189

لیکن میں نے انکار کر دیا

نیپال میں بھی گائے اگرچہ زراعت کےلئے کھیتوں میں کام میں لائی جاتی ہے لیکن اس کا ذبح کرنا اور اس کا گوشت کھانا ممنوع ہے‘ بھیڑ اور بکرے کا گوشت یہاں پر کھایا جاتاہے‘ غریب لوگوں کا کھانا دال، بھات اور ترکاری ہے اور دن میں صرف دو دفعہ ہی کھایا جاتاہے‘ شہروں میں البتہ ہوٹل یا ریستوران میں کھانے کا رواج ہے‘ نیپال میں ایک بات بڑی حیران کن دیکھنے میں ;200;ئی کہ دوسروں کا کھانا اور پینے کا مشروب چھونا ممنوع ہے‘ ہاتھ اور چمچ دونوں ہی طریقوں سے کھانا کھایا جاتا ہے‘ کھانے کے اوپر پاءوں رکھنے کوبہت برا تصور کیا جاتا ہے‘ نہ کسی کواپنی پلیٹ میں کھانا دینے کی کوشش کی جاتی ہے اور نہ ہی کسی اور کی پلیٹ میں کھانا دینے کی کوشش کی جاتی ہے اور نہ ہی کسی کی پلیٹ میں کھانا کھایا جاتا ہے‘ یہاں کا مون سون جون سے ستمبر تک جاری رہتاہے‘ شمالی علاقے انتہائی ٹھنڈے ہیں ‘ یہاں کے سپاہی یا فوجی گور کھا کہلاتے ہیں ‘ انگریز کی حکومت کے زمانوں میں برصغیر میں ایک بری پلاٹون گورکھا فوجیوں پر بھی مشتمل تھی جو بڑے بہادر تھے‘ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ جب پشاور میں قصہ خوانی بازار میں 24 اپریل 1930ء کو پشاور کے لوگوں کا قتل عام کیاگیا تو گورکھا فوج کے سپاہیوں نے بے بس عوام پر گولی چلانے سے انکار کر دیا تھا جس کے نتیجے میں ان پر مقدمہ چلا تھا اور ان کو قید کی سزا سنائی گئی تھی‘ اس لحاظ سے گورکھا فوج قابل تحسین ہے کہ انہوں نے انگریزوں کے جبرکے سامنے ہمت نہیں ہاری‘ نیپال سے کسی بھی چیز کو پاءوں سے چھونا جرم ہے ۔

شہر میں امن تھا‘ اخبارات جرائم سے پاک تھے‘ ہم بڑی ;200;زادی سے گھومتے پھرتے تھے‘ دنیا کے کسی بھی دارالخلافے میں رہ لیں غربت نظرنہیں ;200;تی‘ کھٹمنڈو کا بھی حال ایسا ہی تھا‘ ہوٹل تھے، گھر اچھے تھے، بادشاہ کے محلات والا حصہ تھا‘ جہاں سیکورٹی سخت تھی‘ ماءونٹ ایورسٹ کے علاوہ یہاں یونیسکو کی طرف سے اعلان کردہ کچھ شہر دنیا کے ثقافتی ورثے میں شمارکئے جاتے ہیں ان میں ایک مشہور زمانہ بختاپورہے‘ ہماری کورس ڈائریکٹرنے بختاپور کو دیکھنے کیلئے انتظامات کر رکھے تھے‘ بختاپور کامطلب ہے‘ place of devotees یا وہ جگہ جو خوش قسمت ہے اور قربانی دینے والوں کی اماجگاہ ہے کھٹمنڈو سے صرف13 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے‘ 15 ویں صدی میں بختا پور نیپال کا دارالخلافہ تھا‘ ہم پوری کلاس بختا پور کے دربار سکوائر میں موجود تھے جوثقافتی ورثے کا اک اہم مقام شمارہوتا ہے‘ یہاں ایک ایسی قسم کادہی بنایا جاتاہے جو دنیا میں بنائے جانے والے وہی سے مختلف ہے‘ اگرچہ میں نے یہ دہی نہیں کھایا لیکن سنا ضرور ہے‘ یہ مندروں کا شہر ہے‘ مجھے ہر طرف چھوٹے بڑے مندر کثرت سے نظر ;200;ئے‘ سنا ہے ہندوستان کی مشہور فلم ’’سیون شیون سندرم‘‘ اسی شہر میں بنائی گئی تھی کیوں کہ تالابوں اور مندروں کی بہتات سے یہاں ہندوءوں کے ثقافتی اورروایتی میلے منعقد کئے جاتے ہیں ‘ یہاں کے لوگ خاص کالے رنگ کی گورکھ ٹوپی پہنتے ہیں ‘ میں نے یہ ٹوپی بختارپور سے خریدی‘ دربار چوک کے کتنے ہی مندروں کو ہم نے باہر سے دیکھا کچھ میں ہم اندر بھی گئے ۔

