199

ایک پڑھے لکھے ڈاکٹر کیساتھ گفتگو

آپ کہتے ہوں گے کہ سبھی ڈاکٹرپڑھے لکھے ہوتے ہیں بلکہ وہ ایک معاشرے میں انتہائی تعلیم یافتہ سمجھے جاتے ہیں آپ کی بات درست ہے جہاں تک علوم طب کا تعلق ہے سبھی ڈاکٹر اس میدان میں دسترس رکھتے ہیں۔
لیکن میری مراد وہ ڈاکٹر صاحبان ہیں جو اپنے شعبے کے علاوہ زندگی کے باقی شعبوں میں بھی دلچسپی لیتے ہیں اور کئی ایک اور شعبوں میں بھی دسترس رکھتے ہیں‘ایسے انہونے لوگ پالی میتھ (Polymath) کہلاتے ہیں یعنی ان کی دلچسپیوں کا دائرہ بہت وسیع ہوتا ہے اور وہ جس مضمون یا موضوع کو اپناتے ہیں اس میں دسترس حاصل کرتے ہیں زمانہ قدیم میں علماء اور حکماء اس کسوٹی پر پورا اترتے تھے ۔
تو یہ پڑھے لکھے ڈاکٹر ہیں عبید اللہ صاحب جو اس صفحے پر میرے ہمسائے ہیں اور ایک عرصہ سے روزنامہ آج میں کالم لکھ رہے ہیں‘ میرا ان سے دیرینہ تعلق ہے‘ پشاور میں قیام کے دوران ان سے ایک دو ملاقاتیں لازمی ہوتی ہیں یہ بہتیرا کہیں کہ میں ان کا Idealہوں لیکن ایمانداری کی بات یہ ہے کہ میں جب بھی ان کیساتھ ہوتا ہوں ان سے بہت کچھ سیکھتا ہوں ۔

ڈاکٹر عبید کا مطالعہ صرف میڈیکل کتابوں اور میڈیکل لٹریچر تک محدود نہیں‘انہیں مذہب اور مختلف مذاہب کے درمیان مشترک اقدار اور تعلیمات پر عبور حاصل ہے‘ انہیں یہ کہنے میں تامل نہیں کہ ہم نے اپنے مذہب کو صرف عبادات تک محدود کر دیا ہے‘ مذہب کے فلسفے اور تعلیمات کو بہت حد تک نظر انداز کر دیا ہے‘ قرآن کی تعلیمات کے لفظی معنوں کے پیچھے کئی موضوعات ہماری توجہ اور تحقیق کی منتظر ہیں‘کیا جنت میں مردوں کی تفریح کیلئے حوریں ہوں گی ؟ یہ خوبصورت چھوٹی پہاڑیاں (Rolling Hills)بھی ہوسکتی ہیں اور لذیذ انگور بھی۔
عبید صاحب کو بہت سارے اورمضامین میں بھی دلچسپی ہے عمرانیات‘بین المذاہب تعلقات ‘ معاشرے میں غریبوں کے حقوق اور اس ضمن میں صاحب حیثیت لوگوں کے فرائض‘تاریخ ‘تمدن‘ روایات وغیر وغیرہ‘ آپ ان کے کالموں سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان کی کینوس بہت وسیع ہے اور وہ نت نئے رنگوں سے اپنے کالموں میں الفاظ کی مصوری کرتے رہتے ہیں ۔

پیشے کے لحاظ سے آپ پلاسٹک سرجن ہیں اور نارتھ ویسٹ ہسپتال میں کام کرتے ہیں‘ جنرل پلاسٹک سرجری کے علاوہ وہ نوزائیدہ بچوں کی سرجری میں بھی ماہر ہیں خصوصاً ایک ایسی کیفیت جس میں بچے کے عضو مخصوص میں نوک کے بجائے نیچے سوراخ ہوتا ہے Hypospadias جس میں سے پیشاب خارج ہوتا ہے عبید صاحب اس نقص کی کامیاب سرجری کرتے ہیں اور اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ کیس انہوں نے ہی کئے ہیں‘ بین الاقوامی سطح پر آپ اس قسم کی سرجری کے ایکسپرٹ مانے جاتے ہیں ۔ انہوں نے ایک اور ایریا میں بھی بین الاقوامی شہرت حاصل کی ہے وہ ہے Ambiguous Gelitaliaیہ پیدائشی نقص ہے جس میں بچے لڑکی اور لڑکے دونوں کے اعضائے مخصوصہ کے ساتھ جنم لیتے ہیں‘ والدین کے لئے مشکل پڑجاتی ہے کہ ان کے ہاں لڑکاہوا یا لڑکی‘ ان میں سے بیشتر کا علاج سرجری سے ہوسکتا ہے اور یہ سرجری بھی بہت مشکل ہے عبید صاحب اس قسم کی سرجری کے حوالے سے دنیا بھر میں پہچانے جاتے ہیں ۔

اگلے وقتوں میں جب ایسے بچے پیدا ہوتے تو والدین کو فکر ہوتی تھی کہ ہمارے معاشرے میں ایسے بچوں کو پالنا انتہائی مشکل ہوتا ہے‘ وہ بھول جاتے تھے کہ یہ بچے بھی اللہ کی دین ہیں اس میں بے چارے بچوں کا کیا قصور ہے ؟ یہ بات بھی سننے میں آئی ہے کہ کچھ لوگ ان بچوں کو خواجہ سرا برادری کو دے دیتے تھے تاکہ وہ ’اپنی قسم‘ کے لوگوں کے درمیان رہیں مجھے خوشی ہے کہ اب ہمارے شہر میں ان میں سے اکثریت کا خاطر خواہ علاج ہو رہا ہے اپنے دل کے ٹکڑے کو کسی اور کے حوالے کر دینا کہ بچے میں کچھ نقص ہے کہاں کا انصاف ہے ؟ کچھ عرصہ پہلے عبید اللہ صاحب نے میرے حوالے سے ایک کالم لکھا تھا جس میں انہوں نے حد سے بڑھ کر میری تعریف کی تھی‘محبت اور مروت انسان کو بہت کچھ لکھنے پر مجبور کردیتی ہے میرا یہ کالم جواب آنکہ کے زمرے میں نہیں آتا ۔عبید اللہ ایک پڑھے لکھے بامروت انسان ہیں اس لئے میں نے ان کے بارے میں جو کچھ دیکھا ‘ پڑھا اور محسوس کیا‘ لکھ دیا ۔