251

مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہوگئیں

کوئی کوئی لفظ اچانک منہ سے نکل کر کوٹھوں چڑھ جاتا ہے‘اب کے کچھ دنوں سے خبروں میں چیخ بہت زیادہ گونج رہی ہے‘پہلے ایک ذمہ دار شخص نے کہہ دیا کہ یار لوگوں کی ابھی اور چیخیں نکلیں گی‘ یہ بیان بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں تھا اور کچھ ایسا غلط بھی نہیں تھا تاہم اس طرز گفتگو میں مو صوف کا لہجہ خاصا تنک گیا تھا‘ اور اعتراض کی بڑی وجہ بھی یہی لہجہ اور الفاظ کا چناؤ بنا‘ پھر چاروں طرف سے ان چیخوں کو اتنا اچھالا جانے لگا کہ یہاں وہاں بس چیخیں ہی چیخیں سنائی دینے لگیں‘ اس چیخم دھاڑ میں اسی ذمہ دار شخص نے بڑی سہولت سے تردید کر دی کہ ’ وقت مشکل ہے مگر یار لوگوں کی چیخیں نہیں نکلیں گی ‘۔ تردید کا یہ کھیل پرانا ہے کہ پہلے کوئی بات منہ سے نکل جائے اور اگر ردعمل موافق نہ ہو تو یا تو سرے سے بات سے ہی انکار کر دیا جائے یا پھر احمد فراز کی طرح اپنی بات کی وضاحتیں دینا شروع کر دی جائیں۔

ملیں جب ان سے تو مبہم سی گفتگو کرنا
پھر اپنے آپ سے سو سو وضاحتیں کرنی

شنید ہے کہ یورپ کے کسی ملک کی پارلیمان میں بھی ایک ایسے ہی ذمّہ دار شخص نے کہہ دیا تھا کہ اس پارلیمنٹ کے آدھے ارکان بے وقوف ہیں تو اس پر بھی بہت سخت ردعمل سامنے آیا کہ یہ الفاظ واپس لئے جائیں تو دوسرے ہی دن اس رکن نے پارلیمان میں تقریر کرتے ہوئے کہا ’’ میری کل کی تقریر میں ان الفاظ سے کہ ’ اس پارلیمان کے آدھے لوگ بے وقوف ہیں ‘ کچھ معزز اراکین کی دل آزاری ہوئی ہے‘میں ان سے معذرت کرتا ہوں اور اپنے وہ الفاظ واپس لیتے ہوئے اب پوری ذمہ داری سے کہتا ہوں کہ ’ اس پارلیمان کے آدھے لوگ بے وقوف نہیں ہیں‘ سو وہی کہانی آج بھی دہرائی گئی کہ وقت مشکل ہے مگر چیخیں نہیں نکلیں گی۔ شاید موصوف کے علم میں نہ ہو کہ مشکل وقت کی تان ٹوٹتی ہی چیخ پر ہے‘ وگرنہ وہ تردیدی بیان میں چیخوں کا ذکر نہ کرتے‘ جیسے بہت پہلے معروف سائنسدان گلیلیو گلیلی کیخلاف جب کلیسا نے مقدمہ دائر کیا کہ اس نے کوپر نیکس کے شمس المرکز نظریہ یعنی زمین اور دوسرے سیارے سورج کے گردچکر لگاتے ہیں کی حمایت کی تواسے زمین کو مرکز ماننے والوں کی طرف سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا‘اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس نے عدالت میں کوپر نیکس کے شمس المرکزکے نظریہ سے دستبرداری کا اعلان کر دیا مگر عدالت سے نکلتے ہوئے کسی کے استفسار پر اس نے کہا تھا کہ میں نے تو کہہ دیا کہ سیارے سورج کے گرد نہیں گھومتے مگر میرے کہنے سے کیا ہوتا ہے یہ سیارے بدستور سورج کے گرد گردش کرتے رہیں گے‘ بس ایسی ہی تردید اب بھی کی گئی ہے کہ یار لوگوں کی چیخیں نہیں نکلیں گی ۔ مگرہم بہت مشکل وقت سے گزر رہے ہیں‘یہ حوالہ قرضے‘ ادائیگی اور مہنگائی کے تناظر میں کہا جا رہا ہے ظاہر ہے اس سے کسے مفر ہے کہ مہنگائی سے آنکھیں تو چرائی نہیں جا سکتیں ‘کتنا بھی خود کو روکا جائے ضبط کیا جائے اسکا سامنا تو کرنا پڑتا ہے اور ضبط اگر کیا بھی جائے تو ایک طرف فراز کہتا ہے

