706

حیات آباد دہشت گردوں کا ٹارگٹ کون تھا ؟ راز فاش

پشاور۔حیات آباد فیز سیون آپریشن میں مارے گئے دہشتگردوں کا ٹارگٹ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کی اہم لیڈر شپ تھی بارود سے بھری موٹر سائیکل اور خودکش حملہ آور سخت سکیورٹی انتظامات کی بناء پر ٹارگٹ پرنہیں پہنچا اور پھر حساس اداروں کی رپورٹ پر آپریشن کرکے دہشتگردوں کو ٹھکانے لگایا ۔آپریشن میں ایک دہشتگرد کو زخمی حالت میں گرفتار کرنیکا انکشاف ہوا ہے جس نے دوران تفتیش اہم رازاگل دےئے آپریشن 17گھنٹوں پرمحیط رہا جس میں اے آئی ایس اور آرمی جوان شہید جبکہ 5 دہشتگرد مارے گئے۔

اس ضمن میں گزشتہ روز سی سی پی او پشاور قاضی جمیل الرحمان اور ڈی آئی جی محکمہ انسداد دہشتگردی ( سی ٹی ڈی )غفور آفریدی و ایس ایس پی آپریشنز ظہور بابر آفریدی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایاکہ حیات آباد میں ہونیوالے واقعہ کی اب تک کی تفتیش میں انکشاف ہوا کہ مارے جانے والے دہشت گردوں کا تعلق ایک منظم گروہ سے تھا جو سال 2017 میں حیات آباد میں ہونے والے متعدد دہشت گردی کے واقعات میں ملوث تھے۔

دوران تفتیش اور دہشتگردوں کے ٹھکانے سے ملنے والے بارودی مواد ، اسلحہ، موبائل فون، ڈرون کیمروں، خودکش جیکٹ تیار کرنے کا سامان اور دہشت گردوں کے موبائل میںآڈیو کے ساتھ ساتھ زخمی گرفتار دہشتگرد کے بیانات سے سامنے آیا ہے کہ دہشت گردایک اہم ٹارگٹ کو نشانہ بنانا چاہتے تھے اور ان کے ٹارگٹ پر حکمران جماعت تحریک انصاف کی اہم لیڈر شپ تھی لیکن سخت سکیورٹی انتظامات کی بناء پر وہ اپنے ٹارگٹ تک نہ پہنچ سکے۔

سی سی پی او نے بتایاکہ دہشت گردوں نے جعلی کاغذات کے ذریعے مکان حاصل کیا تھا جبکہ اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کی خاطر دہشت گردوں نے خودکش حملہ آور(عمران افغانی) اور آئی ڈی ای تیار کر رکھی تھی تاہم پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں نے دہشت گردوں کو اپنے مذموم مقاصد میں کامیا ب نہ ہونے دیا۔

انہوں نے بتایاکہ انٹیلی جنس ادارے اور پولیس گزشتہ وقوعوں سے ملنے والی شواہد کی روشنی میں دہشتگردوں کے اس گروہ پر سال 2017 سے کام کر رہے تھے جبکہ آپریشن کے روز مصدقہ اطلاع ملنے پر پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے اہلکاروں کے دہشت گردوں کے ٹھکانے پر چھاپہ مار کر ان کو گرفتار کر نے کی کوشش کی جس کے دوران دہشتگردوں کی فائرنگ سے 2 سکیورٹی اہلکار(اے ایس آئی قمر عالم اور آرمی کے لانس نائک ظفر اقبال) شہید ہوئے ، جبکہ سکیورٹی فورسز کی جوابی فائرنگ سے5دہشت گرد ہلاک ہوئے جن کی شناخت امجد علی عرف اجمل ولد مغل باز، طارق عثمان عرف حاجی ولد ارسلا خان، مراد عرف ظہور ولد خان اکبر، فیروز شاہ عرف گلاب شاہ ولد وارث خان اور عمران افغانی عرف قاری صاحب کے ناموں سے ہوئی ہے جن میں عمران افغانی کا تعلق ننگر ہار سے ہے،اسی طرح آپریشن کے دوران ایک دہشت گرد سعیدعرف بابو ولد ارسلا خان کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا ہے ۔