209

نیتن یاہو اور نواز شریف

بنجا من نیتن یاہو اور نواز شریف دونوں پر سینکڑوں ملین ڈالر کی کرپشن کے الزامات ہیں اور دونوں اپنے اپنے ملک کی سیاست پر 35 برس سے چھائے ہوئے ہیں‘نیتن یاہو9 اپریل کے انتخابات میں چوتھی مرتبہ اسرائیل کے وزیر اعظم منتخب ہوئے ہیں وہ اگر کرپشن کے الزامات کی زد میں آ کر سزا یافتہ ہونے سے بچ جاتے ہیں اور وزارت عظمیٰ کی چوتھی مدت پوری کر لیتے ہیں تو انہیں اسرائیل کے بانی وزیر اعظم ڈیوڈ بن گورین سے زیادہ عرصے تک وزیر اعظم رہنے کا اعزاز حاصل ہو جائیگا‘نواز شریف کو اگر متنازعہ عدالتی فیصلوں کے ذریعے انتقام کا نشانہ نہ بنایا جاتا تو وہ بھی چوتھی مرتبہ وزیر اعظم منتخب ہو سکتے تھے‘ مقبول عوامی لیڈروں کے خلاف عدالتی فیصلوں کو کسی بھی ملک میں مکمل طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا‘اس طرح کے فیصلے ہمیشہ طویل سیاسی اور معاشی عدم استحکام کا باعث بن جاتے ہیں نواز شریف اور نیتن یاہو دونوں نے ہمیشہ عوامی مقبولیت کے بل بوتے پر اقتدار حاصل کیا ‘دونوں عالمی شہرت رکھتے ہیں اور طویل سیاسی کیرےئر کی وجہ سے دشمنوں میں گھرے ہوئے ہیں‘سیاست اقتدار کا کھیل ہے اس میں آن اور شان بچانے کیلئے جان کو داؤ پر لگانا پڑتا ہے‘ حریف ہر وقت طاق میں لگے ہوتے ہیں بس اک نگاہ چوکی اور مال دوستوں کا والی بات ہوتی ہے‘ ۔

نیتن یاہو پر تین سال سے کرپشن اور رشوت کے مقدمات چل رہے ہیں مگر عدالت اسلئے عجلت سے کام نہیں لے رہی کہ اس پرکسی طاقتور ریاستی ادارے کا دباؤ نہیں ہے پاکستان میں رسوائے زمانہ پاناما سکینڈل جسکے سائے خلیجی ممالک سے برطانیہ تک پھیلے ہوئے تھے کوسولہ مہینوں میں نبٹا دیا گیا‘ اس بات کا فیصلہ ابھی ہونا باقی ہے کہ اس عدالتی فیصلے کی وجہ سے نواز شریف کی مقبولیت میں کمی آئی ہے یا نہیں‘ برسرزمین حقائق یہ ہیں کہ ا سوقت پنجاب کی صوبائی اسمبلی میں نواز لیگ کی 129اور تحریک انصاف کی 119 نشستیں ہیں جون میں اگر عمران خان کی جماعت پنجاب کا صوبائی بجٹ منظور کرانے میں ناکام رہتی ہے تو وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہٹانا مشکل نہ ہو گا‘ یہ بات اگر مان بھی لی جائے کہ نواز شریف کی سیاست کادور ختم ہو چکا ہے تو اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ انکی بیٹی مریم نواز پر سیاست میں واپسی کے تمام دروزے بندنہیں کئے جا سکتے‘ نون لیگ ابھی تک نامساعد حالات کے باوجود متحد ہے اور اسے طویل عرصے تک راندۂ درگاہ بنا کر نہیں رکھا جا سکتا‘ مریم نواز جلد یا بدیر بینظیر بھٹو کی طرح پاکستان کے سیاسی افق پر دوبارہ طلوع ہوں گی اور انہیں پنجاب کے علاوہ باقی تینوں صوبوں میں بھی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جائیگا‘اسکی وجہ پاکستانی عوام کا پختہ سیاسی شعور اور اپنے دگر گوں حالات کامعروضی ادراک ہے۔

