1248

قیامت کی پیش گوئی

اس ویک اینڈ پر بہانہ توسوات میں کانفرنس کا تھا لیکن میںنے بیگم کو ساتھ لے کر اسے ایک لمبی پکنک کی شکل دے دی'چنانچہ خراماں خراماں گھر سے ایک دن قبل ہی نکل پڑے۔ موٹروے سے چارسدہ انٹر چینج پر اترے اور غنی خان روڈ کی خوبصورتی کی داد دیتے ہوئے چلتے گئے۔رستے میں رجڑ کی مٹھائی کی دکان پرنظر پڑی تو رک گئے اور اندر جھانکا۔ مٹھائی تھی لیکن تھوڑی سی تھی۔میں نے دو کلو مانگی تو دکاندار کہنے لگا کہ شاےد دو کلو نہ بن سکے۔ بہرحال ڈیڑھ کلو پیک کرلی۔ میں نے پوچھا کیوں سب بک گیا؟ تو کہنے لگا جی نہیں آج ہڑتال ہے۔ پتہ چلا کہ کوئی زبردست خاتون افسر آئی ہوئی ہیں اور ناجائز تجاوزات پر کسی طور بھی نہیں مان رہی ہیں ۔ دھڑا دھڑ سب رستے کھولتی جارہی ہےں۔ اس سے قبل مردان میں ریلوے ٹریک بھی ایک خاتون افسر نے کسی دباؤ میں آئے بغیر سارا خالی کرالیا تھا۔ میں نے ہاتھ اٹھا کر شکر ادا کیا کہ پشتو کے محاورے کے مطابق اب 'نر' خواتین افسر آگئی ہیں۔ خدایا شُکر کہ مردوں سے تو نہ ہوسکا'اب تو ہی ان دلیر خواتین کی لاج رکھنا۔

دو تین دانے مٹھائی کے منہ میں ڈالے'تھرماس سے چائے کے گھونٹ لئے اور چل سو چل ' چارسدہ کے دیہات میں سے ہوتے ' گانے سنتے'لطائف کہتے اور ہنستے ہوئے چلتے گئے'ہر طرف بہار پھوٹے پڑ رہی تھی'لہلہاتی فصلیں' جھومتے درخت' تاحد نگاہ ہریالی'سڑک بھی کافی اچھی' یا شاےد ہمارے اندر کی بہار باہر آئی ہوتی تھی۔ کسی نے پیچھے سے ہارن دیا تو ہٹ کر رستہ دے دیا۔ کسی جگہ رش ہوا تو آرام سے انتظار کرنے لگے۔ تاہم کہیں بھی ایک آدھ منٹ سے زائد نہیں پھنسے۔ تخت بھائی سے ہوتے ہوئے سفر جاری رکھا۔ یہاں پہلے بہت رش ہوا کرتی تھی لیکن اگرچہ سڑک پر کام بھی ہورہا تھا' پر ٹریفک رواں دواں تھی۔ جگہ جگہ ٹریفک وارڈن نہاےت خوش اخلاقی سے گاڑیوں کو ترتیب میں رکھنے میں کامیاب ثابت ہورہے تھے۔ ملاکنڈ کی کھلی لیکن سانپ کی طرح بل کھاتی ہوئی سڑک پر نظارہ ہی کچھ اور تھا۔ لگتا تھا جنت بروئے زمین نکل آئے۔ بھاری بھاری ٹرک جن کو گیئر بدلنے میں کافی طاقت لگانی پڑتی ہے'اُلٹا ہمیں رستہ دے رہے تھے۔ 

بٹ خیلہ کا بازار کبھی ایشیا کا سب سے لمبا بازار ہوا کرتا تھا اور اس سے نکلنا کم از کم پون گھنٹے سے کم میں ممکن نہ ہوتا تھا۔ ہم مکھن میں سے گرم چھری کی طرح نکل آئے۔مینگورہ پہنچے تو وہاں کی تنگ سڑکوں پر باقاعدہ لین لگے ہوئے تھے۔ ہر چوک پر دو تین ٹریفک وارڈن کھڑے ٹریفک کنٹرول کر رہے تھے۔ اخلاق ایسے کہ تمام ڈرائیور مسکراکر احکامات مان رہے تھے۔ وہ رکشے اور موٹر سائیکل والے بھی ایک ہاتھ کے اشارے سے ساکت ہوجاتے تھے۔ 
کانفرنس میں شرکت ایک الگ پُر مسرت موقع تھا۔ دنیا بھر سے گردے کے امراض کے ماہرین آئے ہوئے تھے۔ ہمارے اپنے ملکی ماہرین بھی کچھ کم نہیں تھے اور جو پیش کررہے تھے' مہمان ماہرین بھی داد دینے پر مجبور ہورہے تھے۔ ایک پروفیسر نے تو کھڑے ہوکر کہا کہ آپ جو کچھ کررہے ہیں' اس سے خدارا دنیا کو آگاہ کردیجئے۔ یہ کام پوری دنیا کو فائدہ دے گا۔ کانفرنس جہانزیب'ودودیہ ہال میں تھی جو والئی سوات نے نصف صدی قبل ہی بنا لیا تھا اور ایسے ہال کہیں اکیسویں صدی میں پاکستان کے دوسرے شہروں میں بننے شروع ہوئے۔ کانفرنس سے نکلے تو مینگورہ کے باہر فطرت کے نظاروں سے آنکھوں کو سینکا۔ 

