222

عوام کا لایا ہوا عذاب

شہزادحنیف اوکھے لوگوں میں شمار ہوتے ہیں‘ جن معاملات میں دوسرے لوگ شکایات کے انبار لگاتے ہیں اور الزامات کی بوچھاڑ کرتے ہیں ‘یہ آستین چڑھاکر انہیں درست کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر سوشل میڈیا سے لے کر عام میڈیا تک مادہ پرستی پر لعنت برستی رہتی ہے۔ فیشن کے نام پر ہر گھر کے وارڈ روب بھرے ہوئے ہیں جن میں سے کم ہی کپڑے عام طور پر پہنے جاتے ہیں۔ شہزاد بھی تو اسکی برائیاں بیان کر سکتے تھے ‘لیکن انہوں نے حیات آباد میں ایک سادہ سی دیوار کو دیوارِ مہربانی بنا دیا۔ اب چندلوگوں نے فالتو کپڑے وہاں لٹکائے تو دوسروں کو حوصلہ ہوا اور اپنی استعمال سے زائد چیزیں وہاں رکھنی شروع کردیں‘ضرورت مندوں کے لئے ایک سائبان بن گیا‘ہم سب ہیروئن اور دوسرے نشو ں کے مارے ہوؤں کو دھتکارتے رہتے ہی ہیں اور شکایات کے انبار لگانے میں ثانی نہیں رکھتے ‘ لیکن شہزاد نے کبھی اس انداز سے سوچا ہی نہیں۔ بس ایک دن اپنے طلبہ کو لے کر کارخانو پہنچے۔ان تمام نشئیوں کوکھانا کھلایا‘ان کو غسل کروایا ‘بال بنائے اور مناسب کپڑے پہنائے۔ نہ اخبار میں دیا اور نہ ٹی وی پر اشتہار چلے۔ سو سے کچھ اوپر کے نشے کے عادیوں میں سے پینتالیس گھر واپس پہنچے۔ کیونکہ وہ خود اپنی حالت پر شرمندہ تھے لیکن اس حالت میں گھر نہیں جاسکتے تھے‘کہیں مفت کھانے کا بندوبست کیا تو مخیر حضرات کی بھیڑ لگ گئی۔ کسی کو خون کی ضرورت پڑی اور ان کا خون گروپ برابر ہوا توجاکر خود ہی خون دے آئے ورنہ آئی ایم سائنسز کے کسی طالب علم نے عطیہ کردیا‘ ان جیسے لوگوں سے مل کر میرا قد بہت چھوٹا ہوجاتا ہے ۔

ایسی چنگاری بھی‘ یارب اپنی خاکستر میں تھیپچھلے دنوں قبل ان سے پہلی ملاقات میں چند مزید حقائق سے آگاہی ہوئی۔ شہزاد نے کئی بھکاریوں کی ویڈیو جاسوسی کی۔ گھنٹوں ان کا مشاہدہ کیا۔ ان کے مطابق ہر گداگر نہایت آسانی کے ساتھ روزانہ دو سے تین ہزار روپے کمالیتا ہے۔ بعض کی آمدن تو دس ہزار سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے‘یہی وجہ ہے کہ اس وقت پشاور پر گداگروں کی ایک یلغار سی آئی ہوئی ہے‘ہر چوک‘ہر سپیڈ بریکر‘ راؤنڈاباؤٹ اور ہر رش کی جگہ پر گداگروں کی فوج ظفر موج موجود ہوتی ہے اور اتنی ڈھٹائی کے ساتھ چمٹ جاتے ہیں کہ ان سے جان چھڑانا مشکل ہوجاتی ہے۔ اس سے قبل حکومت نے ان کیلئے پناگاہیں بنادی ہیں‘لیکن یہ سارے پیشہ ور گداگروہاں سے بھاگ کر پھر سے سڑکوں پر قبضہ جمالیتے ہیں۔ ظاہر ہے بھیک مانگنا قانون کے خلاف ہے۔ تاہم حکومت کے پاس اتنی پولیس ہرگز نہیں جو ایک طرف عوام کی بے صبری کی ماری ٹریفک کو کنٹرول کرے‘ اتنی بڑی آبادی کی حفاظت بھی کرے اور ان گداگروں کو بھی گرفتار کرنا شروع کرے۔پھر ان کو گرفتار کرکے رکھے کہاں کہ جیل پہلے سے اپنی گنجائش سے زائد بھرے ہوئے ہیں۔

