221

کراچی میں 6افراد کی ہلاکت ٗ کیس میں اہم پیشرفت

کراچی۔ جامعہ کراچی کے بین الاقوامی تحقیقی مرکز نے مبینہ زہر خورانی سے 5 بچوں اور ان کی پھوپھو کی ہلاکت کی وجہ کھٹمل مار دوا کو قرار د یتے ہوئے کہا ہے کہ کھٹمل مار دوا ایلمونیم فاسفائیڈ ڈ گیس خارج بچے اور خاتون کی اموات کا سبب بنی، 6 اموات کا مقدمہ بچوں کے چچا کی مدعیت میں درج کرلیا گیا، مقدمے میں اموات جراثیم کش ادویات کے چھڑکا ؤ سے ہونے کا شک ظاہر کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق جامعہ کراچی کے بین الاقوامی تحقیقی مرکز کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق سرکاری گیسٹ ہا ؤ س قصر ناز میں 5 بچوں اور خاتون کی موت کھٹمل مار دوا سے خارج ہونے والی جان لیوا فاسفین گیس کے باعث ہوئی۔جامعہ کراچی کے بین الاقوامی تحقیقی مرکز کے سربراہ ڈاکٹر اقبال چوہدری نے کہا ہے کہ کمرے میں کھٹمل مار دوا ایلمونیم فاسفائیڈ ڈالی گئی تھی جس سے کمرے میں جان لیوا فاسفین گیس خارج ہوئی جو بچے اور خاتون کی اموات کا سبب بنی۔

انہوں نے بتایا کہ 90فیصد شواہد تجزیے سے ثابت ہوا کہ اموات کھٹمل مار دوا سے ہی ہوئی ہے۔ماہرین کے مطابق کمرے سے ملے ایلمونیم فاسفائیڈ کے ذرات 8 سے 10 ٹیبلیٹس کے برابر ہیں۔ ذرائع کے مطابق کھٹمل مار دوا کی گولیاں بیڈ کے گدے کے نیچے چاروں کونوں اور فرش پر رکھی گئی تھیں، فیصل کاکڑ، ان کی اہلیہ بیڈ پر جب کہ 5 بچے اور ان کی پھوپھی فرش پر سوئی تھیں۔

جامعہ کراچی کے بین الاقوامی تحقیقی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم نے ابتدائی رپورٹ کمشنر کراچی اور پولیس کے حوالے کردی ہے تاہم اموات کی حتمی رپورٹ تیار ہونا باقی ہے۔دوسری جانب 6 اموات کا مقدمہ بچوں کے چچا کی مدعیت میں درج کرلیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق مقدمہ قتل بالاسبب اور دیگر دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے جب کہ مقدمے میں اموات جراثیم کش ادویات کے چھڑکا ؤ سے ہونے کا شک ظاہر کیا گیا ہے۔