ان مندروں کے نام مختلف دیویوں اور دیوتاءوں کے نام پر رکھے گئے تھے‘ لارڈ شیوا، دتاتریا، شنگو نریان اور اس طرح کے بے شمار نام تھے‘ مندر اتنے خوبصورت اور اتنے زیادہ تھے کہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کسی زمانے میں یہ عبادت اور ثقافت کا گڑھ ہوگا‘ مندروں کی کھڑکیاں بے شمار ہیں اور یہ اپنی خوبصورت طرز تعمیر اور کھڑکیوں کی بڑی تعداد سے پہچانے جاتے ہیں اگرچہ تمام کھڑکیاں بند تھیں ان پر کاریگری سے کام کیا ہوا تھا‘ 2015ء میں ;200;نے والے ایک زلزلے میں بختاپور کے 716 ثقافتی ورثے تباہ ہوگئے تھے‘ 1934ء میں بھی ایک شدید زلزلے کی وجہ سے بیشتر عمارتیں زمین بوس ہوئی تھیں جو دوبارہ نہیں بن سکی تھیں ‘ دربارسکوائر میں نہایت ہی غریب لوگ اپنے ہاتھ کی بنائی ہوئی اشیاء زمین پر بیٹھ کر بیچ رہے تھے‘ ان اشیاء میں موتیوں کی مالائیں اور کین کے بنے ہوئے جوتے تھے‘ غریب ممالک کے دیہاتوں میں رہنے والے لوگوں کے پاس نہایت ہی ہنرمندی ہوتی ہے اگر حکومتیں چاہیں تو ان کو مختلف ;200;ئیڈیازفراہم کرکے نہایت جدید طریقوں کی اشیاء بنو اکر مارکیٹ میں فروخت کی جاسکتی ہیں ‘ پاکستان میں لکڑی کڑھائی چمڑے مٹی ماربل کی اشیاء سے دیہاتوں کے بازار بھرے پڑے ہیں لیکن یہ وہ اشیاء ہیں جن میں تخلیقی صلاحیتوں کے ڈیزائنوں کا فقدان ہے‘ یہی حال نیپال کے ہنرمندوں کا بھی ہے‘ شاید ہم کسی ورکنگ ڈے میں بختاپور میں موجود تھے کیونکہ سیاح نہ ہونے کے برابر تھے‘ مندروں کی ایک لمبی گلی میں ایک مندر کے سامنے گوشت بک رہا تھا اور لوگ خرید کر اندر مندر میں داخل ہورہے تھے‘ پتہ چلا کہ یہ کالی دیوی کا مندر ہے اور یہاں چڑھاوے کے طورپر گوشت لے جایا جاتا ہے‘ دروازے کے باہر ایک پجاری بیٹھا ہوا تھا‘ اس نے بتادیا کہ مسلمانوں کے علاوہ ہر کوئی اس مندر کے اندر جاسکتا ہے‘ ۔

میری کلاس میں زیاہ تر لوگ ہندو اور بدھسٹ یا عیسائی تھے‘ ایک میں الحمد اللہ مسلمان تھی‘ میری دوستوں نے مجھے مشورہ دیا کہ تم ماتھے پر ٹیکہ لگالو اور اندر ہمارے ساتھ چلو‘ لیکن میں نے انکار کردیا‘ میں مندر کے باہر اکیلی اتنی دیرکھڑی رہی جتنی دیر میری تمام کلاس واپس نہیں ;200;گئی‘‘ بہرحال ہم سارا دن گزارنے کے بعد واپس اپنے ہوٹل ;200;گئے‘ ہمارا کورس اختتام پذیرہوچکاتھا اور اب صرف اختتامی تقریب میں ہ میں سرٹیفیکیٹ ملنا باقی تھے‘ ہوٹل کے ہی ایک نسبتاً وسیع ہال میں یہ تقریب منعقد ہوئی‘ اپنی کلاس کی طرف سے شکر ہے کہ ;200;خری کلمات کہنے کیلئے اور کورس کی افادیت بیان کرنے کیلئے مجھے منتخب کیاگیاتھا‘ ہمارا انسٹرکڑ جو ملائشیا سے تعلق رکھتا تھا وہ مسلمان تھا‘ جب کہ مائل کورے ہماری دوسری انسٹرکٹر سری لنکا سے تعلق رکھتی تھی اور بدھست تھیں ‘ ۔

اختتامی تقریب میں نیپال گورنمنٹ کی طرف سے انفارمیشن منسٹری کے سینئر لوگ شامل تھے‘ ہمارے انسٹرکٹر عبدالعزیز صاحب نے کورس کے مقاصد اور افادیت پر روشنی الی‘ اس میں حیرت کی بات یہ تھی کہ 99% ہندوءوں اور بدھسٹوں میں ہم صرف دو لوگ مسلمان تھے ‘ بہرحال یہ تقریب تمام شرکائے کورس کو سرٹیفیکیٹ کی تقسیم پر ختم ہوگئی اور اپنی اپنی فلاءٹس کے اعتبار سے لوگ ;200;گے پیچھے ہوائی اڈے کی طرف روانہ ہوگئے‘ نیپال سے جو جہاز پی ;200;ئی اے کا اڑا اس میں شاید میں واحد مسافر تھی‘ ہوسکتا ہے کوئی اور بھی ہو‘ میں نے نہیں دیکھا‘ یہ فلاءٹ دن کے وقت تھی کیوں کہ شام کا اندھیر ہوتے ہی فلاءٹ ;200;پریشن بند کر دیاجاتا تھا اور اگربادل بارش یا موسم ابر ;200;لود ہو تب بھی فلاءٹس کینسل ہوجاتی تھیں ‘ یہ اچھا ہے کہ میری فلاءٹ کے دن موسم صاف تھا اور میں کراچی ائیر پورٹ پر بحفاظت پہنچ گئی بعد ازاں ایک اور فلاءٹ کے ذریعے اسلام ;200;باد پہنچ گئی‘ جہاں میرے بچے میرے انتظار میں کھڑے تھے ۔