207

مہمل تاریخ اور پورس کے ہاتھی

ولیم فورڈ کا تاریخ کے بارے میں ایک ایسا فقرہ ہے جو اسکی کاروں سے کہیں بڑھ کر مشہور ہوا ہے۔ یعنی’ہسٹری از اے بَنک‘ جسکا ترجمہ تو یہی ہو سکتا ہے کہ تاریخ ایک مہمل شے ہے‘ بکواس ہے‘ لیکن ’بَنک‘ ایک ایسا لفظ ہے جسکا کچھ بھی ترجمہ کیا جا سکتا ہے‘ یعنی تاریخ بیہودہ ہے‘لایعنی ہے‘ پتہ نہیں کیا ہے‘ جھوٹ کتنا ہے اور اس میں سچ کتنے فیصد ہے وغیرہ ‘ہر شخص اپنے مکالمے اور ذہنی افتاد کے مطابق ’بَنک‘کو پرکھتا ہے‘میں نے اپنے کسی ناول میں تجزیہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ایک وہ تاریخ ہوتی ہے جو ہم کتابوں اور نصابوں میں پڑھتے ہیں اور اسکا تعین کر لیتے ہیں اور جب ہمارے سامنے تاریخ کا ایک ایسا چہرہ آ جاتا ہے جو سراسر مختلف ہوتاہے توہم اسکا سامنا کرنے سے اجتناب کرتے ہیں اور ہمارے تمام تاریخی عقیدے منتشر ہونے لگتے ہیں۔ تاریخ عام طور پر زور آوروں اور صاحبان اقتدار کی گود میں بیٹھ کر لکھی جاتی ہے۔ اور اپنے عقیدے اور نظریے کے دفاع میں تحریر کی جاتی ہے‘ یہ ممکن ہی نہیں کہ اکبر اعظم کے درباری کی تحریر کردہ تاریخ میں کہیں بھی اکبر کی کوئی خامی بیان کی گئی ہو اس کی کسی شکست کا تذکرہ ہو۔ تو پھر اصل تاریخ کو کیسے دریافت کیا جا سکتا ہے اس کےلئے وسیع مطالعہ شرط اول ہے‘ ایک غیر جانبدار ذہن‘ عقیدے اور قومیت سے بلند ہو کر کھوج کرنے کی ذہنی صلاحیت اور ایک باضمیرایمانداری کے بغیر آپ تاریخ کی روح تک نہیں پہنچ سکتے‘دنیا بھر کی قومیں اپنی بقا اور سربلندی کےلئے تاریخ گھڑتی ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ شیوا جی ایک مکار اور فریبی شخص تھا اور اس میں کچھ شک نہیں لیکن ہندوستان اپنی ہندواتا‘ کہہ لیجیے کہ ہندو آتما کو سربلند کرنے کےلئے اس شیوا جی کو اپنا سب سے بڑا ہیرو قرار دیتا ہے۔

