192

ٹریفک کے اژدہام کاایک حل

گزشتہ اتوار کو میں دوپہر کے وقت گھر سے نکلا۔ جی ٹی روڈ سنسان پڑی ہوئی تھی‘چنانچہ میں نے بھی گاڑی کو ایکسلریٹر لگایا اور ذرا تیزی سے آگے بڑھنے لگا‘اچانک مخالف سمت سے ایک موٹر سائیکل نمودار ہوئی‘ دو سوار بیٹھے ہوئے تھے۔ دونوں نے ہیلمٹ نہیں پہنا تھا‘ کھلے کپڑے زیب تن تھے جن کی شلواریں اور دامن ہوا میں پھڑپھڑا رہے تھے‘ میں سڑک کی داہنی لین میں جارہا تھا اور وہ عین مخالف سمت سے اسی لین میں آرہے تھے۔ میں نے گاڑی آہستہ کی اور ان کے قریب رک گیا۔ سوار ہمارے ہی ہسپتال کا ملازم تھا۔ ’ڈاکٹر صاحب ! السلام علیکم‘۔ میں نے جواب میں کہا کہ کم از کم تم تو روزانہ ان حادثات کے شکار مریضوں کو لاکھوں روپے خرچ کرتے دیکھتے ہو تو پھر بھی ایسی کونسی ایمرجنسی تھی جس نے تمہیں محض چند قدم کا فاصلہ طے کرکے یو ٹرن لینے سے روکا۔ مجال ہے جو ماتھے پر شکن بھی آئی ہو۔ ہنس کے نکل گئے۔
پشاور کی پرانی آبادی ساڑھے تین لاکھ تھی‘اب پچاس لاکھ کے لگ بھگ ہوگئی ہے‘ایک جی ٹی روڈ تھی جو پشاور کی شہ رگ تھی‘ پھر خدا خدا کرکے رنگ روڈ بنی‘ تاہم یہ دونوں سڑکیں جب بیک وقت تعمیر یا مرمت کے چنگل میں پھنستی ہیں تو ہمارے بے صبرے ڈرائیوروں کا پارہ سوا نیزے پر چلا جاتا ہے۔ خدا کر ے یہ بی آرٹی خیر سے مکمل ہوجائے تو شنید ہے کہ یہ کھٹارا بسیں اور ویگنیں سڑک سے ہٹا دی جائیں گی‘تاہم صرف ان دو اقدامات سے ٹریفک کی بہتری کا کوئی زیادہ امکان نہیں۔ معاملہ ٹریفک کی تہذیب کا ہے‘ عوام کی تربیت کا ہے۔ یہ تربیت نہ صرف سکول اور مدرسے سے شروع کرنی چاہئے بلکہ چھوٹے بچوں کے والدین کو بھی وقفے وقفے سے آگاہی دینے کا پروگرام ہونا چاہئے۔ اسکے علاوہ مساجد اور دوسری عبادت گاہیں بھی اس آگاہی کا موثر ذریعہ ہوسکتی ہیں۔

بی آر ٹی کی تکمیل کیساتھ کھٹارا بسیں‘ویگنیں اور غیر رجسٹرڈ رکشے تو ختم ہوجائیں گے‘ تاہم لاقانونیت کا وہ طوفان جو غیر محفوظ گاڑیوں کی شکل میں سڑکوں پر دندناتا پھرتا ہے‘اس سے کیسے چھٹکارا پایا جاسکتا ہے ‘ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ اب سرکاری ادارے بھی ٹیکس کے پیسوں سے ایسی گاڑیاں خرید رہے ہیں جو نہ صرف ٹریفک میں خلل کا باعث ہیں‘ حادثات کا سبب ہیں بلکہ غیر قانونی بھی ہیں‘ پی۔ ڈی۔ اے اس سلسلے میں شایدسب سے زیادہ اس جرم کا مرتکب ہے‘فضلہ جمع کرنے کیلئے نہ صرف گدھا گاڑیوں کا استعمال بلکہ ان کو چلانے کیلئے چھوٹے چھوٹے بچوں کو اجازت دینا نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ غیر اخلاقی اور صحت کے تمام اصولوں کے خلاف ہے۔ ان گدھا گاڑیوں کے اپنے سائز سے زیادہ ان کے اطراف میں بڑے بڑے تھیلے لٹکے ہوتے ہیں جو پوری سڑک گھیر لیتے ہیں‘ سب سے بڑی حیرت مجھے پی ڈی اے کی سرکاری طور پر غیر قانونی چنگ چی اور موٹر سائیکلوں سے تین پہیوں والی گاڑیوں کی خرید ہے‘ یہ گاڑیاں اب پی ڈی اے سامان لے جانے کیلئے استعمال ہوتی ہیں جن کی سواری نہایت خطرناک اور بے توازن ہے اوپرسے یہ غیررجسٹرڈ بھی ہیں‘جب سرکاری ادارے ہی ایسی گاڑیاں استعمال کریں توہم ان پڑھ لوگوں جو پہلے ہی سے قانون شکنی پر تلے ہوئے ہیں‘ سے کیا گلہ کرسکتے ہیں۔