واپسی پر رستہ تھوڑا سا مختلف لیا۔ مردان میں نعیم کے پاس ٹیکی لینی تھی۔ چنانچہ انہیں فون کیا کہ چھ بجے کے آس پاس پہنچ جائیں گے۔ یا حیرت' پانچ بجے اس کے گھر کے باہر ہارن بجا رہے تھے۔ یعنی سفر کا پتہ ہی نہیں چلا۔ گوگل نے جو وقت دیا تھا اس سے بھی بہت پہلے پہنچ گئے۔ نعیم پکا شکاری ہے اور باز اور شاہین ' شکاری کتوں سے لے کر بندوقوں اور اسلحے سے لیس ہے۔ اس کے بازوں کو گوشت کھلایا' نشانہ بازی کی اور مغرب کے بعد روانہ ہوئے۔ پشاور میں موٹر وے سے اترے تو قصداً جی ٹی روڈ پر نکلے اور صدر سے ہوتے ہوئے' کہیں آئس کریم اور کہیں سے ونڈو شاپنگ کرتے ہوئے گھر پہنچے تو یہ سارا وقت ڈیڑھ گھنٹہ لگا تھا۔ جی ہاں 'بی آر ٹی کے باوجود۔
اس تمام ویک اینڈ میں ہم نے نہ اخبار کی شکل دیکھی اور نہ کوئی ٹی وی چینل کھولا۔ سوشل میڈیا پر بھی محض پیغامات کے جواب ہی دیتے رہے۔ تاہم اگلی صبح اخبار آیا تو گویا بم پھٹ گیا۔ معلوم ہوا کہ ملک تو تباہ ہوگیا ہے۔ حکومت بیٹھ گئی ہے۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے بس دو تین دن میں ملک پر قبضہ کر ہی لینا ہے۔ خزانہ بالکل خالی ہے اور آج ہوا کہ کل' کسی کے پاس نہ پیسہ رہے گا اور نہ ہی کھانے کو کچھ ملے گا۔ ٹی وی کا بٹن غلطی سے دب گیا تو چینلوں پر ماہرین کی چیخم دھاڑ سے معلوم ہوا کہ ملک پر حملہ ہوگیا ہے۔ ایک دوست نے لکھا کہ فلاں پاکستانی نے کرپشن کے پیسوں سے آسٹریلیا میں آٹھ ارب ڈالر سے زمین خریدی ہے' میں نے جواب دیا مغالطہ ہوا ہوگا۔ آٹھ ارب ڈالر بہت بڑی رقم ہوتی ہے۔ کوئی حوالہ ہو تو عناےت کریں۔ جواب میں یونان اور ارسطو کی کہانیاں ملیں۔ 

میں نے سر پکڑ لیا اور فوراً ٹی وی پر بی بی سی لگادی۔ اخبار پرے پھینک دیا۔ ایک خوبصورت ویک اینڈ کا ستیا ناس کردیا۔ ہمارا میڈیا ماشاء اللہ ذہنی مریض ہے اور مسلسل پوری قوم کو ذہنی کوفت میں مبتلا کئے جارہا ہے۔ ہر ٹھیلے والے سے معاشیات پر آراء لی جارہی ہیں۔ جن کو انگریزی کے سپیلنگ نہیں آتے وہ ہیلتھ کیئر پر خطبے دے رہے ہیں۔ ان کو انگریزی میں قیامت کے پیش گو (Doomsday sayers) کہا جاتا ہے' خوش قسمتی سے یا غیر ترقی یافتہ ہونے کی وجہ سے ہماری معیشت نوے فیصد پردے کے پیچھے ہے۔ اسکا کوئی ریکارڈ ہی نہیں۔ دنیا ادھر سے ادھر ہوجائے ' ہماری معیشت پر بین الاقوامی حالات سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ دو ہزار آٹھ میں پوری دنیا کی سٹاک مارکیٹےں بیٹھ گئےں۔ تمام امیر ممالک دیوالیہ ہونے کے قریب تھے۔ انیس سو تیس کے بعد پہلی مرتبہ ایسی کساد بازاری آئی کہ بڑے بڑے بینک بند ہوگئے'معاشی ادارے دیوالیہ ہوگئے' مجال ہے جو پاکستان میں کبھی بینکوں پر پیسے نکلوانے کا بھی رش بنا ۔ ڈالر کے بڑھنے پر آپ کو کسی دکان پر گاہکوں میں کمی دیکھنے میں آئی؟ صدر کی رونق میں کچھ فرق محسوس ہوا؟ شبِ برات پر لائٹیں ماند پڑیں؟ شادی ہال آسانی سے بُک ہواجاتے ہیں۔ سوات سے واپسی پر درگئی کے قریب چیک پوسٹ پر گاڑیاں رکیں تو ہم نے چار باراتےں گنےں۔ ہاں رمضان آنے والا ہے ' تاجروں کیلئے برکت کا مہینہ ہے' ڈالر ایک روپے تک بھی آگیا تو ان کی قیمتیں چارگناہوں گی۔