215

رفتارِ زندگی میں سکوں آئے‘ کیا مجال

یہ مارچ کی بائیسویں سہ پہر تھی جب ہم پشاور یونیورسٹی کے آغا خان آڈیٹوریم کی طرف جارہے تھے اور بے ہنگم ٹریفک کے رحم و کرم پر تھے‘دیر تک کسی بھی شریف شہری کی طرح بی آر ٹی پر بات کر رہے تھے‘ تکمیل کے پہلے بلندبانگ دعوے سے لیکر ایک دن بعد ہونیوالی سافٹ لانچنگ تک کے سارے مرحلے آنکھوں کے سامنے تھے‘جس پرہم بات کیا کرتے جگہ جگہ ان دعوؤں کا مذاق اڑا تے کھڈے اور ٹریفک کی بد حالی زبان حال سے کہانی سنارہی تھی‘چلئے زودیا بدیر یہ منصوبہ تکمیل پالے گا مگر کیا یہ پشاور کی اس بے ہنگم ٹریفک کی گھمبیرتا کم کر پائیگا‘یہ سوال بہت سوں کو پریشاں کئے ہوئے ہے کہ ایک لمبی ریاضت کے بعد بھی اگر سڑکوں کی صورتحال میں تبدیلی نہیں آئی تو پھر کیا ہو گا اب اس بات کا تعلق بی آر ٹی کی تکمیل یا ٹریفک پولیس کی کارکردگی سے کہیں زیادہ اس شہر کے ان باسیوں سے ہے جو سڑکوں پر ان ہنگاموں کے براہ راست ذمہ دار ہیں‘ہر شخص کو کہیں بھی پہنچنے کی اسلئے بہت جلدی ہوتی ہے کہ اسے پہلے ہی بہت دیر ہو چکی ہے‘اسلئے وہ ٹریفک کے قواعد اور آداب کو بالائے طاق رکھتے ہو ئے جہاں سینگ سماتے ہیں گھس کرپہلے سے لائن میں کھڑے لوگوں کا راستہ بند اور منہ کھول دیتے ہیں جو حسب ’طاقت‘اور استطاعت زیرلب یاباآوازبلند غیرپارلیمانی الفاظ کو ہوا کے سپرد کر رہے ہو تے ہیں یا پھر اپنی اپنی گاڑی کے ہارن کو کھلا چھوڑ دیتے ہیں۔

اس طرح ان دنوں بی آر ٹی کے صدقے کے گرد وغبار کی آلودگی میں شور کی آلودگی بھی شامل ہو کر اسے دو آتشہ بنا دیتی ہے‘جس سے چہروں پر وحشت کی حد تک تناؤ بڑھ جاتا ہے‘ اسلئے میں نے یاروں کے چہروں پر اس تناؤ کی کیفیت طاری ہو نے سے پہلے ہی بی آر ٹی کے منصوبے کی تکمیل کو اسکے حال پر چھوڑ کر گفتگو کو آغا خان آڈیٹوریم کی طرف موڑا اور کہا کہ کیا زمانہ تھا جب اس آڈیٹوریم میں ہم فلمیں دیکھنے جایا کرتے تھے بے فکری کا زمانہ تھا اسلئے اس طرح کی تفریحات کیلئے روزانہ پروگرام بنا تے تھے‘ان دنوں پڑوسی ملک کی فلموں کے دکھانے پر پابندی تھی لیکن ہوا کے دوش پر ریڈیو سے ان فلموں کے گیت ہی نہیں بلکہ ساؤنڈ ٹریک بھی سننے میں آتے‘ جس سے فلم بینوں کا اشتیاق بڑھ جاتا مگر فلم دیکھنے کیلئے کوئی انتظام نہ ہوتا پھر وی سی آر آگئے تاہم یہ شوق شہر میں بہت ہی کم لوگ تک محدود رہا‘گنتی کے دو چار لوگ ہی خرید پائے‘ تب باب خیبر کے اس پار کچھ حجروں میں بڑی سکرین والے ٹیلی ویژن پر وی سی آر کے ذریعے فلمیں دکھائے جانے کی اطلاع عام ہوئی‘ اور یار لوگوں نے جمرود کی راہ لی ‘ہر اتوار وہاں ایک ہنگامہ بپا ہوتا‘ مختلف حجروں میں مختلف فلموں کے دکھانے کا اہتمام ہو تا اور کسی حجرے میں بھی تل دھرنے کی جگہ نہ ہوتی‘آپ سے کیا پردہ دلیپ کمار اور نمی کی اڑن کٹھو لہ میں نے کچھ دوستوں کے ہمراہ وہیں دیکھی‘یہ فلم دیکھنے کا اشتیاق ہم دوستوں کو لتا کی آواز میں شکیل بدایونی کے لکھے اور نوشاد کی موسیقی سے مرتب اس فلم کے معروف گیت کو سن سن کر ہوا تھا۔