ضبط لازم ہے مگر دکھ ہے قیامت کا فراز
ظالم اب کے بھی نہ روئے گا تو مر جائے گا

اور ان دنوں یار لوگوں کو صرف بڑھتی ہوئی مہنگائی کا دکھ نہیں اس کیساتھ جڑے ہو ئے اور سو طرح کے اعصاب شکن بکھیڑے بھی ہیں جن کو سہنا تو کیا صرف سوچا جائے تو بھی بے اختیار چیخیں نکل جاتی ہیں‘چہ جائیکہ اس پر کسی کو ضبط کا مشورہ بھی دیا جائے شاید اسی لئے اکرام اعظم بھی حالات کی سنگینی کو دیکھ کر چیخ اٹھا ہے کہ

ضبط نے بھینچا تو اعصاب کی چیخیں نکلیں
حوصلہ ٹوٹا تو احباب کی چیخیں نکلیں

ویسے تو اردو شاعری میں چیخ کا عمل دخل بہت زیادہ ہے کہ اردو شاعری کی سب سے زیادہ طرحدار صنف غزل ہے جسکے معروف معنوں کے علاوہ ایک اہم معنی اس چیخ کے بھی ہیں جو شکار ہوتے ہوئے ہرن کے منہ سے نکلتی ہے‘ شاید اسی لئے فراز نے درد اور اس چیخ کو اپنے اشعار میں خوبصورتی سے پرو دیا ہے جو اس مہنگائی اور چیخوں کے دور میں زیادہ بامعنی ہو گیا ہے۔
در د ایسا ہے کہ بجھتا ہے چمک جاتا ہے
دل میں اک آگ سی ہے آ گ بھی جگنو والی
ایسا لگتا ہے کہ اب کے جو غزل میں نے کہی
آخری چیخ ہے دم توڑتے آ ہو والی

چلئے یہ بھی غنیمت ہے کہ چیخوں کے حوالے سے تردید سامنے آ گئی ہے اور میڈیا نے اسکی اشاعت بھی کردی ورنہ یہ بھی کہا جاتا رہا ہے کہ کچھ اشاعتی ادارے تردید کو در خور اعتنا ہی نہیں سمجھتے کہ اس طرح انکے میڈیا ہاؤس کی ساکھ متاثر ہوتی ہے‘جیسے کسی اخبار میں ایک صاحب کے مرنے کی خبر شائع ہو گئی کسی دوست نے انہیں فون پر اطلاع دی توپہلے وہ مذاق سمجھے اور کہا ’ او ہ ہو جنازے کا وقت کیا ہے ‘ پھر دوست نے وضاحت کی کہ جناب آپکے انتقال کی خبر شائع ہوئی ہے تب وہ ہوش میںآئے اور سیدھا اخبار کے دفتر پہنچے اور شکایت کی کہ دیکھ لیجئے میں زندہ ہوں‘اب اسکی تردید شائع کیجئے‘تو مدیر نے خبر کی معافی مانگی مگر صاف کہہ دیا کہ تردید ہماری پالیسی نہیں ہے اور جب ان صاحب کا اصرار بڑھا تو مدیر نے کہہ دیا میں دیکھتا ہوں کہ اس سلسلے میں ہم کیا کرسکتے ہیں‘دوسرے دن ان صاحب نے اخبار دیکھا تو ان کی پیدائش کی خبر شائع کی گئی تھی کہ فلاں کے گھر چاند سا بیٹا ہوا ہے‘ تاہم اب ایسا نہیں کہ آج کل تو وہی سکہ چلتا ہے جسکے الٹنے پلٹنے میں آسانی ہو ۔ گویا چت بھی اپنی پٹ بھی اپنی‘جب جی چاہے بیان داغ دیا جائے جب چاہے تردید کر دی جائے‘اب ایک خیال اور بھی گزرتا ہے کہ جب یہ تردید کی جارہی ہے اس میں تردید جزوی تھی یعنی مہنگائی اور مشکل دور کے ذکر میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تبدیلی یا تردید فقط چیخیں نکلنے اور نہ نکلنے کی ہے اور یہ بات غالباً انہوں نے غالب سے سیکھی ہے اور ایسا ہے تو پھر یہ تردید قابل قبول ہے‘اور یار لوگ بھی اس سے متفق ہوں گے۔
رنج سے خوگر ہو ا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج
مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں