160

گھنٹہ گھرکاراستہ

گیارہ مارچ کے روزنامہ آج میں ڈاکٹر امجد حسین کا کالم پڑھ کر مجھے اس بات کا دکھ ہواکہ پشاور کو رگ جاں سمجھنے والاپشاور کا عاشق اور شیدائی اپنے شہر میں اجنبی ہو گیا ہے‘ ڈاکٹر صاحب نے پشاور کی گلیوں میں گھومتے ہوے ایک یخنی فروش سے گھنٹہ گھر کاراستہ پوچھا تواس نے کہا کہ ’’ آگے بائیں ہاتھ کو مڑنے والی گلی لے لیں‘‘ ہو سکتا ہے کہ اسکی بات سن کر ڈاکٹر صاحب کچھ پریشان ہوئے ہوں اسلئے اس نے یہ بھی کہا کہ ’’ آپ پریشان نہ ہوں اس شہر کی گلیوں میں اجنبی اکثر راستہ بھول جاتے ہیں اگر آپ چاہیں تو میں کسی کو ساتھ کر دیتا ہوں‘‘یہ سن کر ڈاکٹر صاحب پر جو گذری اسکا احوال انہوں نے لکھ دیااور انکا لکھا مجھے ماضی کے ان جھروکوں میں لے گیا جب جوہر میر مجھے نیو یارک کے ویسٹ پارک ہوٹل میں ڈاکٹر امجد حسین کے وہ خطوط مزے لے لیکر سناتے تھے جن میں پشاور کے گلی کوچوں اور انکے مکینوں کا ذکر ہوتا تھا جوہر میران خطوں کے جواب میں اپنی یادوں میں بسنے والے پشاور کو صفحہ قرطاس پر بکھیر دیتے یہ 1983 کے شب و روز تھے‘ برقی خطوط کا دور نہ تھا میر صاحب خط کا جواب فوراًلکھ کر میل کر دیتے انہی دنوں داکٹر صاحب نے اپنے ہاتھ سے بنا یا ہوا پشاور کاتصویری نقشہ بھی بجھوا دیاتھا میر صاحب اور میں دیر تک اس میں اپنے شہر کے کو چہ و بازار ڈھونڈتے رہتے‘ان دونوں کے درمیان خط و کتابت کا یہ سلسلہ کئی سال تک چلتا رہا ’’ یک شہر آرزو‘‘ کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ جوہر میر صاحب نے پہلا خط چودہ نومبر 1983 کو بھیجا تھااسکا جواب ڈاکٹر صاحب نے انیس نومبر 1983 کو دیا‘ حیرانی کی بات یہ ہے کہ یہ سلسلہ ستمبر 1994تک چلتا رہامیں نے خطوط کی تعداد تو نہیں گنی مگر یہ مضامین خیال لگ بھگ ڈیڑھ سو صفحات پر پھیلے ہوئے ہیں اس کتاب کے دوسرے حصے میں شاہ صاحب اور ڈاکٹر ظہور احمد اعوان کے مابین خطوط کا سلسلہ تیس دسمبر 1993 کو شروع ہو کر تیس جنوری 1995کو ختم ہوتا ہے شاہ صاحب نے ڈاکٹر اعوان کو اس سلسلے کا آخری خط میکسیکو سے بھجوایا تھا ۔

