318

ماسکو کانفرنس اور دو عالمی طاقتیں

گذشتہ ہفتے ماسکو میں ہونیوالی افغان کانفرنس کا امریکہ طالبان مذاکرات سے کوئی تعلق نظر آتا ہے اور نہ ہی اسمیں ہونیوالے فیصلے امریکہ کی اس خطے کیلئے نئی حکمت عملی پر اثر انداز ہوسکتے ہیں مگر یہ کانفرنس ایک ایسے وقت میں‘ ایک ایسی جگہ اور ایسے لوگوں کے درمیان ہوئی ہے جو کئی عشروں سے افغانستان کے سیاسی مدوجزر میں ڈوبتے ابھرتے رہے ہیں اور جو اگلے دو سال میں ایک نئی افغان حکومت کے قیام میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں یہ ایک ایسا وقت ہے جب امریکہ افغانستان سے نکلنے کا فیصلہ کر چکا ہے یہ انخلا اچانک بھی ہو سکتا ہے اور بتدریج بھی مگر اسکا ہونا طے پا گیا ہے اگر اپنے سارے انڈے ایک ٹوکری میں نہ ڈالنے کی احتیاط کو ملحوظ خاطر رکھا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس جنگ کے ختم ہونے کے امکانات ستر فیصد کے لگ بھگ ہیں‘ باقی کے تیس فیصد کسی بڑے حادثے کی صورت میں پانسہ پلٹ سکتے ہیں‘ اسوقت کے بارے میں یہ بھی کہا جا سکتاہے کہ یہ ایک ایسا وقت ہے جب ایک مرتبہ پھر ایک سپر پاور افغانستان سے رخصت ہو رہی ہے اور دوسری داخل ہونے کیلئے پر تول رہی ہے گویا یہ 1989 کا ایکشن ری پلے ہے اسوقت ایک عالمی طاقت اپنا توپ و تفنگ لیکر دھول اڑاتی ہوئی نظروں سے اوجھل ہو رہی تھی اور دوسری موقع غنیمت جانتے ہوئے اپنے خیمے گاڑھ رہی تھی تو کیا ماسکو کی افغان کانفرنس اس بات کا اشارہ ہے کہ روس اس پرانے میدان جنگ میں واپس لوٹنا چاہتا ہے ایسا کچھ ہوتا ہوا نظر تو نہیں آرہا اس مرتبہ روس ‘طالبان اور پاکستان سمیت تمام پرانے کھلاڑی پرانی غلطیاں نہیں دہرائیں گے اس بار یہ سب گرو گنٹھال یہ ثابت کرنے کی کوشش کریں گے کہ انہوں نے اپنی غلطیوں سے بہت کچھ سیکھا ہے‘ مثال کے طور پر طالبان مغربی دنیا سے کٹ کر رہنانہیں چاہیں گے۔

ان ممالک کے ساتھ تعلق قائم رکھنے کیلئے اگر انہیں عورتوں کو کچھ حقوق بھی دینے پڑے تو وہ یہ کڑوی گولی نگل لیں گے اسی طرح روس بھی فوجیں اتارنے کی حماقت نہیں کریگا بلکہ باہر ہی سے ڈوریں ہلاکر چھا جانے کی کوشش کریگا ‘پاکستان میں بھی اب ضیا ء الحق جیسے کسی ایسے طالع آزما کی گنجائش نہیں رہی جو افغانستان سے وسطی ایشیا تک امارات اسلامیہ بنانے کے خبط میں مبتلا ہو‘ اس مہم جوئی کی قیمت نہ جانے کب تک ادا کی جاتی رہے گی اب تو پاکستان میں امن و آشتی اور تعمیر و ترقی کیلئے افغانستان میں سیاسی استحکام کی اہمیت کو تسلیم کر لیا گیا ہے ۔اس بدلے ہوئے وقت کی بات کر دینے کے بعد اب اس جگہ کی بات کرتے ہیں جہاں یہ کانفرنس منعقد ہوئی یہ ماسکو کا مشہور پریذیڈنٹ ہوٹل تھا یہ روسی حکومت کی ملکیت ہے صدر پیوٹن کی حکومت نے اس کانفرنس کے انعقاد کا کریڈٹ لینے کی کوشش نہیں کی مگر جس جگہ یہ محفل سجائی گئی وہ حکومت کی اپنی جگہ تھی اسلئے اسے اس سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا اسکے میزبان روس میں رہنے والے متمول افغان باشندے بتائے گئے ہیں جہاں تک کانفرنس کے شرکاء کا تعلق ہے تو پچاس کے لگ بھگ جو سیاستدان افغانستان سے آئے تھے انکے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ سب ماضی میں ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے۔