اب لے دے کے ایک حل رہ جاتا ہے کہ عوام ہی عقل سے کام لیں۔ اپنی گناہوں کو صدقے سے دھونے کیلئے روپیہ دوروپے کی بھیک دینا بند کردیں‘یہی پیسہ جمع کرکے یتیم خانوں‘فلاحی سکولوں ‘ فلاحی ہسپتالوں کو د ے تو اس صدقے کی افادیت مسلم ہوجائے گی۔ زیادہ تر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ان بھکاریوں کو پیسے نہ دے کر ان کو کوئی نقصان ہوجائے گا‘بلکہ پشاور کے دکاندار تو مشہورہی اس لئے ہیں کہ صبح سے ایک گڑوی میں ریزگاری رکھتے ہیں ‘قطار در قطار گداگر آتے ہیں‘ اور یہ پیسہ لیتے جاتے ہیں‘میں نے کئی بار ان کو سمجھایا بھی کہ آپ ہی گداگروں کی تعداد میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ سب کو معلوم ہے کہ یہ سو فیصد پیشہ ور گداگر ہیں۔ نکمے ہیں۔ کام نہیں کرنا چاہتے۔ اپنے بچوں کو بھی نہ سکول بھیجتے ہیں اور نہ کوئی ہنر سکھاتے ہیں‘اس طرح سے ان کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہی ہورہا ہے۔ واحد وجہ عوام کا حد درجہ وہمی ہونا ہے۔ ہر شخص چند روپے دے کر اپنی دنیاوی اور اخروی زندگی میں کامیابی چاہتا ہے‘یہ سوچے بغیر کہ یہ عمل معاشرے کو کیا دے رہاہے۔ دکاندار اپنی بِکری کے لالچ میں چند روپے لٹادیتا ہے اور گاڑی والا عین چوک میں ٹریفک روک کر بھکاری کو اپنے سفر کا صدقہ دے دیتا ہے اس بات کا ادراک کئے بغیر کہ پیچھے ٹریفک کی رکاوٹ کا باعث بھی بن رہا ہے اور گداگروں کی نسل کی تیاری میں صدق دل سے حصہ لے رہا ہے۔ اب تو رمضان کی آمد آمد ہے۔ ثواب کمانے کیلئے پوری قوم بھی بھکاری بن جائے تو ہم مسلمانوں کی جوتی سے‘یہ لعنت صرف ہم مسلمانوں کی بے وقوفی سے اس حد تک چلی گئی ہے کہ یورپ اور انگلینڈ میں رومانیہ کے شہری (جو پوری دنیا میں بھیک مانگنے میں مشہور ہیں) مسلمانوں کا لباس پہن کر خصوصاً رمضان میں اور جمعہ کے دن مساجد کے باہر کھڑے ہوکر بھیک مانگتے ہیں‘رمضان اور حج کے دنوں میںیہی بھکاری پوری دنیا سے جہاز کے جہاز بھر کر حرمین میں اترتے ہیں اور باجود اس کے کہ سعودی قوانین سخت ہیں اور ان کیخلاف کاروائی ہوتی رہتی ہے‘ لیکن اس بزنس میں اتنا پیسہ ہے کہ سب بھکاری یہ خطرات قبول کرکے اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہتے ہیں۔

اس ناسور کی جڑیں بھی عوام سے نکلی ہیں اور اسکا علاج بھی عوام ہی کے پاس ہے۔ خدا را ان پیشہ ور گداگروں کو بھیک دینا بند کردیں۔ خدا کے محبوب ؐ نے بھیک مانگنے کی بہت ممانعت کی ہے۔ خیرات اور صدقات کی نہ صرف قرآن میں تلقین ہوئی ہے بلکہ رسول کریم ؐ نے بھی اسکی تاکید کی ہے۔ لیکن آپ سب کو بخوبی علم ہے کہ آپ کے خاندان میں‘ آپ کے پڑوس میں‘ آپ کے گھر میں کام کرنے والوں میں‘ آپ کے دوست احباب میں کون ضرورت مند ہیں۔ ان کی ضروریات کا آپ کو علم بھی ہے تو کیوں نہ ان کی مدد کی جائے‘کوئی ضرورت مند نہیں ملتا تو ہسپتال چلے جائیے‘وہاں کسی ڈاکٹر یا نرس سے ملیں تو آپ کو فوراً نشاندہی کردیں گے کہ کونسا مریض مستحق ہے‘اس قوم کو گداگر بنانے میں عوام ہی کا ہاتھ ہے اور انہی کو اپنا ہاتھ روکنا ہوگا۔ خدارا۔