 اسکے مجسموں کی پرستش کی جاتی ہے یہاں تک کہ تاج محل کو بھی ایک ہندو مندر ثابت کرنے کی کوشش کی گئی‘ابھی پچھلے دنوں ہندوستان نے اپنی جنگی تاریخ میں درج کیا کہ انکی ’سرجیکل سٹرائیک‘ سے بالا کوٹ میں ساڑھے تین سو ’دہشت گرد‘ ہلاک کر دیئے گئے‘ ابھی اس تاریخ کی سیاہی خشک نہ ہوئی تھی کہ انکی وزیر خارجہ نے اقرار کر لیا کہ نہیں بالا کوٹ میں ایک شخص بھی ہلاک نہیں ہوا تو پھر ایک مہمل شے نہیں تو اور کیا ہے۔ ہم اپنے گریباں میں بھی تو جھانک سکتے ہیں کہ ٹیپو سلطان کی مدد کےلئے صرف مرہٹے پہنچے اور مسلمانان حیدر آباد دکن نے انگریزوں کا ساتھ دیا۔چلئے اتنی تفصیل میں جانا ممکن نہیں‘ ہم صرف سکندر اعظم اور پورس کی جنگ کے حوالے سے تاریخ کو پرکھتے ہیں اور یہ تاریخ سکندر اعظم کے ہمراہ آنے والے مشہور تاریخ دانوں نے قلمبند کی‘انہوںنے سکندر کی شکست کو فتح میں بدل دیا لیکن ان حقائق کو نہ بدل سکے جنہیں آج بھی جھٹلایا نہیں جا سکتا اور ہاں ہم نے آنکھیں بند کر کے یونانیوں کی تاریخ کو تسلیم کرلیاکہ پورس کو شکست ہوئی تھی‘ پورس کا مطلب ہے راجپوت ‘ یہ کوئی نام نہیں ہے۔ یوں اس عہد میں جتنے بھی راجپوت مہاراجے تھے وہ سب پورس کہلاتے تھے‘سکندر کے مقابلے پر اترنے والے پورس کا نام کیا تھا‘ تاریخ اس بارے میں خاموش ہے‘ بہر طور وہ ایک پنجابی حکمران تھا‘اتنا دراز قامت تھا کہ ہاتھی پر بیٹھنے کےلئے اسے سیڑھی کی ضرورت نہ ہوتی تھی۔ جیسے گھوڑے پر سوار ہوا جاتا ہے ایسے پورس ہاتھی پر سوار ہوتا تھا اسکی شکست کا ایک جواز جس پر ہم فوراً ایمان لے آتے ہیں وہ یوں بیان ہوا یعنی یونانی تاریخ دانوں نے بیان کیا کہ پورس بے شمار ہاتھیوں کےساتھ سکندر کے مقابلے میں آیا‘جنگ شروع ہوئی تو تیروں کی بوچھاڑ سے ہراساں ہو کر اسکے ہاتھی بھاگ نکلے اور پورس کی سپاہ کو روند ڈالا‘کیا کوئی بھی ذی فہم شخص جو ان زمانوں کی جنگوں کا ادراک رکھتا ہو‘ اس بیہودہ جواز پر یقین رکھ سکتا ہے‘ پورس کے پاس جنگوں میں آزمودہ تجربہ کار ہاتھی تھے۔

