218

دل پر راج کرنے والے

بہت دن پہلے کی بات ہے کہ جب میرے سرکاری ڈاکٹر نے مجھے میری صحت سے متعلق کچھ دوائیاں لکھ کر دیں تو سوچا کیوں نہ اس کیمسٹ سے دوائی لے لوں جس کو میرا محکمہ براہ راست خود ادائیگی کرتا ہے‘ اس طرح مجھے جیب سے پیسے خرچ کرکے محکمے کی طرف سے واپسی کا طویل انتظار نہیں کرنا پڑے گا‘ مجھے اس طریقے کو اپنانے کے لئے بہت دور ایک مہنگے علاقے کی مارکیٹ جانا پڑا‘ایک خوبصورت شیشوں سے مزین بڑا ڈرگ سٹور دیکھ کر میں متاثر ہوئی کہ ہمارے محکمے کے پاس اچھے کیمسٹس موجود ہیں‘ جب اندر داخل ہوئی اور میرے ہاتھ میں سبز پرچی دیکھی تو دکاندار تو جیسے بھنایا ہوا تھا‘ انتہائی اعلیٰ درجے کی بدتمیزی سے اس نے مجھے اور میرے محکمے کو برا بھلا کہا اور دوائی دینے سے انکار کی وجہ لاکھوں کا بل بتایا کہ جو میرے محکمے سے پاس نہیں ہوا تھا‘ میں اس بات سے تو متفق ہوں کہ وہ دوائی دینے سے انکارکررہا ہے لیکن کس انداز میں وہ ایک خاتون پر اپنا غم و غصہ اتار رہا ہے یہ بات مجھے کبھی نہیں بھولے گی‘ مجھے ایک کہانی یاد آگئی کہ جب ایک شخص آوارہ گردی کرتے ہوئے ایک ایسی دکان میں چلا جاتا ہے جہاں دریا سے مچھلی پکڑنے کے لئے سازو سامان بک رہا ہوتا ہے‘ دکاندار جو ایک جوان لڑکا ہے اس کو نہایت ادب و احترام سے ایک ایک کاؤنٹر پر جاکر مختلف کانٹے بتاتا ہے کہ جس سے مچھلی پکڑنے کے سو فیصد چانسز ہوتے ہیں‘ وہ شخص ایک کانٹا اور اس سے متعلق سارا سازوسامان صرف اس لئے خرید لیتا ہے کہ وہ دکاندار کے اخلاق و احترام سے متاثر ہو جاتا ہے‘ ایسے میں وہ دکاندار اس شخص پر دھوپ میں پہننے والا چشمہ اور ٹوپی اور شوز بھی بیچ چکا ہوتا ہے‘ جو شخص دکان میں صرف دیکھنے کی نیت سے گیا جب باہر نکلا تو بڑے بڑے تھیلے اس کے ہاتھوں میں تھے۔

اس کو مارکیٹنگ کہتے ہیں جس کا پہلا اصول اخلاق احترام اور گاہک کی اہمیت ہے‘ اگر گاہک آپ کی دکان سے کچھ بھی نہیں خریدتا تب بھی وہ قابل احترام ہے‘ ہماری زندگی میں ہمارے روئیے کس طرح اور کس قدر اہمیت رکھتے ہیں کہ وہ ہماری زندگیوں کو سنوار بھی سکتے ہیں اور بگاڑ بھی سکتے ہیں‘ اجاڑ باغ کو دیکھ کر انسان کا دل اس سے نکل جانے کو چاہتا ہے جبکہ پھولوں اور خوشبوؤں سے بھرا ہوا باغ آپ کو اپنی طرف بلاتا ہے‘ اسی طرح آپ کا بدصورت رویہ اجاڑ باغ کی طرح ہے کہ لوگ اپنے پرائے آپ سے دور ہوتے جاتے ہیں اور مثبت اور خوبصورت رویہ خوشبوؤں اور پھولوں سے بھرے ہوئے باغ کی مانند ہے کہ لوگ بے اختیار سکون کا سانس لینے کے لئے اس باغ کے پاس رک جاتے ہیں‘ پھر تھوڑی دیر وہاں بیٹھنے کو دل چاہتا ہے اور اگر وہاں سے جانا بھی چاہیں تو بے دلی سے جایا جاتا ہے‘ ہم چاہیں تو اپنی زندگیوں کوبدسلوکی ‘بدتمیزی اور گالیوں سے بھر دیں اور ہم چاہیں تو اس میں نرمی‘ پیار‘ مسکراہٹ ‘ ہمدردی اور اخلاق بھر دیں‘ آپ نے کتنے ہی گھر دیکھے ہونگے جن کی خوبصورتی دیکھ کر نگاہ ٹھہر جاتی ہے‘ فرنیچر‘ نوکر‘ چاکر‘ زیب و زینت‘ کراکری و لباس‘ سب اتنا پر اثر ہوتا ہے کہ حسرت ہوتی ہے کہ اے اللہ تیری شان تو نے سب عطا کر دیا ہے اور پھر اچانک ایک کرخت اور بھدی آواز نہایت بدتمیزی سے آپ سے مخاطب ہوتی ہے تو وہ تمام خوبصورتی بھی بھدی اور کرخت صورت اختیار کرلیتی ہے ‘ایسے کئی خاندان ہیں جہاں اگر بیوی سلیقہ مند ہے اورگھر کی خوبصورتی ہے تو مرد فرعون ہے جو گھر کی خوبصورتی میں زہر گھولنے کے لئے کافی ہے۔