اس میں میکسیکو کی تاریخ ‘ کلچر اور ثقافت کا ذکر خاصا دلچسپ اور معلومات افزاہے اس تصنیف کے آخری تیس صفحات میں ڈاکٹر صاحب اور رشتے میں انکی خالہ زاد بہن پروفیسر وحیدہ غفور کے خطوط شامل ہیں‘نومبر 1995 میں شائع ہونیوالی اس کتاب کے پیش لفظ میں ڈاکٹر صاحب نے لکھا ہے ’’میں نے 1980 میں غم نہ داری بز بخر والے محاورے پر عمل کرتے ہوئے ایک اور بکری کا اضافہ اپنی اسی قسم کی بکریوں کے ریوڑ میں کر دیا یہ اضافہ پشاور کے تصویری نقشے کے پراجیکٹ کا تھا ‘ سال ڈیڑھ سال کی محنت اور ریاضت سے‘ کچھ پرانے نقشوں کی مدد سے ‘ کچھ اپنی یاد داشت پر زور ڈال کر اور کچھ پشاوری دوستوں کے مشوروں سے آخر کار نقشہ بن ہی گیامیں نے اس نقشے کی نقلیں اپنے دوستوں کو بجھوادیں کہ وہ دل پشوری کریں دوستوں کی اس فہرست میں جوہر میر بھی شامل تھے‘‘اسکے بعد ڈاکٹر صاحب نے جوہر میر کیساتھ پشاور کے روزنامہ انجام کے چوک یادگار میں واقع دفتر میں اپنی ملاقاتوں کا ذکر کیا ہے یہ1960- 61 کی بات تھی‘ڈاکٹر امجد حسین1962 میں امریکہ چلے آئے جوہر میر نے ضیاء الحق کے دور میں آزادی صحافت کی تحریک میں شامل ہو کر دو مرتبہ جیل کاٹی اور تیسری مرتبہ جیل جانے کی خبر سن کرامریکہ چلے آئے مئی 1980 میں پشاور سے نیویارک کا سفر میر صاحب اور میں نے اکٹھے کیا تھا آپ پوچھیں گے کہ میں اتنی پرانی باتوں کا ذکر کیوں لے بیٹھا ہوں اسکی وجہ صرف اتنی ہے کہ میں کسی نہ کسی طرح اپنے شہر پشاور کے اس یخنی فروش تک یہ بات پہنچانا چاہتا ہوں کہ جس شخص کو اس نے گھنٹہ گھر کا راستہ بتایا تھا وہ کوئی اجنبی نہ تھا بلکہ بابائے پشاور تھا۔

جس نے پشاور کا نقشہ ڈیڑھ سال کے عرصے میں کئی دوستوں سے مشورے کر کے اور کئی کتابیں پڑھ کے اپنے ہاتھ سے بنایا ہو وہ بھلا کسی سے گھنٹہ گھر کا راستہ کیوں پوچھے گا میں ڈاکٹر صاحب کی یہ بات نہیں مانتا کہ انہیں پشاور کے کسی بھی گلی کوچے سے گھنٹہ گھر کا راستہ معلوم نہیں وہ دراصل اس دکاندار سے ہندکو میں گپ لگانا چاہتے تھے اور غالباً یہ بھی کہنا چاہتے تھے کہ
تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگے
میں ایک شام چرا لوں اگر برا نہ لگے
میں اگرپرانی فصیل شہر کے اندرکے گلی کوچوں میں گھومتے ہوئے راستہ بھول جاؤں تو کبھی کسی سے نہ پوچھوں گا کہ محلہ شالیکوبان‘ چوک یادگار یا قصہ خوانی کس طرف ہے میں گلبہار یا حیات آباد کی نہیں اندرون شہر کی بات کر رہا ہوں اس جگہ کوئی پرانا پشوری کیسے راستہ بھول سکتا ہے میری کم از کم دو مرتبہ ڈاکٹرصاحب کیساتھ پشاور کے بازاروں میں اچانک ملاقات ہوئی تھی وہ اپنے شہر میں ایسے گھومتے ہیں جیسے کوئی بادشاہ اپنی راجدھانی میں گشت کرتا ہے‘ہم پردیسیوں کے پشاور جانے کا ایک مقصد اسکے بازاروں کے چکر لگانا بھی ہوتا ہے یہ کام کیونکہ گھنٹوں پر محیط ہوتا ہے اسلئے اسے دلچسپ بنانے کیلئے جا بجا رک کر ہم لوگوں سے گپ شپ بھی لگا تے ہیں اور اگر ہم میں سے کوئی کالم نگاری کے مرض میں مبتلا ہو تو وہ دکانداروں سے گپ لگانے کے علاوہ کچھ نہ کچھ خرید بھی لیتا ہے تا کہ کسی کو یہ شک نہ گزرے کہ یہ عجوبہ کہیں باہر سے آیا ہوا ہے اور ایسے ہی ادھر ادھر کی ہانک رہا ہے‘ دکانداروں سے اس قسم کی گفتگو کا ذکرپشاورپر لکھے جانیوالے نئے کالم میں بڑا مزہ دیتا ہے‘ ڈاکٹر امجد حسین کیساتھ میرے تعلق خاطر کا عرصہ تقریباً تیس برس پر محیط ہے وہ روزنامہ آج اور ٹولیڈو بلیڈ دو اخبارات میں کالم لکھتے ہیں‘ پشاور کے اخبار میں تو ہم نے اس دکاندار سے انکے گھنٹہ گھر کا راستہ پوچھنے کا احوال پڑھ لیا یہ ذکر ٹولیدو کے اخبار میں بھی ہوا ہو گا۔