اب اگر سیاست تیس برس بعد بھی دشمنوں کوایک جگہ بیٹھنے پر آمادہ نہ کر سکے تو پھر اس سے کسی دوسری کرشمہ سازی کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے‘ اس کانفرنس میں طالبان کی شمولیت اس خطے میں روس کے بڑھتے ہوئے اثررسوخ کا پتہ دیتی ہے افغانستان کے سیاسی لیڈروں کے ایک بڑے گروہ کی قیادت سابقہ افغان صدر حامد کرزئی کر رہے تھے درجن بھر بھاری بھرکم اور قیمتی فانوسوں کے نیچے ایک بڑے ہال میں وسیع گول میز کے ارد گرد پچاس لوگ دو روز تک اس افغانستان کے مستقبل کی بات کرتے رہے جسے اب Post Peace Afghanistan یعنی امن کے بعد کا افغانستان کہا جا رہا ہے‘ان لوگوں میں سے بیشتر نے پن سٹرائپ سوٹ پہن رکھے تھے اور جبہ و دستار میں ملبوس شخصیتوں کی بھی کمی نہ تھی‘ ا س محفل کی ایک اہم بات یہ بھی تھی کہ اسمیں2001کے امریکی حملے کے بعد طالبان نے اپنے ملک کے دوسرے سیاسی رہنماؤں کے ساتھ پہلی مرتبہ مل بیٹھ کر گفتگو کی اس محفل میں طالبان وفد کے سربراہ شیر محمد عباس ستانک زئی نے جن خیالات کا اظہار کیا وہ دو ہفتے قبل ہونیوالے دوحہ مذاکرات کی وضاحت کا تاثر لئے ہوئے تھے ایک نئے افغان آئین اور عورتوں کے حقوق کے بارے میں انکا نقطۂ نظر توجہ طلب ہے افغانستان کے موجودہ آئین کی مخالفت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسے مغربی ممالک نے اپنے مفادات کے حصول کیلئے بنایا ہے‘ جرمنی کے شہر بون میں 2002 میں بنایا گیا یہ آئین عباس ستانک زئی کی رائے میں افغان عوام کی اقدار‘ روایات اور امنگوں کا آئینہ دار نہیں ہے‘ طالبان لیڈر نے یہ نہیں بتایا کہ انکی جماعت اس آئین میں تبدیلیاں کرنا چاہتی ہے یا اسے مسترد کر کے ایک نیا آئین بنایا جائیگا خواتین کے حقوق کے بارے میں ستانک زئی نے کہا کہ انکے تعلیم حاصل کرنے اور ملازمت کرنے پر پابندی عائد نہیں کی جائیگی‘ اسکی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلام نے خواتین کو جو بنیادی حقوق دےئے ہیں جن میں تجارت‘ ملکیت‘ وراثت‘تعلیم‘ روزگاراور شریک حیات پسند کرنا شامل ہیں وہ انکی حکومت میں انہیں حاصل ہوں گے۔

اس بیان کے میڈیا پر آنے کے فوراً بعد کابل میں خواتین کی تنظیموں نے اسکے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں طالبان سے اس فراخدلی کی امید نہیں ہے۔ دوحہ مذاکرات کی طرح ماسکو کانفرنس پر بھی اشرف غنی کی حکومت ایک آسیب کی طرح چھائی رہی لگتا ہے کہ روس نے کابل حکومت کو کانفرنس میں مدعو نہ کرکے اسکی اہمیت کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے اس توہین کے جواب میں اشرف غنی نے ایک غضبناک بیان میں کہا ہے’’ یہ لوگ جو بات چیت کر رہے ہیں اسکا کوئی مقصد بھی ہے یا نہیں‘ انکے فیصلوں پر کون عمل کریگا‘ ژ‘ منگل کے دن کابل میں ٹولو نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے افغانستان کے صدر نے کہا ’’وہ اس قسم کی ہزار کانفرنسیں کر لیں مگر جب تک افغان حکومت‘ افغان عوام اور افغان پارلیمنٹ انہیں تسلیم نہیں کرتی انکی کوئی اہمیت نہیں ہے‘‘ اشرف غنی نے اسی روز پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتے ہوئے پختون تحفظ موومنٹ کو اکسانے کی جو کوشش کی اسکے جواب میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے انہیں سخت الفاظ میں اپنے مسائل پر توجہ دینے کی تنبیہ کی ہے اس سے پہلے صدر غنی امریکہ کو ڈاکٹر نجیب اللہ کا انجام یاد دلا کر کسی عبوری حکومت کے قیام کی مخالفت کر چکے ہیں امریکہ اور روس دونوں طرف سے ٹھکرا دےئے جانے کے بعد اشرف غنی کی قابل رحم حالت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں‘امریکہ اور افغان طالبان کی مفاہمت کے آثار ہویدا ہوتے ہی کابل حکومت کی تذلیل اور بے توقیری سیاست دوراں کے بے رحم ‘ بیدرد اور آتش خوہونے کی ایک نئی مثال ہے ان حالات میں اشرف غنی شاید یہ کہنے میں حق بجانب ہوں۔

تنہا کھڑا ہوں میں بھی سر کربلائے عصر
اور سوچتا ہوں میرے طرفدار کیا ہوئے
اس حقیقت سے اب انکار ممکن نہیں کہ دو عالمی طاقتوں نے طالبان کی اہمیت کو تسلیم کر لیا ہے اشرف غنی کو کابل کے صدارتی محل پر دشمنوں کی دستک سنائی دے رہی ہے انکی بوکھلاہٹ سب کو سمجھ آ جانی چاہئے۔