مورے سیاں جی اتریں گے پار
ہو ۔۔ندیا دھیرے بہو

یہ بہت بعد کی بات ہے کہ پشاور میں وی سی آر کرائے پر دستیاب ہو نا شروع ہو گئے تھے‘اور ان کیلئے انتظار بھی کر نا پڑیا تھا‘مجھے یاد ہے ان ہی دنوں میرے دوست اور بے بدل براڈ کاسٹر آغا سرور نے ’ آغا، ز ، اون‘ کے نام سے ویڈیو کیسٹ دکان شروع کی ‘جو بے حدمقبول ہوئی تھی‘ اسلئے سمجھو ہماری تو لاٹری نکل آئی تھی‘خیر وہ زندگی کا بہت ہی عمدہ دور تھا اور یہ وہی زمانہ تھا جب آغا خان آڈیٹوریم بھی فلموں ہی کی بدولت بہت معروف تھا‘آڈیٹوریم کے ذکر کیساتھ ہی مشتاق شباب کو اسلامیہ کالج پشاور سے جڑا ہوا مسعود الرحمن بھی یاد آ گیا جو ریڈیو اور ٹی وی کا ایک جانا پہچانا صداکار اور فنکار تھا‘ جسے اسی آغا خان آیٹوریم نے جگنو کا نک نیم دیا تھا جو اسے پہلے پہل تو پسند نہ تھا مگر بعد میں جگنو کے نام پر مسکرا دیا کرتا تھا۔ کیسا بیبا شخص تھا‘مگر بچھڑنے والے بہت سے دوستوں کی طرح ساری عمر ہنگاموں میں گزارنے کے بعد آخری دن خالی خالی اور کسمپرسی کے عالم میں گزارنے کے بعد دوستوں تک اسکی خبر تب پہنچی جب اسکی آنکھیں بند ہو چکی تھیں‘ سوچتا ہوں زندہ لوگوں کی مصروفیات اتنی کیوں بڑھ جاتی ہیں کہ انہیں دل کے قریب لوگوں کا علم بھی نہیں ہو پاتا۔ فراز نے ٹھیک کہا تھا

کیا لوگ تھے کہ جان سے بڑھ کر عزیز تھے
اب دل سے محو نام بھی اکثر کے ہو گئے

باتوں باتوں میں ہی ہم آڈیٹوریم پہنچ چکے تھے مگر آج ہم فلم دیکھنے نہیں آئے تھے محبی ڈاکٹر اویس قرنی نے کچھ دن پہلے ہی کمٹ منٹ لے لی تھی کہ پانی کے عالمی دن کے موقع پر محکمہ بلدیات خیبر پختونخوا کے واٹر اینڈسینی ٹیشن سیل کے اردو پشتو مشاعرے میں شریک ہو نا ہے‘یہ مشاعرہ در اصل اسی واٹسن سیل کی اس آگاہی مہم کا حصہ ہے جووہ ابلاغ عامہ کے ذریعے یہ پیغام پہنچانا چاہتے ہیں کہ صفائی ستھرائی جوہمارے ایمان کا جزو ہے ہم اس سے لا پروا ہو تے جا رہے ہیں پھر پانی کے حوالے سے اس بات کی اہمیت بھی اجاگر کرنا ہے کہ اسکا اصراف آ گے چل کر اس علاقے کیلئے کتنی مشکلات پیدا کر سکتا ہے کہ ماہرین کے مطابق آنیوالے پانچ چھ برسوں میں صاف پانی کا حصول ایک خواب بن کررہ جائیگا ‘کیونکہ جس طرح دن رات ہم زمینوں سے ٹیوب ویل کے ذریعے پانی نکال رہے ہیں‘ اسکا شاخسانہ ہمیں بھگتنا پڑے گا ڈاکٹر ناصر جمال سمیت اس سیل کے عہدیداران کی سنجیدگی اور دلسوزی سے یہ اندازہ لگا نا مشکل نہ تھا کہ وہ اپنا پیغام پہنچانے میں کامیاب ہو جائیں گے‘ ایسی ہی ایک سنجیدہ ٹریفک آگاہی کی مہم کی ضرورت بھی ہے‘ مگر عام آدمی سے پہلے ٹریفک اہلکاروں کی تربیت بہت ضروری ہے ‘کیونکہ قواعد سے تو وہ کسی حد تک با خبر ہیں لیکن ،مان لیں ، ٹریفک آداب سے قطعاً نہیں‘ آئے دن سوشل میڈیا پر جو ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں۔ وہ اگر مثالی پولیس کے ’ افسران بالا ‘ دیکھ لیں تو انکی چیخیں نکل جائیں۔’’یہ دو ہزار انیس ہے ‘‘بس اتنی آگاہی بھی کا فی ہے۔۔ ورنہ یاس یگانہ نے تو بہت پہلے خبر دار کر دیا تھا۔
رفتارِ زندگی میں سکوں آئے ‘کیا مجال
طوفاں ٹھہر بھی جائے تو دریا بہا کرے