یہ یقیناًسچا واقعہ ہے ڈاکٹر صاحب نے چلتے چلتے اسے تخلیق کیا اور لکھ دیا مگر یہ بات دل نہیں مانتا کہ انہیں گھنٹہ گھر کاراستہ معلوم نہ تھا ‘ انکی تصنیف ’’ یک شہر آرزو‘‘ 384 صفحات پر محیط ہے اور ’’ عالم میں انتخاب‘ پشاور‘‘ کے صفحات کی تعداد 815 ہے‘ جی کرتا ہے کہ پشاور چلا جاؤں اور چکہ گلی کے اس یخنی فروش کو یہ دونوں کتابیں دکھاؤں اور اس سے کہوں کہ یہ اس شخص نے لکھی ہیں جس نے تم سے گھنٹہ گھر کا راستہ پوچھا تھا دکاندار موصوف اگر ٹھیٹھ پشوری ہوا تواسے یہ بھی بتا دوں گا کہ ’’ عالم میں انتخاب ‘‘ میں پشاور کے دروازوں‘ بیٹھکوں‘ میلوں ‘ کھیلوں ‘ برتنوں ‘ اکھاڑوں‘ مرغوں‘ بٹیروں‘ دکانداروں‘ بد معاشوں‘ کبوتر بازوں‘ چہگی واسوں اور بلی کھاتوں کا ایک ہنگامہ خیز جہان دگر آباد ہے اس سے کچھ زیادہ اگر میں نے اس دکاندار کو بتا دیا تو مجھے ڈر ہے کہ اسے غش آجائیگا اور اگر وہ فولادی اعصاب کا مالک ہوا تو پھر بات مزید آگے بڑھے گی اور وہ یہ ضرور پوچھے گا کہ ڈاکٹر صاحب اگر پشاور کے گلی کوچوں کے بارے میں کتابیں لکھ چکے ہیں تو پھر انہوں نے مجھ سے گھنٹہ گھر کا راستہ کیوں پوچھا تھا میں اسے صاف صاف بتا دوں گا کہ وہ تم سے دل لگی کر رہے تھے یہ جواب سن کر وہ یقیناًپریشان ہو گا اور شاید یہ بھی پوچھ بیٹھے کہ تمہیں یہ کتابیں لیکر یہاں آنے کی کیا ضرورت تھی یہ وہ سوال ہے جسکا جواب مجھے ابھی تک نہیں سوجھا ‘میری دعا ہے کہ وہ یخنی فروش سخن فہم بھی ہو تا کہ میں اسے احمد فراز کے یہ اشعار سنا سکوں۔
آج تک اپنی بے کلی کا سبب ....خود بھی جانا نہیں کہ تجھ سے کہیں
بے طرح حال دل ہے اور تجھ سے....دوستانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں
وہ اگر بد قسمتی سے نا سخن شناس ہوا تو پھر یہی کہنے پر اکتفا کروں گاکہ پشوری اپنے گھر کا راستہ بھول سکتا ہے گھنٹہ گھر کا راستہ نہیں بھول سکتا۔