134

آئی ایم ایف سے بات چیت اور اصلاحات؟

پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے کے درمیان نئے پیکیج کیلئے بات جاری رکھنے پر اتفاق ہوگیا ہے‘ ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹین لیگارڈ نے معاشی استحکام کیلئے حکومت کے اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے امدا د جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے‘ وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ معاشی اصلاحات مشکل مگر ضروری ہیں وقت آگیا ہے کہ پاکستان ترقی کے حوالے سے آگے بڑھے‘دریں اثناء وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف سے بنیادی نکات طے پاگئے ہیں‘ جلد ہی تکنیکی تفصیلات بھی طے ہوجائیں گی‘ بعض رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ آئی ایم ایف کو ملک کی اقتصادی بہتری کیلئے حکمت عملی سے متعلق تفصیلات سے بھی آگاہ کیا گیا‘وطن عزیز کی اکانومی ایک طویل عرصے سے قرضوں میں جکڑی چلی آرہی ہے قرضوں کے بوجھ کا عالم یہ ہوگیا ہے کہ ایک قرضے کی قسط چکانے کیلئے دوسرا قرضہ اٹھانا پڑتا ہے اور قرضہ منظور ہونے پر اطمینان بھی ظاہر کیا جاتا ہے‘ خبر رساں ایجنسی کے مطابق گزشتہ چار ماہ میں ملکی و غیر ملکی قرضوں کے والیوم میں ڈیڑھ ہزار ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے‘دوسری جانب قرضے کی مد میں 30 ہزار ارب روپے کی ادائیگی کیلئے میکنزم بنانے کی غرض سے ٹاسک فورس قائم کردی گئی ہے‘فورس اخراجات میں کمی کیلئے معاونت بھی فراہم کرے گی‘حکومت کی جانب سے صورتحال سے نمٹنے کیلئے متعدد دیگر اقدامات بھی اٹھائے جارہے ہیں‘ وزیراعظم خود دوست ممالک سے ثمرآور رابطے کرچکے ہیں تاہم یہ سب مسئلے کا کافی حل قرار نہیں دیا جاسکتا۔

ہمیں ابھی بہت کچھ کرنا ہے اس کیلئے جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے فنانشل منیجرز کو نہ صرف قرضوں کی اقساط چکانے کے ٹاسک پر فوکس رکھنا ہوگا بلکہ آئندہ قرضے نہ اٹھانے اور تجارتی خسارہ کم کرنے کیلئے بھی اہداف مقرر کرنا ہوں گے‘اس سب کیساتھ اداروں کے اندر بدانتظامی کا خاتمہ بھی ضروری ہے‘یہ بدانتظامی کبھی گردشی قرضے بڑھاتی ہے تو کبھی منافع بخش اداروں پر برائے فروخت کے بورڈ آویزاں کرواتی ہے‘ وزیر خزانہ اسد عمر کا یہ کہنا درست ہے کہ پاکستان کو کسی نے باہر سے آکر ٹھیک نہیں کرنا تجارت کے لئے وزیراعظم کے مشیر عبدالرزاق داؤد کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران ہی برآمدات میں اضافہ جبکہ درآمدات میں کمی سامنے آئے گی‘اس حقیقت سے انحراف بھی ممکن نہیں کہ ملک میں غذائی اشیاء اور ٹیکسٹائل کی ایکسپورٹ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور گزشتہ 3 سے 4 ماہ میں برآمدات کا حجم 2 ارب ڈالر مزید بڑھا ہے ۔

اس ساری صورتحال میں اصلاح احوال کے طورپرایکسپورٹ میں اضافے کیلئے توانائی بحران کے خاتمے اور مجموعی طور پر پیداواری لاگت گھٹانے کی ضرورت ہے‘حکومت کے ذمہ دار اداروں کی جانب سے اقتصادی اعشاریوں میں بہتری دکھائی دے رہی ہے اسکے باوجود نئے ہفتے کے آغاز پر سٹاک مارکیٹ کی صورتحال اطمینان بخش ہرگز قرار نہیں دی جاسکتی‘ رپورٹس کے مطابق مارکیٹ میں مثبت زون زیادہ دیر تک برقرار نہ رہ سکا ‘دوسری جانب تمام تر حکومتی اقدامات اور ان کے نتائج میں اکانومی کو ملنے والا سہارا اپنی جگہ گرانی سے متعلق اعداد و شمار جو بھی ہوں مارکیٹ میں مہنگائی نے لوگوں کو اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے حکومت صورتحال کے جائزے کا تہیہ کر چکی لیکن کام صرف جائزے کا نہیں بلکہ مارکیٹ کنٹرول کیلئے عملی اقدامات کا ہے تاکہ لوگوں کو ریلیف ملے۔