پولیس اور خصوصاً ٹریفک پولیس میں نفری زیادہ ہونے کے باوجود ٹریفک کے قوانین نافذ کرنے میں کامیابی حاصل نہیں ہورہی ‘اس سلسلے میں قانون کے ہاتھ میں زیادہ اختیارات نہ ہوں اور ان کو آہنی ہاتھ سے نافذ نہ کیا جائے تو بہتری کی امید ہر گز نہیں ہوتی‘دراصل حکومت میں افسر شاہی کو کافی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے‘ کہیں سفارش‘ کہیں سیاسی دھونس اور کہیں یونین بازی کے ہاتھوں نہ تو حکومت کو صحیح قانون سازی کی ہمت پڑتی ہے اور نہ ان کے نفاذ میں‘ اس وقت پوری دنیا میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ پر بہت زیادہ کام ہورہا ہے۔ وہی کام جو حکومت دس ملازمین کے ساتھ سو روپے میں کرتی ہے‘وہی کام پرائیویٹ کمپنیاں دو ملازمین کیساتھ بیس روپے میں کرنے کو تیارہوتی ہیں‘ پھر ایسے معاملات جہاں جرمانے اور ٹیکسوں کے سلسلے میں آمدنی کا امکان ہوتو وہاں حکومت کو کم خرچ میں زیادہ رقم حاصل ہوجاتی ہے حکومت اگر بہت سے ایسے کام پبلک پرائیویٹ اشتراک میں کرنا شروع کردے تو اسے صرف نگرانی کا سٹاف رکھنا پڑتا ہے‘امریکہ میں تو اب جیل بھی پرائیویٹ سیکٹر کو دے دےئے گئے ہیں جو سرکاری خرچ کے آدھے سے بھی کم میں چل رہے ہیں‘اس لئے اگر پرائیویٹ سیکٹر کیساتھ مل کر ٹریفک کنٹرول کا معاون ادارہ بنایا جائے جسے اعلیٰ درجے کی ٹریننگ مل سکے۔ اسی ادارے کو گاڑیوں کی فٹنس کا کام بھی سونپا جاسکتا ہے۔ گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ان کے روڈ ٹیکس کا نظام بھی فی الحال درہم برہم ہے‘اسے بھی راہ راست پر لایا جاسکتا ہے نئی یا پرانی درآمد شدہ گاڑیوں کے بارگین سنٹروں پر پابندی لگائی جاسکتی ہے کہ نمبر پلیٹ اور رجسٹریشن کے بغیر نہ بیچ سکیں۔

اب تو ان پر ریڈیو فریکوینسی سٹکر لگا کر ان کو آسانی کیساتھ ٹریس بھی کیا جاسکتا ہے۔ گاڑیوں کے پرزوں کی آمد و رفت کا بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے تاکہ چور بازار بند ہوسکیں۔ سڑک پر ہر قسم کی گاڑی کی انشورنس بھی چیک کی جاسکتی ہے۔ ان تمام مدات میں حکومت کو نہ صرف اضافی آمدن ہوگی بلکہ سڑک پر چلنا نسبتاً محفوظ بھی ہوجائے گا۔ ہمارے ٹریفک ایس پی کے مطابق ٹریفک قوانین کے نفاذ کا سب سے بڑا محرک گاڑیوں کو بند کرنا ہے تاہم پورے پشاور میں ٹریفک پولیس کے پاس محض ستر گاڑیوں کے بند کرنے کی جگہ ہے ۔ وہ کہہ رہے تھے کہ اگر ان کے پاس پانچ سو گاڑیوں کے بند کرنے کی جگہ ہو تو پورے پشاور کی ٹریفک ایک دو ماہ میں مہذب ہوجائے‘ اب یہ جگہ صرف پرائیویٹ ادارے ہی فراہم کرسکتے ہیں‘ہر سال پانچ ہزار لوگ صرف سڑکوں پر مرتے ہیں اور لاتعداد معذور ہوکر رہ جاتے ہیں جو نہ صرف ان کے خاندانوں کیلئے ایک بہت بڑا صدمہ ہے بلکہ قوم کیلئے بھی ایک بڑا نقصان ہے۔