410

معیشت آئی سی یو سے نکل آئی؟

وزیر خزانہ اسد عمر کہتے ہیں کہ وطن عزیز کی معیشت آئی سی یو سے نکل آئی ہے‘ وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ اکانومی کا بحرانی مرحلہ گزر گیا ہے اور اب استحکام کا سفر جاری ہے تاہم ابھی مزید بہتری کیلئے وہ ڈیڑھ سال کا وقت دیتے ہیں‘ اس سب کیساتھ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ قرضے کیلئے آئی ایم ایف کیساتھ مذاکرات جاری ہیں‘ عین اسی روز جب وزیر خزانہ معیشت کے حوالے سے مختلف زاویوں سے بات کررہے تھے‘ وزیراعظم نے نئی ٹیکس ایمنسٹی سکیم کی منظوری دیدی جو اس ماہ کی 15تاریخ سے نافذ ہونے کا امکان ہے‘ نئی سکیم کے خدوخال بتاتے ہیں کہ اس کی مدت 45روز ہوگی ‘ٹیکس کی شرح بے نامی اثاثوں پر 10فیصد ہوگی جبکہ بے نامی اکاؤنٹس پر 2فیصد ٹیکس عائد ہوگا‘اسی طرح زرمبادلہ واپس لانے پر 5فیصد ٹیکس دینا ہوگا‘ وطن عزیز کی معیشت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرضوں کی اصل رقم تو اپنی جگہ رہی‘ اس وقت ہم سود ادا کرنے کیلئے قرضے اٹھانے پر مجبور ہیں‘ ذمہ دار دفاتر میں مہیا اعداد وشمار کے مطابق 800ارب سے زائد کا قرضہ صرف سود کی رقم ادا کرنے کیلئے لیاگیا‘ زرمبادلہ کا خسارہ 19ارب ڈالر کی حد تک بھی گیا تھا۔

جس کے نتیجے میں بین الاقوامی قرضے بھی بڑھے‘ کسی بھی ملک کیلئے یہ صورتحال تشویشناک ہی ہوتی ہے جب ایک قرضہ اور اس کا سود اتارنے کیلئے دوسرا قرضہ اٹھانا پڑے‘ قرضوں کیلئے درخواستیں دی جائیں اور پھر ان پر سوالات آئیں‘ جن کا ذکر کرتے ہوئے وزیر خزانہ یہ بھی کہتے ہیں کہ رشتے کیلئے بھی اتنے سوال نہیں پوچھے جاتے جتنے آئی ایم ایف نے پوچھے ہیں جبکہ مالیاتی ادارے ہمارے یوٹیلٹی بلوں کا تعین کرنے لگیں‘ ایسے میں قرض کی منظوری کو بھی کامیابی قرار دے کر یہ کہا جائے کہ بین الاقوامی ادارے ہمارے معاشی پروگراموں پر اعتماد کا اظہار کررہے ہیں‘ قرضے‘ بیل آؤٹ پیکج اور ادھار پر تیل لینا اکانومی کے آئی سی یو میں پڑے مریض کیلئے تو وقتی ریلیف ضرور ہے‘ مسئلے کے پائیدار حل کی جانب بڑھنا اس سے بھی زیادہ ضروری ہے‘ بیماری اس وقت پیچھا چھوڑتی ہے جب اس کو جڑ سے ختم کیاجائے‘ صرف قرضے کی قسط دینا کافی نہیں‘ اب ہمیں اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کیلئے اقدامات اٹھانا ہوں گے‘ گوکہ ان میں کچھ تلخ فیصلے بھی ناگزیر ہوتے ہیں‘ اگر عوام کو اعتماد میں لے کر بڑھا جائے تو قوم ہمیشہ قربانی دیتی چلی آئی ہے‘ اقتصادی منظرنامے میں زیادہ ضروری عوامی ریلیف ہے جس کیلئے مارکیٹ کو کنٹرول میں رکھنا ہوگا‘ اس مقصد کیلئے اعلیٰ سطح پر حکمت عملی کی تیاری ضروری ہے۔

صحت انصاف کارڈ

خیبرپختونخوا حکومت نے اگلے بجٹ میں صوبے کے تمام شہریوں کو صحت انصاف کارڈ فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے‘ اس منصوبے پر لاگت کا تخمینہ 10ارب روپے سے بھی زائد ہے‘ حکومتی اعلانات کے مطابق اگر تمام شہریوں کو یہ ریکارڈ مل جاتے ہیں تو یقیناًیہ ایک بڑا اقدام ہوگا‘ اس بڑے اقدام کو جو دوسرے صوبوں کیلئے بھی ایک مثال بنے گا‘ ثمر آور بنانے کیلئے سرکاری شفاخانوں میں اصلاحات ناگزیر ہیں‘ا س بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ کارڈ لیکر جانے والے شہریوں کو دھکے نہ کھانے پڑیں‘ انہیں وسل بجا کر چھڑی کے اشارے سے ایک سے دوسری جگہ نہ بھیجا جائے‘ عام شہری کو کارڈ ور اس کے بدلے ملنے والی خدمات سے متعلق پورا علم ہونا چاہئے تاکہ بدانتظامی نہ ہونے پائے۔