164

معیشت اور توانائی بحران

وزیر اعظم عمران خان آج مہمند ڈیم کا سنگ بنیاد رکھیں گے سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار بھی ان کے ہمراہ ہوں گے ڈیم کی تعمیر پر اخراجات کا تخمینہ 183ارب روپے بتایا جا رہا ہے ¾مہیا تفصیلات کے مطابق خیبر پختونخوا میں دریائے سوات پر بنائے جانے والے ڈیم میں12ایم اے ایف پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے جبکہ اس سے 800میگاواٹ بجلی بھی حاصل کی جائے گی وطن عزیز کو درپیش اقتصادی صورتحال اور توانائی کے بڑے بحران میں ڈیم کی تعمیر بعداز خرابی بسیار سہی ایک اچھا اقدام ضرور ہے تاہم ابھی مزید بہت کچھ کرنے کی گنجائش باقی ہے‘ وفاقی کابینہ ملک کو درپیش اقتصادی منظر نامے میں گزشتہ روز بجلی کے نرخوں میں مزید اضافے کا فیصلہ صرف مو¿خر کر چکی ہے جبکہ 1300ارب روپے کے وہ گردشی قرضے کہ جن کا آڈٹ کرانے کا کہاگیا ہے خودبخود صورتحال کی عکاسی کر رہے ہیں‘ حکومت سی پیک سمیت ملک میں صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے متعدد اقدامات اٹھا رہی ہے ان اقدامات کے نتیجے میں بیرونی قرضوں کا حجم کم کرنے کی کوشش نظر آتی ضرور ہے تاہم فی الوقت تو پرانے قرضوں کا اصل زر اور سود ادا کرنے کے لئے نئے قرضے لئے جا رہے ہیں ملک میں سرمایہ کاری لانے کے لئے معاہدے کئے ضرورجا رہے ہیں تاہم صنعت اور کاروبار کے لئے پہلے ایک اچھے ماحول کی ضرورت ہے۔

 جس میںامن و امان کےساتھ سیاسی استحکام بھی ناگزیر ہے جبکہ ملک کا سیاسی ماحول آئے دن گرماگرمی ہی دکھاتا رہتا ہے‘ دوسری جانب توانائی بحران ایک حقیقت ہے جس سے صرف نظر ممکن نہیں اس بحران سے نمٹنے کے لئے محکمانہ سطح پر جہاں کنکریٹ اصلاحات کی ضرورت ہے تو دوسری جانب سستی بجلی کے حصول کے لئے آبی ذخائر میں اضافے کی‘ جہاں تک بڑے آبی ذخائر کا تعلق ہے تو ان کے لئے فیصلہ سیاسی اتفاق رائے سے ممکن ہے خیبر پختونخوا میں اس وقت بھی ہائیڈرو پاور پر کم خرچ آ رہا ہے عالمی اداروں کی ڈیمانڈ پر قرضے کی فراہمی کے لئے گیس پٹرولیم مصنوعات کے نرخ تواتر کے ساتھ بڑھتے چلے جا رہے ہیں جن کا اثر بجلی کی پیداوار ی لاگت پر بھی مرتب ہوتا ہے جبکہ یوٹیلٹی بل پہلے ہی غریب اور متوسط شہریوں کی کمر توڑ رہا ہے کیا ہی بہتر ہو کہ معیشت کی بحالی کے لئے کاوشوں میں توانائی بحران کے خاتمے کے لئے دیگر اقدامات کے ساتھ آبی ذخائر پر سنجیدہ کوششیں کی جائیں ۔

ٹریفک پلان ¾ وزیر اعلیٰ کی ہدایت

وزیر اعلیٰ محمود خان نے پشاور اور ایبٹ آباد کے لئے ٹریفک مینجمنٹ پلان بنانے کی ہدایت کی ہے‘ وزیر اعلیٰ نے صوبائی دارالحکومت میں ٹرانسپورٹ اڈے کو جلد چمکنی منتقل کرنے کا بھی کہا ہے قابل اطمینان ہے کہ وزیر اعلیٰ خود ٹریفک کے مسئلے کی سنگینی کا احساس رکھتے ہیں ‘ان کی ہدایات کا ثمر آور ہونا عملدرآمد کےلئے ٹائم فریم اور عملی اقدامات سے جڑا ہوا ہے اس حقیقت کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے کہ ٹریفک کے نظام میں بہتری کےلئے اقدامات کسی ایک دفتر تک محدود نہیں رکھے جاسکتے تجاوزات کےساتھ تہہ بازاری کا خاتمہ ¾سڑکوں اور لنک روڈز کی حالت میں بہتری اور پبلک ٹرانسپورٹ کے روٹس کا تعین سٹیک ہولڈرز کے باہمی رابطے کا متقاضی ہوتا ہے ضرورت ٹریفک انجینئرنگ کی مہارت سے بھی فائدہ اٹھانے کی ہے اس سب کےلئے اوور سائٹ اتھارٹی کا انتظام بھی ناگزیر ہے۔