312

اچھے ناشتے کا ایک اور فائدہ سامنے آگیا

پیٹ بھر کر ناشتہ کرنے کی عادت دل کی صحت کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

یہ بات یونان میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

ایتھنز یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ ناشتے میں کم از کم 400 کیلوریز کو جزوبدن بنانا شریانوں میں اس مواد کے اجتماع کا خطرہ کم کرتا ہے جو کہ امراض قلب کی بنیادی وجہ بنتا ہے۔تحقیق میں ناشتے کے لیے بہترین غذاﺅں کی وضاحت تو نہیں کی گئی مگر محققین کا کہنا تھا کہ پنیر، دودھ اور روٹی وغیرہ زیادہ کیلوریز والے ناشتے کا حصہ ہوتے ہیں۔

اس تحقیق کے دوران 2 ہزار کے قریب افراد کی غذائی عادات کا جائزہ لیتے ہوئے انہیں 3 گروپس میں تقسیم کیا گیا، جن میں سے ایک زیادہ توانائی والا ناشتہ، دوسرا کم توانائی والا ناشتہ اور تیسرا ناشتہ نہ کرنے والا گروپ تھا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ زیادہ توانائی والا ناشتہ یا زیادہ کیلوریز جزو بدن بنانے والے افراد کی شریانیں دیگر گروپ کے مقابلے میں زیادہ صحت مند ہوتی ہیں۔ناشتہ نہ کرنے والے افراد میں شریانوں کی اکڑن کا خطرہ 15 فیصد جبکہ کم ناشتہ کرنے والوں میں یہ شرح 9.5 فیصد اور زیادہ کھانے والوں میں 8.7 فیصد ہوتی ہے۔

اسی طرح ناشتہ نہ کرنے والوں کی شریانوں میں مواد جمع ہونے کا خطرہ 28 فیصد، کم کھانے والوں میں 26 فیصد جبکہ زیادہ کھانے والوں میں 18 فیصد تک ہوتا ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ بھرپور ناشتہ کرنا صحت مند طرز زندگی کا لازمی حصہ ہونا چاہئے جو کہ دل کی صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج جلد امریکن کالج آف کارڈیالوجی کی سالانہ کانفرنس کے دوران پیش کیے جائیں گے۔

اس سے قبل گزشتہ سال جرمن ڈائیبیٹس سینٹر کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا تھا کہ ناشتہ نہ کرنے کی عادت ذیابیطس ٹائپ ٹو جیسے مرض کا خطرہ ایک تہائی حد تک بڑھا دیتی ہے۔

جرمن ڈائیبیٹس سینٹر کے دوران ایک لاکھ افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کے بعد نتیجہ نکالا گیا کہ صبح کی پہلی غذا کو جزو بدن نہ بنانا ذیابیطس ٹائپ ٹو کا شکار بننے کا امکان 33 فیصد بڑھا دیتا ہے۔اور یہ صرف ان افراد کے لیے ہے جو کبھی کبھار ایسا کرتے ہیں۔

ایسے افراد جو ہفتے میں کم از کم 4 دن ناشتہ نہیں کرتے، ان میں یہ خطرہ ناشتے کرنے والوں کے مقابلے میں 55 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔محققین کے خیال میں اس کی وجہ یہ ہے کہ جو لوگ ناشتہ نہیں کرتے، وہ دن میں ناقص غذا کا زیادہ استعمال کرسکتے ہیں۔