی سازشی نظرئیے کی زد الیکشن کمیشن آف پاکستان پربھی پڑتی ہے۔کئی سالوں سے یہ کمیشن پی ٹی آئی کے پارٹی فنڈز کے حصول اور پارٹی سربراہ کی جانب سے اثاثوں کی غلط نشاندہی جیسے الزامات پر مبنی کیسز کی سماعت کر رہا ہے‘یہ الزامات اگر درست ثابت ہوگئے تو خان صاحب قومی اسمبلی کے انتخاب میں حصہ لینے کیلئے نا اہل ٹھہر سکتے ہیں ۔ تاہم‘ انکی جانب سے تاخیری حربے کے طور پر مسلسل اس کیس کی سماعت کو زیر التواء رکھا جا رہا ہے حالانکہ اس کے بارے میں جو پٹیشن دائر کی گئی وہ ارضی حقائق پر مبنی ہے۔سب سے بڑی بات یہ ہے کہ عدالتیں بھی اس الزام سے بری نہیں‘عمران خان کیخلاف کئی ایک ازالہ حیثیت عرفی کے مقدمات سماعت کے منتظر ہیں۔قانون کہتا ہے کہ ایسے مقدمات چھ ماہ کے اندر نمٹا دینے چاہئیں لیکن کوئی بھی جج ان مقدمات کی سماعت کیلئے آمادہ نظر نہیں آ رہا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ خان صاحب خود کسی بھی مقدمے میں پیش ہونے سے احتراز کرتے ہیں بلکہ بیان صفائی تک داخل نہیں کرتے‘انکی مبینہ اولاد کے بارے میں دائر کی گئی پٹیشن جج صاحب نے یہ کہہ کر مسترد کر دی تھی کہ قانون کا یہ کام نہیں کہ وہ کسی کے ذاتی اخلاق و کردار کے بارے میں فیصلے دے‘ حالانکہ یہی قانون ہے کہ جسکے تحت ذاتی اخلاق و کردار سے متعلق کئی ایک باتوںیعنی فحش مواد کی تشہیر‘ہم جنس پرستی ‘منشیات کا استعمال اور شراب نوشی کو جرائم کی فہرست میں داخل سمجھا جاتا ہے اور ان کیلئے سزائیں بھی مقرر کی گئی ہیں۔قارئین کو یا د ہو گا کہ اندرون ملک ایک پرواز میں سوار ہونے سے قبل ٹی وی کی ایک مشہور فنکارہ کے سامان سے جب شراب کی ایک بوتل برآمد ہوئی تھی تو سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کس حد تک اس مقدمے کو لے کر گئے تھے‘تاہم عمران خان کیساتھ ہر لحاظ سے نہایت نرمی کا سلوک کیا جا رہا ہے۔

بنی گالہ میں ان کی رہائش گاہ کی زمین کو ریگولرائز کرنے کی اجازت دی گئی ہے اور اسی طرح شاہراہ دستور پر ٹاور نمبر ایک کی ریگولرائزیشن کی جا رہی ہے جہاں حکومتی عہدیداروں کے قیمتی اپارٹمنٹ موجود ہیں‘ حالانکہ یہ دونوں اسلام آباد ماسٹر پلان کے برخلاف تعمیر کئے گئے ہیں‘ملک بھر میں سینکڑوں ایسے لوگ موجود ہیں جنہیں اپنے گھروں اور سرمایوں سے اس لئے محروم ہونا پڑا کہ عدالت عظمیٰ نے ان کی تعمیرات کو تجاوزات قرار دیا تھا۔ ستم ظریفی دیکھئے کہ عمران خان کیخلاف پٹیشن دائر کرنیوالے پی ایم ایل (ن) کے حنیف عباسی خود عدالت عظمیٰ ہی کے احکامات پر پابند سلاسل ہیں‘ آج کل ہم پڑھ رہے ہیں کہ کس طرح جسٹس فائز عیسیٰ مختلف ریاستی اداروں پر برس رہے ہیں کہ وہ متشدد غیر ریاستی عناصر‘ لاپتہ افراد‘ میڈیا پر پابندیوں اور فتوؤں کے حوالے سے قانون کو خاطر میں نہیں لاتے‘اس سے قبل چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ بھی حکومت کو نیب میں اصلاحات لانے کی تجویز دے چکے ہیں‘اسوقت حکومت سخت مشکل میں ہے کیونکہ ان اداروں کے کرتوتوں کا بڑا فائدہ خود اسے ہی ہوتا ہے چنانچہ یہ اندازہ کرنا قطعی دشوار نہیں کہ حکومت کیا کرے گی اور کیا نہیں۔