 جنہیں جنگ کے دوران تیر کھانے اور زخمی ہونے کی عادت تھی‘ یہ کوئی چڑیا گھر سے لائے ہوئے پالتو ہاتھی نہیں تھے کہ زخموں سے ہراساں ہو کر بھاگ اٹھتے۔ برصغیر میں ہونےوالی جنگوں میں ہاتھی آرمرڈ کور کی مانند ان زمانوں کے ٹینک ہوتے تھے‘ محمود غزنوی کو ہم نے تراش خراش کر کے صرف بت شکن تک محدود کر دیا اور یہ بھول گئے کہ وہ اس عہد کا سب سے ذہین ترین جنگی چالوں کا ماہر سلطان تھا۔ اسے معلوم تھا کہ وہ ہاتھیوں کے بغیر ہندوستان پر حملہ آور ہو کر کامیاب نہیں ہو سکتا چنانچہ اس نے ہندوستان سے بے شمار ہاتھی اور ان کے نگہبان درآمد کئے۔ کابل کی سردی ان ہاتھیوں کو راس نہ آئی اور ان میں سے بیشتر ہلاک ہو گئے۔ تب محمود غزنوی نے ہرات کے قریب ایک ایسا مقام انتخاب کیا جہاں آب و ہوا ایک دشت کی قربت کی وجہ سے ایسی تھی جہاں ہاتھی آرامدہ محسوس کرتے تھے گرمی تقریباً ہندوستان کی سطح پر تھی۔ محمود نے ایک پورا شہر صرف ہاتھیوں کی پرورش کے لئے تعمیر کیا جس کے کھنڈر آج بھی موجود ہیں۔ چنانچہ محمود غزنوی جب ہندوستان پر حملہ آور ہوتا تھا تو ہاتھیوں کی ایک فوج ظفر موج بھی اس کی سپاہ کے ساتھ میدان جنگ میں داخل ہوتی تھی‘مشہور تاریخ دان ایڈورڈ گبن نے اپنی شہرہ آفاق تاریخ ”ڈکلائن اینڈ فال آف رومن ایمپائر“میں لکھا ہے کہ محمود آف غزنی ایسا فاتح تاریخ نے نہیں دیکھا۔ وہ ہر برس اپنی سپاہ اور ہزاروں ہاتھیوں سمیت کوہ ہندو کش عبورکر کے ہندوستان پر حملہ آور ہوتا تھا۔ ہمیشہ فتح یاب ہوتا تھا اور بے شمار مال و دولت سے اپنا خزانہ بھر کرواپس انہی ہندوکش کے برف پوش پہاڑوں کو پار کر کے غزنی چلا جاتا تھا۔ یورپ میں جب چند ہاتھیوں کےساتھ ہنی بال نے کم اونچائی کے کوہ پیراینز عبور کر کے روم پر حملہ کیا تھا تو ہم اسے آج تک ایک عظیم کارنامہ گردانتے ہیں جب کہ محمود ہر برس ہزاروں ہاتھیوں کےساتھ پیرانیز سے کہیں بلند اور برف پوش ہندوکش پار کر کے ہندوستان میں اتر جاتا تھا۔

 ایڈورڈ گبن نے آخر میں محمود کو ان الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ہے۔ ”میرے نزدیک غزنی کا محمود مقدونیہ کے سکندر سے کہیں عظیم تر فاتح تھا“آپ کو فلم ’مغل اعظم‘ کا وہ جنگی منظر یاد ہو گا جب ہاتھی پر سوار اکبر اعظم اپنی گرجدار آواز میں حکم دیتا ہے کہ۔یلغار ہو۔ اور سینکڑوں ہاتھیوں کی یلغار ہو جاتی ہے‘ ہندوستان میں لڑی جانےوالی بیشتر جنگوں میں ہاتھی ایک دیوار کی مانند دشمن کی جانب چنگھاڑتے ہوئے بڑھتے تھے۔ چنانچہ نہ تو محمود غزنوی ‘ نہ اکبر اعظم اور نہ ہی کسی راجپوت راجے کی فوج میں شامل ہاتھی تیروں وغیرہ سے پریشان ہو کر پھٹ پڑے اور اپنی فوج کو ہی روند کررکھ دیا‘ تو حضور کیا یہ صرف پورس کے ہاتھی اتنے ڈرپوک اور ناتجربہ کار تھے کہ خوفزدہ ہو کر بھاگ نکلے۔ ہرگز نہیں‘ صرف سکندر اعظم کو فاتح ثابت کرنے کیلئے اسکے تاریخ دانوں نے یہ جواز گھڑا تھا اور ہم وہ طوطے ہیں جو اس پر یقین کر کے اب تک ٹیں ٹیں کر رہے ہیں‘یہاں تک کہ ہم نے سکندر اعظم کی فتح کی ایک شاندار یادگار بھی یونان کے تعاون سے دریائے چناب کے کناروں پر تعمیر کر رکھی ہے‘ ہم نے اس سرزمین کے فرزند پورس کی شجاعت کو فراموش کر دیا اور ایک غیر ملکی گورے حملہ آور صاحب کو اپنا ہیرو بنا لیا ۔ سکندر اعظم اور پورس کے درمیان معرکے میں سکندر اعظم کو شکست فاش ہوئی تھی اور میں اس کے کچھ ناقابل تردید ثبوت پیش کرنا چاہوں گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