سخت اور کھردرے لہجہ میں اپنے خاندان کو لمحہ لمحہ زہر پلاتا رہتا ہے اور جب ایسا ہی ایک خاندان دیکھتے ہیں جہاں شوہر با اخلاق ہے محنتی ہے ایماندار ہے حلال کماتا ہے اور گھر بار بھی اچھا ہے لیکن بیوی کی زبان‘ گالم گلوچ‘ اونچی آواز‘ بدتمیزی اس خاندان کو تباہ کرنے کا موجب ہوتی ہے‘ اللہ تعالیٰ نے ہمیں متوازن زندگیاں گزارنے کا حکم دیا ہے اور ہمارے لئے نبی آخر الزمانؐ کی ذات مبارک کی زندگی کو مثالی اور ارفع بنا دیا ہے ہمیں اپنی زندگی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کی پیروی میں گزارنا چاہئے‘ آپؐ انسانوں سے کیسے بولتے تھے‘ آپؐ جانوروں سے کیا سلوک کرتے تھے‘ آپؐ کا غلاموں کیساتھ کیا برتاؤ تھا‘ آپؐ اجنبیوں سے کس طرح مخاطب ہوتے تھے‘آپؐ اپنی بیبیوں کیساتھ کس طرح سلوک کرتے تھے‘ آپؐ مشرکین اور کفار کیساتھ کس طرح بات کرتے تھے ہمیں ایک بار زندگی میں انکے انداز و اطوار کا ضرور مطالعہ کرنا چاہئے اور اپنی اولاد کو بھی وہ کتابیں ہاتھ میں تھمانی چاہئیں تاکہ وہ بھی اپنی زندگیوں کو آپؐ ‘خلفائے راشدین اور صحابہ کرامؓ کے مطابق بنانے کی کوشش کریں‘ میں سمجھتی ہوں کہ ہمارے ماں باپ کیساتھ ساتھ اگر ہمارے اساتذہ بھی روئیے کو بہترین بنانے میں اپنے شاگردوں کی مدد کریں تو ہمارا معاشرہ سنور جائے ‘ایک اچھا استاد اور اس کے منہ سے نکلا ہوا ایک خوبصورت بول اپنے شاگرد کیلئے اس کی زندگی بدل دیتا ہے‘ انسان کی زندگیوں میں استاد کا کردار نہایت اہم ہے قسمت والے لوگوں کو اچھے استاد نصیب ہو جاتے ہیں اور اچھے استاد اپنے بدقسمت شاگردوں کی زندگی بھی بدلنے کی دسترس رکھتے ہیں‘ دنیاوی علم ضروری ہے لیکن اس علم کیساتھ ساتھ اخلاقیات اتنا بڑا مضمون ہے کہ اس کا کوئی ثانی نہیں‘ آپ وہ باپ ہر گز نہ بنئے گا کہ آپ کی آواز دروازے پر سن کر آپ کا بچہ تھر تھر کانپنے لگے اور چھپنے کی کوشش کرے‘ آپ ایک رحم دل انسان بن کر اپنے بیوی بچوں کے دل پر راج کرنے والے انسان بنئے گا ۔