اسرائیل کے انتخابات کا ایک قابل ذکر پہلو یہ بھی ہے کہ یورپی اور امریکی تجزیہ نگاروں کی اکثریت اس انتخابی مقابلے کوNeck and Neck کہہ ر ہی تھی نیتن یاہوکے مد مقابل سابقہ آرمی چیف Benny Gantz کی نئی سیاسی جماعت بلیو اینڈ وائٹ ( اسرائیلی جھنڈے کے رنگ)میں اسکے سربراہ کے علاوہ دو دوسرے آرمی چیف بھی شامل تھے اسرائیلیوں کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ ایک ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود چاروں طرف سے عرب ممالک میں گھری ہوئی ایک خوفزدہ قوم ہے بالکل ایسی کہ جیسے پاکستان ہے دونوں ممالک میں ایک دوسری قدر مشترک انکا مذہبی ریاستیں ہونا ہیں‘ دونوں نے دو ابراہیمی مذاہب کی حفاظت کا گرانقدر بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھایا ہوا ہے‘ اسرائیل کے کندھے تو خاصے مضبوط اور توانا ہیں جبکہ پاکستان کو اس فریضے کے ادائیگی کی ایک بھاری قیمت ادا کرنا پڑرہی ہے‘ اس میں حیرانگی کی بات یہ ہے کہ عرب ممالک تو بڑے زورو شور کیساتھ گلوبل ویسٹرن کلچر کا حصہ بننے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں اور پاکستان کو انہوں نے دوڈھائی ارب ڈالر سالانہ کے عوض انتہا پسندی کا قلعہ بنایا ہوا ہے‘ بات یہ بھی غلط نہیں کہ بندوق کندھا پیش کرنے والے ہی کو دی جاتی ہے اسے زبردستی کسی کے حوالے نہیں کیا جاتا۔

یہاں ذکر بنجامن نیتن یاہو کا ہو رہا ہے اس نے اپنی ابتدائی اور اعلیٰ تعلیم امریکہ ہی میں حاصل کی ہے اسے امریکی یہودی پیار سے بی بی کہتے ہیں اور اسرائیل میں اسکے چاہنے والے اسے بڑے رسان سے Bibi, King of Israel کے نام سے پکارتے ہیں اس کے بارے میں یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ وہ صرف فلسطینیوں ہی کا نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کا سب سے بڑااور خطرناک دشمن ہے امریکہ میں ہمیشہ اسکی آؤ بھگت بڑے دھوم دھام سے ہوتی ہے‘ واشنگٹن کی بااثر یہودی تنظیم AIPACہر وقت اسکے استقبال کیلئے تیار رہتی ہے یہودی میڈیا کے کیمرے چوبیس گھنٹے اسکے ہوٹل میں موجود رہتے ہیں‘یہ وہ شخص ہے جس نے فلسطینیوں پراتنے مظالم ڈھائے ہیں جو ایریل شیرون سمیت کسی اسرائیلی وزیر اعظم نے نہیں ڈھائے‘ نیتن یاہو مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے نصف صدی سے زیر غور Two State Solution کا مخالف ہے اور ویسٹ بینک کو اسرائیل کا حصہ بنا کر دو ریاستی تجویز کو ہمیشہ کیلئے ختم کرنا چاہتا ہے امریکی یہودی اسلئے دو ریاستی تجویز کے حق میں ہیں کہ وہ یہ نہیں چاہتے کہ اس صیہونی ریاست کو سابقہ جنوبی افریقہ کی طرح ایکApartheid State یعنی نسل پرست ریاست کہا جائے‘ امریکی یہودی اپنے خوابوں کی سرزمین کو ایک قابل فخر جمہوری ملک بنانا چاہتے ہیں۔

بنجامن نیتن یاہو انکے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے واشنگٹن کا لبرل میڈیا صدر ٹرمپ کی نیتن یاہو کیلئے بے پناہ حمایت کی وجہ سے اسکی دو سالوں سے کھل کر مخالفت کر رہا ہے اسرائیل کا بائیں بازو کامیڈیا بھی قدامت پسند LIKUD جماعت کے وزیر اعظم کے چوتھی مرتبہ منتخب ہونے کیخلاف تھا اسکے باوجود نیتن یاہو نے یہ معرکہ کیسے سر کر لیا اسکا جواب یروشلم کے ایک بڑے اخبار Haaretz نے ان لفظوں میں دیا ہے " People are saying we have got a guy in politics for 40 years, we know him, the world knows him, even our enemies know him یعنی لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ شخص چالیس سال سے سیاست میں ہے‘ ہم اسے جانتے ہیں‘ دنیا اسے جانتی ہے اور ہمارے دشمن بھی اسے جانتے ہیں ‘ Haaretzنے لکھا ہے کہ نیتن یاہو کے دور میں اسرائیل نے اقتصادی طور پر ترقی کی ہے اسوقت اسے اقتدار سے ہٹانا ایک ایسا رسک ہے جسے اسرائیلی عوام نے لینے سے انکار کر دیاہے یہ وہ تمام خوبیاں ہیں جو نواز شریف میں بھی موجود ہیں مگر ایک تو وہ دل یزداں میں کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے ‘ دوسرا اسکے ملک میں غیبی طاقتیں اتنی طاقتور ہیں جسکا تصور بھی کسی جمہوری ملک میں نہیں کیا جا سکتا اور تیسرا یہ کہ وہ نیتن یاہو کی طرح قسمت کا دھنی نہیں شاید انہی کے بارے میں احمد فراز نے کہا ہے
ضبط لازم ہے مگر دکھ ہے قیامت کا فراز
ظالم اب کے بھی نہ روئے گا تو مر جائے گا